پی ٹی آئی رہنما لاہور پارکنگ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے سربراہ مقرر

پنجاب حکومت نے مبینہ طور پر حکمران جماعت کے کارکن کو سیاسی دباؤ میں لاہور پارکنگ کمپنی (ایل پی سی) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا چیئرمین مقرر کردیا جب کہ اس عمل میں وزیر اعلیٰ آفس کے اسپیشل مانیٹرنگ یونٹ (ایس ایم یو) کی سفارش کو بھی شامل نہ کیا گیا۔
سرکاری ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ وزیر اعلٰی کے ایس ایم یو کی سربراہی میں مشیر برائے معاشی امور، منصوبہ بندی اور ترقی ڈاکٹر سلمان شاہ نے ایک وسیع تشخیصی مشق جو تفصیلی انٹرویوز وغیرہ پر مشتمل تھے، انجام دینے کے بعد گزشتہ سال دسمبر میں، چار آزاد ڈائریکٹرز کے عہدے پر تقرری کےلیے امیدواروں کی سفارش کی تھی، جس میں سے ایک ایل پی سی بی او ڈی کے چیئرمین کے عہدے کےلیے کمپنی کو قانون کے تحت درست سمت پر چلانے کےلیے تھا۔ 10 دسمبر کو ایس ایم یو کی جانب سے کمپنی کے سی ای او کو لکھے گئے ایک خط کے مطابق ‘محمد مقبول (ایک اکاؤنٹنگ اینڈ فنانس پروفیشنل، جن کےلیے چیئرمین کے عہدے کی سفارش کی گئی تھی)، وسیم اشرف (ایچ آر)، معین سرور (پروجیکٹ مینجمنٹ اینڈ بزنس پلانر) اور شاہ رخ جمال بٹ (مالی اور کاروباری مہارت)، ان 4 لوگوں کے نام ایل پی سی ڈائریکٹرز کے عہدے کےلیے تجویز دیے گئے تھے’۔ اس میں کہا گیا تھا کہ ‘ایل پی سی کے ڈائریکٹرز کی حیثیت سے تجویز کیا گیا نیا بورڈ جس میں آٹھ سابق ممبران بھی شامل ہیں، کمپنی کی کارکردگی کو تبدیل کرنے، پارکنگ سائٹس کی توسیع، آمدنی میں بہتری، ڈیجیٹائزیشن اور آٹومیشن میں اضافہ اور ایک تفصیلی کاروباری منصوبے پر عمل درآمد کےلیے ذمہ دار ہوں گے’۔ خط میں ایل پی سی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کو میونسپل کارپوریشن لاہور (ایم سی ایل) کے منتظم کو حتمی منظوری اور نوٹی فکیشن کےلیے بھجوانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ یہ موصول ہونے پر ایم سی ایل نے ایک نوٹی فکیشن جاری کیا جس میں کہا گیا کہ ایل پی سی نے نومبر 2020 کے اپنے اجلاس میں چار ڈائریکٹرز کے عہدوں کےلیے نو پیشہ ور افراد میں سے انتخاب کرنے کی تجویز دی۔ اس تجویز میں عبدالکریم خان، طارق حمید، واصف وسیم، معین سرور، عاصم قادری، محمد مقبول، سارہ نسیم، ماجد رفیق اور شاہ رخ جمال کے نام شامل تھے۔ ایم سی ایل نے ایک نوٹی فکیشن کے ذریعے کہا کہ ایس ایم یو نے ایل پی سی کے سی ای او کو آگاہ کیا کہ امیدواروں کے انٹرویو لینے اور ان کی مہارت اور تجربے کی گہرائی سے جائزہ لینے کے بعد یہ سفارشات پیش کی گئیں کہ ایک وسیع البنیاد مہارت کے ساتھ ایک بورڈ تشکیل دیا جائے۔ ایم سی ایل کے خط کے مطابق ‘ایل پی سی ایل کی ایسوسی ایشن کے آرٹیکل کی دفعہ 3.1 کی پیروی میں محمد مقبول، واصف وسیم اشرف، معین سرور اور شاہ رخ جمال کو اس طرح ایل پی سی کا بورڈ آف ڈائریکٹرز مقرر کیا گیا ہے’۔ تاہم حیرت کی بات یہ ہے کہ نوٹی فکیشن میں محمد مقبول کو بطور چیئرمین کی سفارش کا ذکر نہیں کیا گیا۔ ایک سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ‘مبینہ طور پر یہ کسی کو سیاسی دباؤ میں رکھنے کےلیے جان بوجھ کر کیا گیا تھا’۔ انہوں نے کہا کہ ‘آخر کار چیئرمین (ڈی سی) کی سربراہی میں ایل پی سی بورڈ نے 18 دسمبر کو اپنے اجلاس میں شاہ رخ جمال جمال کو ممبران کا انتظام سنبھال کر متفقہ طور پر منتخب کیا’۔ لاہور کے ڈپٹی کمشنر مدثر ریاض ملک نے اس تاثر کو ختم کیا اور شاہ رخ جمال بٹ کے بطور چیئرمین تقرری کا دفاع کیا جو ان کے مطابق قواعد و ضوابط کے تحت کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘مجھے ڈاکٹر سلمان شاہ کی سربراہی میں وزیر اعلٰی کے ایس ایم یو کی طرف سے کوئی سفارش نہیں ملی، ایس ایم یو کو (ایل پی سی بی او ڈی) چیئرمین کی حیثیت سے کسی کی سفارش کرنے کا اختیار نہیں تھا’۔ انہوں نے ایس ایم یو سفارشات کی کاپی طلب کرتے ہوئے کہا ‘شاہ رخ جمال بٹ کو چیئرمین مقرر کرنے کےلیے بورڈ پر کوئی سیاسی دباؤ نہیں تھا’۔ جب اس نامہ نگار نے انہیں ایس ایم یو کا خط بھیجا تو ڈی سی نے اس کے جواب میں کہا کہ ‘جیسا کہ میں نے آپ کو واضح الفاظ میں اپنا نقطہ نظر پیش کیا ہے، موجودہ چیئرمین کا انتخاب قانون کے مطابق اور تمام ضروری کارروائیوں کے بعد کیا گیا ہے، ایڈمنسٹریٹر ایم سی ایل کے ذریعہ چار آزاد ممبران کا تقرر کیا گیا تھا جن میں سے ایک کو بورڈ نے متفقہ طور پر (چیئرمین) منتخب کیا تھا، کوئی دوسرا عمل جو اثر و رسوخ کے ذریعہ چیئرمین کے ‘انتخاب’ کی طرف جاتا ہے اسے غیر مناسب اور غیر قانونی سمجھا جاتا ہے، قانون کے مطابق چیئرمین کا انتخاب صرف بورڈ کے ذریعہ کیا جاسکتا ہے’۔ رابطہ کیے جانے پر نومنتخب چیئرمین جمال بٹ نے اعتراف کیا کہ اس عہدے کےلیے ان کے نام کی سفارش پاکستان تحریک انصاف کے مرحوم رہنما نعیم الحق نے ایل پی سی کے بی او ڈی سربراہ کے انتخاب کے پورے عمل سے بہت پہلے کی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button