چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں کامیابی کےلیے جو کچھ کرنا پڑا کریں گے

وفاقی وزیر شبلی فراز نے کہا ہے کہ چیئرمین سینیٹ کےلیے حکومتی امیدوار صادق سنجرانی کی کامیابی کےلیے جو کرنا پڑا کریں گے، یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم اپنے ہاتھ قانون سے باندھ لیں اور دوسرے فریق کے جو دل میں آئے وہ کرے۔
شبلی فراز سے سوال کیا گیا کہ سینیٹ میں اپوزیشن اراکین کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے صادق سنجرانی کس طرح کامیاب ہوسکیں گے؟ جس کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ میں یہ بات واضح کردوں کہ ہم یہ نہیں کرسکتے کہ ہم شریف شریف کھیلیں اور تحریر کردہ قواعد کے مطابق چلیں’۔ بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن ہمیشہ قواعد کی خلاف ورزی، پیسے کے استعمال سمیت ہر طریقہ اختیار کرتی ہے لیکن اس مرتبہ ہم تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس انتخاب کو جتینے کےلیے جو کچھ کرنا پڑا ہم وہ کریں گے، یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم اپنے ہاتھ قانون سے باندھ لیں اور دوسرے فریق کے جو دل میں آئے اور وہ جو طریقہ استعمال کرنا چاہے کرے جس طرح اس نے قومی اسمبلی میں سینیٹ کے الیکشن میں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مرتبہ ہم ‘نائس نائس’ نہیں کھیلیں گے، ہم ہر وہ کوشش کریں گے کہ ہمارا امیدوار جیتنے ایسا نہیں ہوسکتا کہ فٹ بال کے میچ میں اپوزیشن ٹیم کو ہاتھ سے بال روکنے کی اجازت ہو اور ہم صرف پاؤں سے کھیل سکتے ہوں۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اگر کوئی پیار کرے گا پیار ملے گا وار کے گا وار ملے گا۔ علاوہ ازیں ایک پیغام میں وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا ہے کہ چیئرمین سینیٹ کے عہدے پر صادق سنجرانی کی کامیابی کےلیےہر سیاسی، جمہوری اور قانونی حربہ استعمال کریں گے۔ سماجی روابط ویب سائٹ ٹوئٹر پر ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن خریدو فروخت سمیت تمام غیر قانونی اور غیر اخلاقی ہتھکنڈے استعمال کرکے جمہوریت کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے غیر قانونی اور غیر جمہوری ہتھکنڈوں کے خلاف اعلان جنگ کیا ہوا ہے۔
