پٹرول 6 روپے 30 پیسے فی لیٹر مزید مہنگا ہونے کا امکان

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 15 جنوری کو آئندہ دو ہفتوں کے لیے 6 روپے 30 پیسے فی لیٹر تک اضافے کا تخمینہ لگایا گیا، جس کی بنیادی وجہ تیل کی بین الاقوامی قیمتوں میں اضافہ ہے۔
باخبر ذرائع نے بتایا کہ موجودہ ٹیکس کی شرح، درآمدی برابری کی قیمت اور شرح تبادلہ کی بنیاد پر پیٹرول (گاڑیوں کا ایندھن) اور ہائی سپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی قیمتوں میں بالترتیب 5 روپے 30 پیسے اور 5 روپے 80 پیسے فی لیٹر اضافے کا اندازہ لگایا گیا۔
مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل آئل (ایل ڈی او) کی قیمتوں میں بھی بالترتیب 5 روپے 80 پیسے اور 6 روپے 30 پیسے فی لیٹر اضافے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
ایک عہدیدار نے بتایا کہ اگر حکومت عوام پر مہنگائی کا دباؤ کم کرنے کا فیصلہ کرتی ہے تو پیٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس کو قدرے کم کر سکتی ہے لیکن اس کا زیادہ تر انحصار آئی ایم ایف کیساتھ رابطوں پر ہوگا۔
حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ ہوئے مذاکرات کے حصے کے طور پر ہر پندرہ روز کی بنیاد پر پیٹرولیم لیوی اور جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) میں اضافہ کرتی ہے۔
ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو 4 روپے تک بڑھتا رہے گا جب تک کہ یہ زیادہ سے زیادہ 30 روپے فی لیٹر تک نہ پہنچ جائے اور پرائس کشن کے لحاظ سے ہر مہینے کی 15 تاریخ کو جی ایس ٹی ایڈجسٹمنٹ کی جائے گی۔
اس وقت حکومت پیٹرول پر تقریباً 35 روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر تقریباً 30 روپے 50 پیسے فی لیٹر ٹیکس وصول کر رہی ہے، ایک لیٹر پیٹرول پر عائد ٹیکسوں میں 17.13 روپے پیٹرولیم لیوی، 7.31 روپے (5.45 فیصد) جی ایس ٹی اور 10 روپے کسٹم ڈیوٹی شامل ہے۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 17.62 روپے پیٹرولیم لیوی، 3.53 روپے (2.5فیصد) جی ایس ٹی اور 9.26 روپے کسٹم ڈیوٹی شامل ہے یوں پیٹرول کی ایکس ڈپو قیمت، سیلز ٹیکس لاگو کرنے کے بعد حتمی قیمت، فی لیٹر 144.82 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی 141.62 روپے ہے۔
پیٹرول زیادہ تر پرائیویٹ ٹرانسپورٹ، چھوٹی گاڑیوں، رکشوں اور دو پہیوں کی سواری یعنی موٹرسائیکلز میں استعمال ہوتا ہے اور اس کا براہ راست اثر متوسط اور نچلے متوسط طبقے کے بجٹ پر پڑتا ہے جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت کو انتہائی مہنگائی سمجھا جاتا ہے۔
