پیپلزپارٹی فوج کے ساتھ ہے یا اسکے دباؤ میں ہے؟

عوامی سیاست کرنے کی دعویدار پیپلزپارٹی کے حالیہ پرو اسٹیبلشمینٹ طرز سیاست نے جہاں پی ڈی ایم کی اتحادی جماعتوں کو ناراض کیا ہے وہیں پیپلز پارٹی کے اندر سے بھی اس پالیسی کے خلاف آوازیں اٹھنا شروع ہوگئیں ہیں۔ حالیہ سینیٹ الیکشن سے پہلے اور بعد کی صورتحال میں پیپلز پارٹی کے اصولی سیاست چھوڑ کر پاور پولیٹیکس کرنے کے فیصلے کو پارٹی کے کئی سینئر رہنماؤں نے غلط قرار دیا لیکن اس کی مخالفت میں کوئی بھی کھل کر سامنے نہیں آیا۔ تاہم اب بلاول بھٹو کے ترجمان اور پیپلزپارٹی کے رہنما سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے کھل کر کہہ دیا ہے کہ پیپلزپارٹی کو گیلانی کے لیے باپ یعنی بلوچستان عوامی پارٹی سے ووٹ نہیں لینے چاہیے تھے، اس سے عوام میں غلط تائثر گیا ہے۔ پچھلے سال دسمبر میں بلاول بھٹو کے ترجمان کی حیثیت سے استعفی دے کر واپس لینے والے مصطفی کھوکھر کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت کے حالیہ فیصلوں سے عوام میں اچھا تاثر نہیں گیا اور یہ کہ عوامی سیاست کو پارو پالیٹکس پر ترجیح دینی چاہیئے۔

مصطفی نواز کھوکھر کا موقف اپنی جگہ، لیکن سیاسی تجزیہ کار بھی یہ سوال کر رہے ہیں کہ آخر قائد عوام کہلوانے والے بھٹو کی پیپلز پارٹی ایک ایسی جماعت کیوں بنتی جا رہی ہے جو سیاسی مفادات کے حصول کے لیے تمام اصولوں کو قربان کرنے کے لیے تیار ہوتی ہے؟ اس سوال کا جواب تو شاید آصف زرداری اور بلاول بھٹو کے پاس تو موجود ہو لیکن پیپلز پارٹی کے حمایتیوں کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں ہے۔ سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی نے پاور پالیٹیکس کے چکر میں اکیلے آگے بڑھنے کا جو فیصلہ کیا، اسے ساکھ کے بحران کی صورت میں اس کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑ سکتی ہے۔ سینیٹ انتخابات میں ہونے والی خرید و فروخت پر سامنے آنے والی خبروں اور پیپلز پارٹی کی جانب سے پی ڈی ایم سے راہیں جدا کرنے والی حرکتوں سے اب یہ سمجھا جارہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے طاقت کے حصول کے لیے اپنے اصول قربان کر دیے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں یہ درست ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلے کرتی ہیں، تاہم ایسا لگتا ہے کہ پیپلز پارٹی نے تمام تر سیاسی اخلاقیات کو نظر انداز کردیا جس کے بعد اسے ایک ایسی جماعت کے طور پر دیکھا جارہا ہے جو مفادات کی خاطر اپنی سیاسی ساکھ بھی داو پر لگانے کے لیے تیار ہو جاتی ہے؟

دوسری جانب یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ میں قائد حزب اختلاف بنائے جانے کے بعد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے اندر زبانی جنگ شدت اختیار کرتی جارہی ہے اور مسلم لیگ نواز اور جمعیت علما اسلام نے گیلانی کو اپوزیشن لیڈر تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اگرچہ مریم نواز اور بلاول بھٹو کے درمیان الزام تراشی زیادہ عرصہ نہیں چلی، لیکن سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کے چناو کے معاملے پر الزامات کا نیا دور شروع ہوگیا ہے۔ بلواسطہ ہونے والی گزشتہ تُو تُو، میں میں اب براہِ راست ہورہی ہے جسکے بعد اب اپوزیشن کی دو بڑی اتحادی جماعتوں نواز لیگ اور جے یو آئی نے سینیٹ میں اپنا قائد حزب اختلاف لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

پی ڈی ایم کی جماعتوں میں پہلے کی طرح اب بھی تنازع استعفوں کے معاملے پر ہی شروع ہوا۔ ابتدائی طور پر اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا فیصلہ گزشتہ سال دسمبر میں ہوا تھا، جسے پھر ملتوی کردیا گیا۔ لیکن چیئرمین سینیٹ کے انتخابات میں کامیابی نہ ملنے کے بعد جمعیت علمائے اسلام اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے استعفوں کو دوبارہ زیرِ بحث لایا گیا۔ ظاہری وجوہات کے باعث پیپلز پارٹی استعفوں کے حق میں نہیں تھی۔ معاملات اس وقت زیادہ خراب ہوئے جب پی ڈی ایم کے اجلاس میں آصف زرداری کی تقریر کو میڈیا پر لیک کردیا گیا جس میں انہوں نے نواز شریف سے وطن واپس آکر سیاسی جدوجہد کرنے کا مطالبہ کیا تھا جسکا مریم نواز نے سخت بڑا منایا۔ بہرحال اس وجہ سے سامنے آنے والے تنازع کو بڑھنے سے پہلے ہی سنبھال لیا گیا۔ لیکن اسی دوران پردے کے پیچھے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کی کرسی کے لیے رسہ کشی شروع ہوچکی تھی۔

