پیپلزپارٹی نے کراچی ضمنی الیکشن کا معرکہ کیسے سر کیا؟

پیپلز پارٹی نے غیر متوقع طور پر کراچی کے حلقہ این اے 149 کا بڑا معرکہ جیت کر نہ صرف تحریک انصاف کو سرپرائز دیا ہے بلکہ نواز لیگ کو بھی صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔ تاہم پیپلز پارٹی کی قیادت اپنے امیدوار کی جیت کو ایک اچھا شگون قرار دیتے ہوئے یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ کراچی کے عوام نے بارہ برس بعد یہ نشست ان کو لوٹا کر ان کی پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار کر دیا ہے۔
تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کی جیت کی بڑی وجہ میدان میں چھ بڑی جماعتوں کا ہونا تھا جس وجہ سے ووٹ تقسیم ہوا اور پیپلزپارٹی چند سو ووٹوں کے مارجن سے جیت گئی۔ تاہم جیت تو جیت ہی ہوتی ہے چاہے ایک ووٹ سے ہو۔ یاد رہے کہ کراچی کے اس ضمنی الیکشن میں تحریک انصاف کی خالی کردی سیٹ پر پی ٹی آئی کے علاوہ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نون، تحریک لبیک، ایم کیو ایم، اور پاک سر زمین پارٹی نے بھی حصہ لیا اور پیپلز پارٹی کے امیدوار قادر مندوخیل نے 16 ہزار 156 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کرلی ہے۔ کہا جارہا ہے کہ قادر مندوخیل کی جیت میں پی ٹی آئی کے مایوس ورکرز کی حکومت کے خلاف نفرت نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ ماضی میں پی پی پی کے جیالوں کی ایک بڑی تعداد پیپلز پارٹی چھوڑ کر تحریک انصاف میں شامل ہو گئی تھی جنہوں نے اس ضمنی الیکشن میں امجد آفریدی کے خلاف ووٹ ڈالا۔
دوسری جانب پیپلزپارٹی کی جیت نے مسلم لیگ نواز کو بھی حیران کر کے رکھ دیا ہے جس نے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے انہیں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم پیپلز پارٹی والوں کا کہنا ہے کہ اگر نواز لیگ پنجاب میں ڈسکہ کی نشست جیت سکتی ہے تو پیپلز پارٹی سندھ میں کراچی کی نشست کیوں نہیں جیت سکتی۔ نواز لیگ والوں کا کہنا ہے کہ اگر تحریک لبیک میدان میں موجود نہ ہوتی تو وہ یہ الیکشن صاف جیت گئے تھے۔ لیکن اس الیکشن کے نتیجے سے سب سے زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت عمران خان کو ہے کیونکہ یہ نشست ان کے قریبی ساتھی فیصل واوڈا نے خالی کی تھی اور اب تحریک انصاف کا امیدوار امجد آفریدی اس الیکشن میں چھٹے نمبر پر آیا ہے۔۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ کراچی کے عوام نے عمران خان کی جماعت کو فارغ کر دیا ہے۔ اس کا ایک بڑا ثبوت تب ملا جب الیکشن کے روز پی ٹی آئی امیدوار امجد آفریدی علاقے میں نکلا تو لوگوں نے اسے گھیر کر نہ صرف نعرے بازی کی بلکہ گالم گلوچ بھی کی۔ وجہ یہ کی کے 2018 کے الیکشن میں اس حلقے سے ممبر منتخب ہونے کے بعد فیصل واوڈا نے یہاں کا رخ ہی نہیں کیا۔ تاہم اس کے باوجود جب کپتان نے دیکھا کہ اسکا ارب پتی لاڈلا فیصل واوڈا جھوٹے بیان حلفی پر الیکشن کمیشن کے ہاتھوں نااہل ہونے جا رہا ہے تو اسں نے قومی اسمبلی کی سیٹ داؤ پر لگاتے ہوئے واوڈا کع سینیٹر منتخب کروا دیا اور یوں کراچی کی این اے 149 کی نشست پی ٹی آئی کے ہاتھ سے نکل کر پیپلزپارٹی کے ہاتھ میں چلی گئی۔ تاہم پھر بھی کسی آنی بلی کھمبا نوچے کے مصداق وفاقی وزیر فواد چوہدری اور علی زیدی دونوں نے اس الیکشن میں دھاندلی کا الزام لگایا ہے۔ لیکن وہ شاید بھول گئے کہ الیکشن والے دن دوپہر کے وقت ہی یہ بات زبان زد عام ہو چکی تھی کہ پی ٹی آئی فارغ ہو چکی ہے چونکہ اس کے تمام انتخابی کیمپ خالی پڑے تھے۔
