پولیس عنبرین فاطمہ پر حملہ کرنے والوں کو پکڑنے میں ناکام

پاکستان میں صحافیوں پر پابندیاں اور سختیاں کوئی نئی بات نہیں ہین، حکومت کوئی بھی ہو، میڈیا اور صحافی ہمیشہ زیرعتاب رہتے ہی ہیں۔ حال ہی میں لاہور میں خاتون صحافی عنبرین فاطمہ پر نامعلوم افراد نے آہنی ہتھیار سے تب حملہ کر دیا جب وہ اپنے بچوں کے ساتھ گاڑی میں جا رہی تھیں، نامعلوم شخص ان کی گاڑی کی ونڈ سکرین توڑنے کے بعد جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتے ہوئے فرار ہوگیا۔ تاہم لاہور پولیس خاتون صحافی عنبرین فاطمہ پر حملہ کرنے والے ملزم کا کئی دن گزرنے کے باوجود بھی کوئی سراغ نہیں لگا سکی۔
عنبرین فاطمہ کا کہنا ہے کہ ابھی تک پولیس حکام ان سے سوالات کرنے میں مصروف ہیں، مجھ سے پوچھا جا رہا ہے کہ آپ رات کو گھر سے کیوں نکلیں؟ آپ نے یہی راستہ کیوں اختیار کیا؟ آپ بچوں کو ساتھ لے کر کیوں گئیں؟ انھوں نے کہا کہ اس وقت واک کے لیے جانا میرا روزانہ کا معمول ہے۔ اس رات بچوں کے ضد کرنے پر میں ان کو فورٹریس سٹیڈیم لے کر جا رہی تھی اور میں ہمیشہ اسی راستے سے گزرتی ہوں۔‘‘
روزنامہ نوائے وقت سے وابستہ عنبرین فاطمہ کے مطابق علاقے کے ایس پی پولیس گزشتہ رات ان کے گھر آئے اور کہا کہ وہ چار پانچ دن میں اس کیس کے بارے میں نتیجہ خیز پیش رفت کر لیں گے۔ یاد رہے 24 نومبر کو ایک نامعلوم شخص نے صحافی عنبرین فاطمہ کی گاڑی پر کسی آہنی چیز سے تین چار وار کیے تھے اور جان سے مار دینے کی دھمکیاں دیتے ہوئے فرار ہو گیا تھا۔ اس واقعے میں گاڑی کی سکرین ٹوٹی اور عنبرین فاطمہ کے ہاتھ پر شیشے کی کرچیاں لگنے کی وجہ سے معمولی زخم آئے تھے۔ بعدازاں رات گئے ان کی درخواست پر لاہور کینٹ کے علاقے غازی آباد کے تھانے میں ایک نامعلوم شخص کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی۔ پولیس نے اس مقدمے میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 506 اور 427 شامل کی ہیں۔
اس واقعے کے بعد عنبرین فاطمہ اور ان کے دونوں بچے شدید خوف کا شکار ہیں۔ عنبرین چاہتی ہیں کہ ان کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ دوسری جانب صحافتی برادری اور سیاسی رہنماؤں نے اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس کیس کی تفتیش سے وابستہ ایک سینیئر پولیس افسر نے بتایا کہ اس کیس کی ہر پہلو سے تفتیش کی جا رہی ہے۔ ان کے بقول اس گلی میں جہاں یہ واقعہ پیش آیا اس جگہ پر سرکاری کیمرے موجود نہیں ہیں، تاہم خاتون کے گھر والی گلی اور دیگر گلیوں کے کیمروں کی فوٹیج کی مدد سے تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
تفتیشی عمل میں لاہور کے سیف سٹی کی ایک ٹیم بھی شریک ہے تاہم ابھی تک کی تفتیش میں پولیس واقعے میں ملوث حملہ آور کے بارے میں شواہد حاصل نہیں کر سکی۔ اس پولیس افسر کے مطابق، ”ہمارے لیے یہ بات بھی حیران کن ہے کہ ایسا واقعہ ہونے کے بعد پولیس ہیلپ لائن ون فائیو پر رابطہ کیوں نہیں کیا گیا۔‘‘ عنبرین فاطمہ نے بتایا کہ اس واقعے سے کچھ روز پہلے ایک ویب سائیٹ پر دینی مدارس، کالعدم تنظیموں اور سابق چیف جسٹس کے حوالے سے قدرے سخت زبان میں کالم لکھے تھے جس پر بعض حلقوں کی طرف سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ناپسندیدگی پر مبنی سخت ردعمل آیا تھا۔ ان کے بقول اس واقعے میں ایسے عناصر بھی ملوث ہو سکتے ہیں۔
ممتاز تجزیہ نگار امتیاز عالم کا کہنا ہے کہ یہ ایک صحافی پر حملہ ہے: ”پاکستان میں صحافیوں کو اغوا کرنا، انہیں غائب کر دینا یا مار دینے کے واقعات ماضی میں بھی رونما ہوتے رہے ہیں اور بظاہر یہ حملہ بھی ایسے ہی واقعات کا تسلسل دکھائی دیتا ہے۔‘‘ اس سوال کے جواب میں کہ کیا صحافیوں کو بھی پروفیشنل حدود میں رہتے ہوئے سیاسی گروپوں کے ساتھ وابستگی ظاہر کرنی چاہئے؟ امتیاز عالم کا کہنا تھا، ”متاثرہ خاندان نہیں چاہتا کہ اس واقعے کو احمد نورانی کی آڈیو لیک کے ساتھ جوڑا جائے۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ ہر اسٹوری کا ایک سیاسی رخ ہوتا ہے۔ اگر احمد نورانی کوئی آڈیو کلپ سامنے لے کر آئے ہیں تو سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کو چاہئے کہ اس کا جواب دیں یا عدلیہ سے رجوع کریں لیکن سٹوری دینے والے کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنانا درست نہیں ہے۔‘‘
دفاعی تجزیہ نگار بریگیڈیئر (ر) فاروق حمید نے بتایا کہ ایک خاتون صحافی پر اس طرح کے حملے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ ان کے بقول اس طرح کے افسوسناک واقعے میں ملوث افراد کومنصفانہ تحقیقات کے ذریعے قانون کے کٹہرے میں ضرور لایا جانا چاہئے البتہ فاروق حمید کہتے ہیں کہ ایسے واقعات میں تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے ہی کوئی رائے قائم کرلینا مناسب نہیں ہے۔ انکا کہنا تھا کہ پاکستان میں سیاسی درجہ حرارت پہلے ہی بڑھا ہوا ہے، وکلا میں بھی ثاقب نثار کی والی آڈیو کے حوالے سے غصہ پایا جاتا ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ اس واقعے میں کون ملوث ہے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ملکی اداروں کو بدنام کرنے کے لیے کسی نے مذموم مقاصد کے لیے شرارت کی ہو۔‘‘
