پولیس حراست میں شخص کی ہلاکت پر تحقیقات کا حکم

ڈپٹی کمشنر محمد حمزہ شفقات نے کچھ دن قبل پولیس حراست میں ہونے والی ایک شخص کی ہلاکت کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔
محمد حمزہ شفقات سے رابطہ کرنے پر انہوں نے بتایا کہ انہوں نے سب ڈویژنل مجسٹریٹ کو ایک ماہ کے اندر تحقیقات کرکے اس کی رپورٹ ان کے دفتر میں جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔ پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ اس شخص کو غیر قانونی اسلحہ رکھنے پر 6 نومبر کو گرفتار کیا گیا تھا جبکہ دوران تفتیش اس شخص نے 9 اکتوبر ایک ڈکیتی کی واردات میں میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا تھا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ ملزم کو اس وقت جائے وقوع سے گرفتار کیا گیا جب اس نے فرار ہونے کی غرض سے ایف-10/3 میں ایک چلتی کار سے چھلانگ لگائی تھی۔ جس کے نتیجے میں اسے کافی چوٹیں آئی تھیں اور اور وہ بیہوش ہوگیا تھا، بعد ازاں اسے ہسپتال لے جایا جارہا تھا کہ وہ دم توڑ گیا۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ 6 نومبر کو رات 9 بج کر 15 منٹ پر اس شخص کو مردہ حالت میں پمز ہسپتال لایا گیا تھا جبکہ اگلے دن لاش کا پوسٹ مارٹم کیا گیا تھا، تاہم جب پوسٹ مارٹم کیا گیا اور پولیس ہسپتال سے لاش لے کر گئی تب متوفی کے گھر کا کوئی رکن موجود نہیں تھا۔ پولیس میں موجود ذرائع نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم میں جسم پر چوٹ کے نشانات ملے اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق جسم پر 10 زخم موجود تھے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کھوپڑی اندر سے زخمی اور پھٹی ہوئی پائی گئی جبکہ دماغ میں بھی مختلف چوٹیں نظر آئیں۔ ذرائع نے بتایا کہ بائیں آنکھ کی بائیں جانب چوٹ اور رگڑ کے نشاتات تھے جو بائیں بازو پر اور دائیں بازو کے پچھلے حصے پر بھی دیکھے جاسکتے تھے، مزید یہ کہ گھٹنے اور ٹخنے کے بائیں ٹانگ کے اگلے حصے پر زخم اور رگڑ تھی جبکہ گھٹنے اور ٹخنے کے درمیان دائیں ٹانگ کے گلے حصے پر رگڑ کے نشانات تھے۔ بائیں تلوے اور دائیں پنجے سمیت دائیں اور بائیں کولہوں پر بھی زخموں کے نشان پائے گئے۔ ادھر پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنس (پمز) ہسپتال کے سابق میڈیکو لیگل آفیسر ڈاکٹر وسیم خواجہ نے ڈان کو بتایا کہ پولیس کے تشدد کے معاملے میں عموماً زخم کولہوں، پاؤں کے تلووں اور ٹانگوں کے نچلے حصے کی اگلی طرف پر آتے ہیں، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ پولیس معلومات نکلوانے کے لیے چمڑے یا لکڑی سے بنے ہوئے کند ہتھیاروں کا استعمال کرتی ہے۔ خیال رہے کہ 2010 میں کیپیٹل پولیس نے تمام اسٹیشن ہاؤس آفیسرز (ایس ایچ اوز)، کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے انچارچز، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ اور اینٹی کار لفٹنگ سیل کے انچارجز سے یہ بیان حلفی لیا تھا کہ وہ حراست کے دوران ملزمان پر تشدد کا سہارا نہیں لیں گے۔ یہ اقدام درالحکومت پولیس نے سپریم کورٹ کی ہدایت پر لیا تھا۔ بیان حلفی میں کہا گیا تھا کہ حکام تفتیش کا بہانہ بناکر اپنا کوئی ذاتی یا خفیہ ٹارچر سیل (عقوبہ خانہ) نہیں چلائیں گے اور نہ تفتیش کے دوران کسی مشتبہ شخص کو تشدد کا نشانہ بنائیں گے۔ ادھر جب ڈپٹی انسپکٹر آف جنرل (آپریشنز) وقار الدین سید سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے پولیس کے انسپیکٹر جنرل (آئی جی پی) کی جانب سے کیس سے متعلق ہدایات کے حوالے سے لاعلمی کا اظہار کیا۔ جب انہیں بتایا گیا کہ انہیں انکوائری کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے تعینات کیا گیا اور ایک ہفتے میں رپورٹ میں آئی جی پی کے دفتر میں جمع کرانے کا کہا گیا ہے تو ڈی آئی جی کا کہنا تھا کہ وہ تفتیش کے اسٹیٹس کا جائزہ لیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button