دوسری جانب مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے بھی کراچی ضمنی الیکشن کے نتائج کو مسترد کرتے ہوئے ٹویٹ کیا ’مسلم لیگ ن سے صرف چند سو ووٹوں سے الیکش چوری ہوا ہے لہازا الیکشن کمیشن اس متنازع ترین الیکشن کےنتائج روکے، انہوں نے لکھا کہ مسلم لیگ ن بہت جلد دوبارہ واپس آئے گی۔ ووٹ کو عزت مل رہی ہے اور مل کر رہے گی‘۔ ’نواز شریف کے بیانیے کی گونج خیبر سے کراچی تک ہے۔ اس کی سیاست کو ختم کرنے اور کہنے والوں کو خبر ہو‘۔ اس سے پہلے ایک اور ٹویٹ میں مریم نواز نے
اپنے امیدوار کی کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے کہہ دیا تھا کہ میں ’کراچی اور خصوصا NA 249 کے عوام کی تہہ دل سے شکر گزار ہوں کہ انہوں نے نواز شریف اور مسلم لیگ ن کو ووٹ دیا اور مفتاح اسماعیل کو منتخب کیا۔ یہ ہم سب کے لیے ایک بہت اہم فتح ہے۔ عوام کے جاگنے کا بھی شکریہ۔‘ ’آپ کے ووٹ چوری کرنے والے جلد آپ کے کٹہرے میں کھڑے ہوں گے۔ یہ ہمارا آپ سے وعدہ ہے‘۔ تاہم سچ تو یہ ہے کہ مریم نے مفتاح اسماعیل کی جیت کا دعوی بہت جلدی کر دیا تھا جس پر شرمندگی مٹانے کے لیے دھاندلی کا الزام لگا دیا حالانکہ الیکشن والے دن اس حلقے میں کہیں سے بھی دھاندلی کی کوئی شکایت سامنے نہیں آئی تھی اور پیپلزپارٹی والے خود بھی اپنے امیدوار کے نتائج سامنے آنے پر حیران اور پریشان ہو رہے تھے۔
یاد رہے کہ کراچی کے حلقہ این اے 249 میں پیپلز پارٹی کے امیدوار قادر خان مندوخیل نے کامیابی حاصل کی جبکہ نواز لیگ کے مفتاح اسماعیل دوسرے نمبر پر رہے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان کانٹے کا مقابلہ دیکھنے میں آیا اور ووٹوں کی گنتی کے دوران دونوں ہی جماعتیں حلقے میں اپنے امیدواروں کی برتری کا دعویٰ کرتی رہیں۔ تاہم الیکشن کمیشن کی جانب فارم 47 کے تحت مرتب کیے گئے حلقے کے تمام 276 پولنگ سٹیشن کے نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی کے امیدوار قادر مندوخیل نے 16 ہزار 156 ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کرلی ہے۔ مسلم لیگ ن کے امیدوار مفتاح اسماعیل 15 ہزار 473 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے، پیپلزپارٹی کے مندوخیل نے مفتاح کو ایک ہزار سے بھی کم ووٹوں کے فرق سے شکست دی، دلچسپ بات یہ ہے کہ 2018 کے الیکشن میں شہباز شریف بھی فیصل واوڈا کے ہاتھوں اسی نشست پر 700 سے زائد ووٹوں کے فرق سے ہارے تھے۔
لیکن حیران کن طور پر کالعدم قرار دیے جانے کے باوجود الیکشن میں حصہ لینے والی تحریک لبیک کے امیدوار 11 ہزار 125 ووٹ لیکر تیسرے نمبر پر رہے، پاک سر زمین پارٹی کے امیدوار مصطفی کمال نو ہزار 227 ووٹ لیکر چوتھے نمبر پر جب کہ حکمران جماعت تحریک انصاف آٹھ ہزار 922 ووٹ لیکر پانچویں نمبر پر رہے۔ لیکن ماضی میں کراچی پر دہائیوں تک راج کرنے والی ایم کیو ایم پاکستان کا امیدوار سات ہزار سے زائد ووٹ لے کر چھٹے اور آخری نمبر پر رہا۔ یعنی کراچی میں جہاں ایم کیو ایم کا ڈنکا بجا کرتا تھا وہاں پیپلز پارٹی جیت گئی ہے۔
نتائج آنے کے بعد پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو نے ٹویٹ کیا کہ ’شکریہ کراچی۔‘
تاہم حلقے میں ووٹنگ کا ٹرن آؤٹ انتہائی کم رہا۔الیکشن کمیشن نے اس الیکشن میں ووٹوں کی حتمی شرح تو فی الحال نہیں بتائی البتہ الیکشن مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹرن آؤٹ 15 فیصد تک رہی۔ اس کے برعکس 2018 کے انتخابات میں اس حلقے کا ٹرن آؤٹ 40 فیصد تھا۔ مبصرین کا کہنا یے کہ ضمنی انتخاب میں عمومی طور پر ٹرن آؤٹ کم رہتا ہے، تاہم رمضان، گرم موسم اور کورونا وباء کا پھیلاؤ وہ بنیادی وجوہات تھیں جن کی وجہ سے بہت کم لوگ ووٹ ڈالنے کے لیے نکلے۔
