پی ٹی آئی نے سابقہ اتحادی MQM کو غدار کیوں قرار دیا؟

صرف ایک ماہ پہلے تک پی ٹی آئی کی اتحادی جماعت رہنے والی ایم کیو ایم نے کپتان کا ساتھ چھوڑ کر پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کے ساتھ ہاتھ کیا ملایا، تحریک انصاف نے اسے فورا ملک دشمن اور غدار ڈیکلیئر کر کے پاکستان کے لیے سکیورٹی رسک قرار دے دیا۔ یہ وہی ایم کیو ایم ہے جسے حکومتی اتحاد میں رکھنے کی خاطر پچھلے ماہ عمران خان نے بحیثیت وزیر اعظم اس کے کراچی ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا تھا اور اوراس غدار جماعت کو ایک قابل اعتماد اتحادی قرار دیا تھا۔
لیکن ایم کیو ایم کی جانب سے عمران کا ساتھ چھوڑ کر شہباز شریف سے ہاتھ ملانے کے بعد اب تحریک انصاف کے مرکزی ترجمان فواد چوہدری نے اسے ملک دشمن جماعت قرار دے دیا ہے۔ یاد رہے کہ حکومت نے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی سینئر رہنما نسرین جلیل کو گورنر سندھ بنانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے بعد صوبے کی تاریخ میں دوسری خاتون گورنر کے تقرر کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ اس سے پہلے 1970 میں بیگم رعنا لیاقت علی خان نے بطور گورنر سندھ خدمات انجام دی تھیں۔ تاہم تحریک انصاف نے اس فیصلے پر شدید تنقید کی ہے۔ سوشل میڈیا پر تبصرہ کرتے ہوئے سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ’کرائم منسٹر‘ کو گورنر سندھ کے لیے نسرین جلیل کا نام تجویز کیا گیا ہے جن کی ملک سے وفاداری مشکوک ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ نسرین جلیل نے 18 جون 2018 کو بھارتی ہائی کمشنر کو خط لکھا تھا جس میں انہوں نے انڈیا سے پاکستانی اداروں کے خلاف مدد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
فواد چوہدری نے کہا کہ بہت دکھ کی بات ہے کہ کراچی میں سیکیورٹی اداروں نے جس ’گندگی‘ کو صاف کیا اسے دوبارہ لایا جارہا ہے۔
سابق گورنر سندھ عمران اسمٰعیل نے بھی وزیر اعظم شہباز شریف کے فیصلے پر تنقید کی۔ کل تک ایم کی منتیں کرنے والے عمران اسمٰعیل نے سوشل میڈیا پر تبصرہ کیا کہ ’یوں معلوم ہوتا ہے کہ حکومت کا حصہ بننے کے لیے یا تو ضمانت پر ہونا ضروری ہے یا پھر سیکیورٹی اداروں پر رکیک حملوں کا ایکسپرٹ ہونا لازمی یے، انہوں نے کہا کہ ایسے ایسے غدسر ڈھونڈ کر لگائے جا رہے ہیں کہ الامان الحفیظ‘۔
تاہم دوسری جانب پی ٹی آئی کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے ایم کیو ایم کے سینئر رہنما اور وفاقی وزیر برائے بحری امور فیصل سبزواری کا کہنا تھا کہ نسرین جلیل کی جانب سے سے خط تمام غیر ملکی سفیروں کو لکھا گیا تھا لیکن پی ٹی آئی والے شرارت کرتے ہوئے صرف بھارت کا نام لے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ویسے بھی یہ بات بعد کم از کم بیس برس پرانی ہے۔ فیصل سبزواری نے کہا کہ ماضی میں سابق وزیر اعظم عمران خان نے بھی عوامی جلسے میں بجلی کا بل جلاتے ہوئے سول نافرمانی کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا عمران اور ان کے ساتھیوں کو اس خط کا علم اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد ہوا ہے۔
ایم کیو ایم کے رہنما نے اس بات کی نشاندہی کی کہ خط تمام سفرا سمیت وزیر اعظم پاکستان، صدر مملکت، چیف آف آرمی اسٹاف اور اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان کو بھی لکھا گیا تھا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ یہ وہی تحریک انصاف ہے جس کے چئیرمین عمران خان پچھلے ماہ تک کراچی ہیڈ کوارٹر پہنچ کر ایم کیو ایم کی منتیں کر رہے تھے۔ فیصل سبزواری کا کہنا تھا کہ فوج کے ادارے کو گالیاں دینے والی جماعت نجانے کس منہ سے دوسروں کو غداری کے تانے دے رہی ہے۔
