پنجاب میں سیاسی جوڑ توڑ، نون لیگ خاموش کیوں؟

ملک میں سیاسی ہلچل تو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)  کی حکومت تبدیل ہونے کے بعد سے جاری تھی لیکن نو مئی کے جلاؤ گھیراؤ کے واقعات کے بعد اس میں تیزی آئی ہے اور پی ٹی آئی کے اراکین مختلف سیاسی جماعتوں میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں، لیکن مسلم لیگ ن کے دروازے ان منحرفین کے لیے بند اور جماعت خاموش دکھائی دیتی ہے۔پی ٹی آئی کے سابق اراکین اسمبلی کا جوق در جوق پارٹی چھوڑنے کا سلسلہ جب سے شروع ہوا ہے، اس وقت سے سیاسی قائدین کافی متحرک دکھائی دے رہے ہیں اور سب سے زیادہ توجہ پنجاب پر مرکوز ہے۔پیپلزپارٹی ہو، مسلم لیگ ق یا جہانگیر ترین گروپ سب ہی پی ٹی آئی چھوڑنے والوں کو ساتھ ملانے کی کوشش کر رہے ہیں۔اس کے علاوہ پی ٹی آئی چھوڑنے والوں کی جانب سے بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ آپس میں مل کر الگ دھڑا بنائیں گے۔

جیسے جیسے وفاقی حکومت کی آئینی مدت ختم ہونے کا وقت قریب آ رہا ہے، پنجاب میں سیاسی جماعتیں خود کو زیادہ سے زیادہ مضبوط بنانے کے لیے جوڑ توڑ کر رہی ہیں۔پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری بھی کئی دن سے لاہور میں موجود ہیں اور صوبہ پنجاب کے مختلف شہروں سے روزانہ کی بنیاد پر سیاسی شمولیتوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔مسلم لیگ ق کی قیادت بھی سیاسی رہنماؤں کو اپنی طرف مائل کرنے کے لیے کوشاں ہے، جہانگیر ترین بھی پی ٹی آئی چھوڑنے والوں کے منتظر دکھائی دیتے ہیں اور اسی بنیاد پر نئی پارٹی بنا کر سیاسی میدان میں اترنے کا تاثر دے رہے ہیں۔اس ساری صورت حال میں مسلم لیگ ن خاموش دکھائی دے رہی ہے۔ ن لیگی رہنماؤں نے تو یہاں تک دعویٰ کیا ہے کہ ان کے پاس پی ٹی آئی چھوڑنے والوں کی جگہ نہیں، ان کے اپنے امیدوار پورے ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق بے شک سیاسی ہوا پنجاب میں سب سے تیز چل رہی ہے اور صورت حال ابھی واضح نہیں لیکن ابھی تک ن لیگ کو نقصان ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔

پنجاب میں سب سے زیادہ سیاسی جوڑ توڑ پیپلز پارٹی، ترین گروپ اور مسلم لیگ ق کے درمیان ہو رہا ہے۔ تینوں پر امید ہیں کہ پی ٹی آئی چھوڑنے والے سب سے زیادہ ان ہی کے ساتھ شامل ہو رہے ہیں اور مزید بھی ہوں گے۔پیپلز پارٹی سینٹرل پنجاب کے جنرل سیکریٹری حسن مرتضیٰ کے بقول: ’اس وقت کئی سابق اراکین صوبائی و قومی اسمبلی پی پی پی میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں اور کئی رابطے میں ہیں۔‘ انہوں نے مزیدکہا: ’ہمارا فوکس ویسے تو پورا پنجاب ہے لیکن زیادہ توجہ جنوبی پنجاب کی طرف دے رہے ہیں۔ سینٹرل پنجاب کے ساتھ جنوبی پنجاب کے لوگوں کی شمولیت بھی جاری ہے جن میں زیادہ تر لوگ پی ٹی آئی کے سابق اراکین یا ٹکٹ ہولڈرز ہیں۔‘

