پی ڈی ایم کا 3 حکومتی رہنمائوں کیخلاف تحریک عدم اعتماد پرغور

قائد پاکستان مسلم لیگ ن لیگ نواز شریف ، پی ڈی ایم کے صدر اور جمعیت علمائے اسلام (ف) سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے مابین پاکستان تحریک انصاف کے تین اہم رہنماؤں کیخلاف تحریک عدم اعتماد کے امکانات پر غور کیا جائیگا۔

ذرائع نے بتایا کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کی پی ڈی ایم کے کئی رہنماؤں سے بات ہوئی اور ان سے کہا ہے کہ وہ جلد ورکنگ پلان پیش کریں تاکہ اپوزیشن اتحاد 20 نومبر تک اپنی مستقبل کی حکمت عملی کو حتمی شکل دے سکے۔

پی ڈی ایم کے سربراہ کیساتھ اپنی ٹیلی فونک گفتگو میں نواز شریف نے پی پی پی کی قیادت سے بھی تبادلہ خیال کیا۔اپریل میں استعفوں کے معاملے پر اپوزیشن اتحاد سے اخراج کے بعد پی ڈی ایم اور پی پی پی رہنماؤں کے درمیان اس سلسلے میں پہلی ملاقات تھی۔

پیپلزپارٹی رہنما فرحت اللہ بابر نے کہا کہ اگرچہ پی پی پی اس وقت پی ڈی ایم کا حصہ نہیں لیکن پارٹی کا خیال ہے کہ حکمراں جماعت پی ٹی آئی کو ہٹانے کے لیے کسی بھی اقدام کو پارلیمنٹ کے پلیٹ فارم سے شروع ہونا چاہئے۔

پاکستان مسلم لیگ ن کے ذرائع نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمٰن کو ابتدائی اقدام کے طور پر چیئرمین سینیٹ، قومی اسمبلی کے اسپیکر یا وزیراعلیٰ پنجاب کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی پی ڈی ایم کی تجویز پر پی پی پی کو آن بورڈ لینے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے جمعے کو مولانا فضل الرحمٰن نے ملاقات کی جس کے دوران مشترکہ پریس کانفرنس کہا گیا کہ اپوزیشن پارلیمنٹ متحد ہیں۔

دریں اثنا وفاقی وزیر اطلاعات لانگ مارچ کی دھمکیوں پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ بے روزگار رہنما ، حکومت کو گرانے کے اپنے سابقہ منصوبوں یعنی اسکیم اے ، بی اور سی میں برطرح ناکام ہوگئے ہیں ، پی ڈی ایم بیانات جاری کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتے ۔ ہمیں (کسی بھی) تحریک عدم اعتماد کے لیے جا کر وزیر اعظم عمران خان کو اقتدار چھوڑنے پر مجبور کرنے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی کراچی میں تقریر پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پی ڈی ایم ’سیاسی طور پر چھوڑے گئے۔

Back to top button