کہا جاتا ہے کہ اگرچہ پیپلز پارٹی ابتدائی طور پر اس بات پر راضی تھی کہ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر مسلم لیگ (ن) کا ہوگا لیکن چیئرمین سینیٹ کی نشست ہارنے کے بعد پیپلز پارٹی کی نظریں اب سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر پر تھیں۔ پیپلز پارٹی سمجھتی تھی کہ یوں یوسف رضا گیلانی کی جیت کا تسلسل برقرار رہے گا۔ پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ (ن) کی جانب سے اپوزیشن لیڈر کے امیدوار اعظم تارڑ پر اعتراض کیا کہ وہ عدالت میں بینظیر بھٹو شہید کے قاتلوں کی نمائندگی کرتے رہے ہیں۔ تاہم اس مرتبہ مسلم لیگ (ن) پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں تھی۔ انہیں طے شدہ امور میں تبدیلی کی کوئی وجہ نظر نہیں آرہی تھی اور یوں جو تنازع ابھی پردے کے پیچھے محدود تھا وہ سامنے آگیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس دوران پیپلز پارٹی نے لندن میں بیٹھے مسلم لیگ (ن) کے نمائندوں سے بات کرنے کی کوشش بھی کی جو ناکام رہی۔ یوں پیپلز پارٹی نے اپنے راستے پر چلنے کا فیصلہ کیا اور باپ اور اسکی سب سے بڑی اولاد صادق سنجرانی کی مدد سے اپوزیشن لیڈر کا عہدہ حاصل کرلیا۔ یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ صادق سنجرانی نے گیلانی کو اپوزیشن لیڈر کا عہدہ اس شرط پر دیا کہ وہ اب ان کے خلاف اپنا کیس لے کر سپریم کورٹ میں نہیں جائیں گے۔

اس عمل کے بعد پی ڈی ایم کے اندر حالات کشیدہ ہوگئے تھے اور کئی تجزیہ کاروں نے اسے پی ڈی ایم کا اختتام قرار دیا تھا۔ یہ بات قابلِ غور ہے کہ بڑھتے ہوئے تناؤ کے باوجود سینئر سیاستدانوں یعنی نواز شریف اور آصف زرداری کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔ تو کیا ایسا جان بوجھ کر کیا گیا ہے؟ ہوسکتا ہے کہ ان کے خیال میں اس وقت بچوں کے درمیان جاری تناؤ سے خود کو علیحدہ رکھنا ہی بہتر ہو تاکہ وہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر پھر ساتھ مل سکیں۔ تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ پی ڈی ایم کو زندہ رکھنے سے ان دونوں جماعتوں کو ہی فائدہ ہوگا۔ اگر پیپلز پارٹی اس اتحاد سے الگ ہوتی ہے تو یہ ان آوازوں کو مزید جلا بخشے گی جن کے مطابق یہ اتحاد سیاست میں اکیلے رہ جانے والوں کا اتحاد ہے۔ پیپلز پارٹی کے بغیر مولانا فضل الرحمٰن اور نواز شریف کے لیے یہ تاثر ختم کرنا بھی مشکل ہوجائے گا کہ وہ صرف اس وجہ سے انقلابی بن گئے ہیں کہ انہیں اقتدار سے محروم کردیا گیا ہے، اور یہ بھی کہ یہ صرف مسلم لیگ (ن) کی جنگ ہے جس کی وجہ پنجاب ہے۔ یہاں استعفوں کا معاملہ بھی موجود ہے۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ استعفے دینے کا اعلان کرنا تو آسان ہے لیکن اس بات کو یقینی بنانا بہت مشکل ہے کہ جماعت کے تمام اراکین عملی طور پر استعفے جمع بھی کروائیں۔ پی ٹی آئی بھی 2014ء میں یہ سبق سیکھ چکی ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ اگر پیپلز پارٹی فوری طور پر استعفی دینے سے انکار نہ کرتی تو مولانا فضل الرحمن کے دباؤ کے تحت استعفوں پر آمادہ ہونے والی نواز لیگ بھی شاید یہی یہ موقف اپنایا لیتی کہ استعفے دینا کوئی قابلِ عمل راستہ نہیں ہے۔ لیکن اب جب کہ پیپلز پارٹی نے استعفے نہ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے تو مسلم لیگ (ن) اخلاقی برتری حاصل کرکے یہ کہہ سکتی ہے کہ اس نے بھی وسیع تر مفاد میں استعفوں کے معاملے کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔

دوسری جانب پیپلز پارٹی کو بھی اپوزیشن جماعتوں کی ضرورت ہے اور وہ اس بات کی متحمل نہیں ہو سکتی کہ اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی کا کھلم کھلا ساتھ دینے لگے۔ ایک طرف اسے سندھ حکومت کو بھی بچانا ہے اور دوسری جانب اسے احتساب کے کیسوں کا بھی سامنا ہے۔ ان دونوں کو ساتھ لے کر چلنے کے لیے پیپلز پارٹی کو بہت ہی محتاط انداز میں آگے بڑھنا ہوگا۔ پیپلز پارٹی کے سر سے ابھی احتساب کی تلوار اتری نہیں ہے، اور اس سے نمٹنے کا سب سے بہتر طریقہ یہی ہے کہ پیپلز پارٹی اپوزیشن اتحاد کا حصہ بنی رہے کیونکہ یہی اتحاد اتنا بڑا اور قومی نوعیت کا ہے جو حکومت اور نیب کو دباؤ میں رکھ سکتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں کہا جائے تو اگر اب بھی مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی اپنے اختلافات کو ایک طرف رکھ کر دیکھیں تو اس اتحاد سے ان دونوں جماعتوں کو ہی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ ایسا کرتے ہیں یا نہیں؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button