ق لیگ کے چیف آرگنائزر چوہدری محمد سرور کے مطابق: ’کافی لوگ ہم سے رابطے کر رہے ہیں، ملاقاتیں بھی ہورہی ہیں اور شمولیتیں بھی ہو رہی ہیں۔ جلد ہی پنجاب سے بڑے نام ق لیگ میں شامل ہوں گے۔‘انہوں نے مزید کہا کہ ’چوہدری شجاعت کی قیادت پر پنجاب کے سیاست دانوں کو بھرپور اعتماد ہے اس لیے وہ ہمارے ساتھ مل کر سیاست کرنا چاہتے ہیں، کئی لوگوں سے ہم نے رابطے کیے جبکہ بہت لوگ ہم سے رابطے کر رہے ہیں تاہم بات چیت جاری ہے، پھر شمولیتوں کا باقاعدہ اعلان ہوگا۔‘

2018 کے انتخابات میں پی ٹی آئی کی فتح کے محرک سمجھے جانے والے جہانگیر ترین بھی جنوبی پنجاب میں رابطے کر رہے ہیں۔ توقع ہے کہ ان کی زیر قیادت سیاسی گروپ عنقریب ایک سیاسی جماعت بن ابھرے گا۔جہانگیر ترین گروپ کے رہنما اجمل چیمہ کا کہنا ہے کہ ’ہم نے کافی ورکنگ مکمل کر لی ہے، مشاورت کا عمل آخری مراحل میں ہے بہت لوگ شامل ہونا چاہتے ہیں اور کئی ہو بھی چکے ہیں۔ نئی جماعت بنانے کے حوالے سے بھی مشاورت ہوچکی ہے، جلد پارٹی کا نام بھی فائنل ہوجائے گا پھر باقائدہ اعلان کریں گے۔‘دوسری جانب تحریک انصاف کے سابق رہنما فواد چوہدری اور ہاشم ڈوگر بھی بیان دے چکے ہیں کہ وہ پی ٹی آئی چھوڑنے والوں کا الگ گروپ بنا کر آزاد الیکشن لڑنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ تاہم اس دعوی پر عمل درآمد ابھی تک دکھائی نہیں دیا۔

مسلم لیگ ن کی جانب سے ابھی تک کوئی سیاسی ہلچل سامنے نہیں آئی جس کی کوئی خاص وجہ بھی نہیں بتائی جا رہی۔اس معاملے پر پارٹی رہنما احسن اقبال نے ایک بیان میں کہا کہ ’ن لیگ پنجاب میں کسی امیدوار کو شامل کرنے کی پوزیشن میں نہیں کیونکہ ن لیگ کے پاس ہر حلقے میں ایک سے زیادہ امیدوار موجود ہیں۔‘مسلم لیگ ن کے رہنما آصف کرمانی کے مطابق: ’پارٹی پالیسی کا تو اندازہ نہیں البتہ ان کی ذاتی رائے میں ن لیگ کو پی ٹی آئی چھوڑنے والے کسی سابق رکن کو شامل نہ کیا جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پنجاب کے حالیہ ضمنی انتخاب میں پی ٹی آئی کے 20 منحرف اراکین کو ٹکٹ دیے تو ہمارے ووٹرز نے انہیں تسلیم نہیں کیا اسی لیے وہ ہار گئے لہذا ہمیں اپنے امیدوار میدان میں اتارنے چاہییں۔‘انہوں نے کہا کہ ’ن لیگ کے پاس کئی کئی سالوں سے پارٹی کے ساتھ وفاداری نبھانے اور قربانیاں دینے والے امیدوار موجود ہیں جو کامیابی کے لیے بہترین چوائس ہیں۔‘