واضح رہے کہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے انہی وجوہات کو بیان کرتے ہوئے الیکشن ملتوی کرنے کی استدعا کی گئی تھی جسے الیکشن کمیشن نے مسترد کردیا تھا۔مبصرین کے مطابق ووٹنگ ٹرن آؤٹ کم رہنے کی ایک اور بڑی وجہ ورکنگ ڈے میں ووٹنگ کا انعقاد تھا۔ استدعا کے باوجود الیکشن کو چھٹی والے دن نہیں رکھا گیا۔ گو کہ سندھ حکومت نے حلقے میں سرکاری سطح پر تعطیل کا اعلان کیا تھا تاہم حلقہ کے زیادہ تر آبادی متوسط اور مزدور طبقے پر مشتمل ہے جو روزگار اور نوکریوں کے لیے شہر کے دوسرے علاقوں کو جاتے ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ پولنگ سٹیشن پر مردوں کے مقابلے میں خواتین کی زیادہ تعداد ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے آئی تھی۔
مجموعی طور پر پولنگ منظم طریقے سے جاری رہی البتہ ایک پولنگ سٹیشن پر ریٹرننگ آفیسر نے وقت سے پہلے ہی فارم 45 پر پولنگ ایجنٹوں سے دستخط لیے تھے جس کی نشاندہی پر ان فارمز کو منسوخ کیا گیا۔ فارم 45 پر الیکشن کا نتیجہ پریزائیڈنگ افسر کو بھجوایا جاتا ہے اور اصل کے مطابق گنتی مکمل ہونے کے بعد ہی پولنگ ایجنٹ تسلی کر کے اس پر دستخط کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ حلقہ این اے-249 کراچی غربی سال 2018 میں این اے-239 اور این اے-240 میں شامل کچھ علاقوں کو ملا کر تشکیل دیا گیا تھا۔ مذکورہ نشست تحریک انصاف کے نو منتخب سینیٹر فیصل واڈا کی جانب سے مارچ میں ہونے والے سینیٹ انتخابات میں حصہ لینے کے لیے مستعفی ہوجانے کے بعد خالی ہوئی تھی۔ فیصل واڈا نے 2018 کے عام انتخابات میں کراچی غربی ٹو کے اس حلقے سے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کو محض 718 ووٹوں کے فرق سے شکست دے کر کامیابی حاصل کی تھی۔
یاد رہے کہ 2018 کے الیکشن میں بھی پیپلزپارٹی کے مندوخیل نے اسی نشست پر الیکشن لڑا تھا لیکن چوتھے نمبر پر آئے تھے۔ 2017 کی حلقہ بندی سے قبل 2002 سے 2013 کے انتخابات تک، موجودہ حلقہ این اے 249 دو حلقوں این اے 239 اور این اے 240 کے حصوں پر مشتمل تھا۔ این اے 240 کا لگ بھگ چالیس فیصد حصہ اور این اے 239 کا ساٹھ فیصد حصہ، مل کر 2018 کے الیکشن میں 249 بنا تھا۔ سن 2002 سے پیچھے یعنی 1985 سے 1997 تک یہ حلقہ این اے 184 کے نوے فیصد اور این اے 185 کے دس فیصد حصے پر مشتمل تھا۔ 1970 کے الیکشن میں جو حلقہ 183 ہوتا تھا، اب یہ مکمل این اے 249 ہے۔
اس حلقے کی انتخابی تاریخ کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ 2018 کے انتخاب میں این اے 249 سے تحریک انصاف کے فیصل واوڈا نے مسلم لیگ نون کے رہنما شہباز شریف کو شکست سے دوچار کیا تھا۔ فیصل واوڈا کو یہ برتری لگ بھگ سات سو ووٹوں سے نصیب ہوئی تھی۔ 2013 میں این اے 239 سے ایم کیو ایم کے سلمان مجاہد جیتے تھے جبکہ این اے 240 سے ایم کیو ایم کے خواجہ سہیل جیتے تھے۔ 2008 کے الیکشن میں این اے 239 سے پی پی پی کے عبدالقادر پٹیل جیتے تھے اور این اے 240 سے خواجہ سہیل منصور پہلی بار جیتے تھے۔ 2002 کے الیکشن میں این اے 239 سے حکیم قاری گل رحمان، ایم ایم اے کے پلیٹ فارم سے جیتے تھے جبکہ این اے 240 سے ایم کیو ایم کے سرکار الدین جیتے تھے۔ 1997 میں حلقہ این اے 184 سے مسلم لیگ نون کے میاں اعجاز شفیع جیتے تھے، جبکہ این اے 185 سے حق پرست گروپ ایم کیو ایم کے اے کے شمس نے کامیابی سمیٹی تھی۔ تاہم اب بارہ برس کے طویل انتظار کے بعد پیپلز پارٹی نے یہ نشست دوبارہ سے جیت لی ہے۔
