پنجاب پولیس نے شکایات کیلئے واٹس ایپ سروس متعارف کروا دی

پنجاب پولیس نے جدت کو اپناتے ہوئے شہریوں کی شکایات کے اندراج کے لیے واٹس ایپ سروس کا آغاز کر دیا ہے، جس کا ایک مقصد پولیس کا عوام میں اپنے امیج کو بہتر بنانا ہے، آئی جی پنجاب فیصل شاہکار نے واٹس ایپ سروس کا افتتاح کیا۔
اس واٹس ایپ سروس سے صارفین 15 قسم کی سروسز لے سکیں گے جن کے لیے پہلے پولیس سٹیشن کا وزٹ کرنا ضروری ہوتا تھا، اس نئی سروس میں پنجاب کا کوئی بھی شہری 03317871787 پر ہیلو یا سلام کا میسج بھیجے گا تو اُسی وقت اس کی رہنمائی کے لیے تمام 15 سروسز کا مینیو آ جائے گا جس میں ایف آئی آر کے لیے درخواست، خواتین کی ہراسیت، زینب الرٹ، بیرون ملک پاکستانیوں کی شکایات اور سائبر کرائم سمیت کوئی بھی شکایت درج کروائی جا سکے گی۔
اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے آئی جی پنجاب فیصل شاہکار نے بتایا کہ پولیس بہت پہلے سے سسٹم کو آٹومیشن اور ٹیکنالوجی پر منتقل کر رہی ہے جس سے سروس ڈیلیوری کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ پہلے لوگوں کو یہ تمام سروسز پنجاب پولیس کی مختلف موبائل ایپلیکیشنز پر دستیاب تھیں، بہت سے لوگ ایپلیکیشنز کے استعمال سے کتراتے تھے، اس لیے ہم نے سوچا کہ اس سارے نظام کو واٹس ایپ پر بھی منتقل کر دیا جائے جہاں بہت ہی سادہ طریقے سے آپ پولیس سے متعلق اپنا کام کروا سکتے ہیں۔
اس نئے نظام میں درخواست گزار کی جانب سے شکایت کے درج ہوتے ہی اس کو ٹکٹ نمبر جاری ہو جائے گا اور پولیس مانیٹرنگ سسٹم سے اس کو اس کی شکایت پر ہونے والی کارروائی سے بھی آگاہ کیا جائے گا تاہم ایف آئی آر کے اندراج کے لیے ابھی بھی شکایت کنندہ کو پولیس سٹیشن جانا ہوگا البتہ وہ اپنے کیس سے متعلق مراحل کے حوالے سے معلومات فون پر حاصل کرتا رہے گا۔
پنجاب پولیس آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ احسن یونس نے بتایا کہ شکایت درج کروانا یا ای ٹیگ حاصل کرنا، اسی طرح پولیس سہولت مراکز میں دی جانے والی خدمات کو واٹس ایپ پر لایا گیا ہے، اس کے آگے قانونی مدارج وہی ہیں جو کریمنل پروسیجر کوڈ میں درج ہیں۔
آپ یوں سمجھئے کہ اب آپ کو فرنٹ ڈیسک یا پولیس کے ای سہولت مرکز جانے کی ضرورت نہیں۔ ابتدائی شکایت آپ کی واٹس ایپ پر لے کر آپ کو ٹکٹ نمبر جاری ہو گا، اس کے بعد پولیس خود آپ سے رابطے میں آ جائے گی اور باقی کا قانونی عمل مکمل ہو گا۔
پنجاب پولیس کے مطابق پہلے ہی روز وٹس ایپ سروس کے اجرا کے بعد چھ ہزار افراد نے پولیس سے رابطہ کیا ہے، ان میں سے کئی نے شکایات کے اندراج اور کئی افراد نے صرف معلومات کے حصول کے لیے رابطہ کیا تھا۔

Back to top button