سیاسی تجزیہ کار سلیم بخاری کے بقول: ’مسلم لیگ ن پنجاب میں اپنے امیدواروں کو چھوڑ کر نئے امیدواروں کو ٹکٹ دینے کا خطرہ اب نہیں لے گی کیونکہ اب ان کی پوزیشن بھی پہلے سے بہتر ہے اور مد قابل تحریک انصاف بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکی ہے۔‘سلیم بخاری کا مزید کہنا ہے کہا کہ ’تحریک انصاف میں ٹوٹ پھوٹ کے بعد ایک تاثر دیا جا رہا ہے کہ شاید ملک میں کوئی کنگز پارٹی بنائی جارہی ہے۔ یہ تاثر جہانگیر ترین اور علیم خان کی قیادت میں ان کے گروپ کی جانب سے دیا جا رہا ہے۔‘سلیم بخاری کے بقول: ’ملک میں یا پنجاب میں نہ تو کنگز پارٹی کی کوئی گنجائش دکھائی دیتی ہے اور نہ ہی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے اقتدار میں ہوتے ہوئے یہ ممکن ہے، کیوں کہ کنگز پارٹیاں ماضی میں بھی ہمیشہ مارشل لا یا ایمرجنسی نافذ کرنے کی صورت میں فوجی قیادتوں کی جانب سے عارضی پارلیمانی نظام چلانے کے لیے بنائی گئیں، لہذا اب نہ تو ایسی کوئی صورت حال ہے اور نہ اس کی ضرورت پیش آنے کا امکان ہے۔‘انہوں نے کہا کہ ’دوسری بات یہ ہے کہ جہانگیر ترین اور علیم خان کو پی ٹی آئی کے دور اقتدار میں تنگ کر کے اور ان کے خلاف کارروائی کر کے نظر انداز کیا گیا، لہذا وہ کوئی گروپ یا پارٹی اپنے طور پر بنا کر الیکشن میں آتے بھی ہیں تو پی ٹی آئی کے ووٹرز کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکیں گے۔

تجزیہ کار حسن عسکری کے مطابق ’ملک میں اس وقت کنگز پارٹی کی گنجائش نظر نہیں آرہی البتہ سیاسی گروپ ضرور جنم لے رہے ہیں ان کا وجود بھی بڑی پارٹیوں کے ساتھ انتخابی مہم کے دوران معلوم ہوگا کتنا موثر ہے۔‘صوبے کے سابق نگران وزیراعلیٰ حسن عسکری کے بقول: ’جس طرح تحریک انصاف کو سیاسی میدان سے باہر کرنے کوشش کی جا رہی ہے اور ان کے اہم رہنما بھی پارٹی چھوڑ رہے ہیں۔ اس سے مخالف سیاسی جماعتوں کا ان کے لوگوں کو ساتھ ملانے کی کوشش کرنا فطری ہے۔ لیکن ایسی صورت حال میں حتمی طور پر کسی کی کامیابی یا ناکامی کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔’تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی کو پہلے ووٹ عمران خان کے نام پر پڑا لیکن اب دیکھنا ہوگا کہ ان امیدواروں کو کسی اور پلیٹ فارم سے بھی کامیابی ملتی ہے یا نہیں۔

سلیم بخاری کے مطابق: ’ابھی تک پنجاب میں ن لیگ اور پی ٹی آئی میں ہی مقابلہ تھا لیکن اب تحریک انصاف کو جس طرح کی مشکلات کا سامنا ہے اس سے لگتا ہے کہ شاید ان کے لیے سیاست کرنا ممکن نہ رہے اور جس کے نام پر پارٹی بنی یعنی عمران خان انہیں بھی سنگین مقدمات کا سامنا ہے۔’لہذا اس سے کوئی کتنا فائدہ اٹھا سکتا ہے یہ منظر نامہ ابھی واضح نہیں لیکن ایک بات ضرور ہے کہ پنجاب کو ن لیگ کا گڑھ مانا جاتا ہے اور اگر نواز شریف واپس آتے ہیں تو پنجاب میں ن لیگ مزید مضبوط ہوجائے گی، باقی صرف نمبر یا دوسری پوزیشن کے رول کا ہی مقابلہ بچے گا۔‘

Back to top button