الیکشن کمیشن کی آزادی کا اصل امتحان فارن فنڈنگ کیس ہے؟

گزشتہ چھ برس سے تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کیس لٹکانے والا الیکشن کمیشن آف پاکستان آج کل جو آزادی دکھا رہا ہے وہ اسے تاحکم ثانی ملی ہے اور چیف الیکشن کمشنر کا اصل ٹیسٹ کیس اب بھی وزیراعظم عمران خان کی جماعت کے خلاف دائر کردہ اکبر ایس بابر کا فارن فنڈنگ کیس ہی ہے۔ اگر الیکشن کمیشن واقعی تمام تر دباو سے آزاد ہوگیا ہے تو ذرا اس فارن فنڈنگ کیس کا میرٹ پر فیصلہ کرکے دکھا دے۔
ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی اور اینکر پرسن سلیم صافی نے اپنے تازہ ترین تجزیے میں کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کا معاملہ بھی الیکشن کمیشن جیسا ہی یے کیونکہ سید یوسف رضاگیلانی کے سینیٹ الیکشن لڑنے کا فیصلہ تب کیا گیا جب کچھ اہم ملاقاتوں کے بعد پی پی پی کی قیادت کو این او سی مل گیا۔ دراصل یہ سب کچھ اس اسکرپٹ کا حصہ ہے جس پر کئی ماہ قبل اتفاق ہوا تھا اور جس کے بعد بلاول بھٹو نے نواز شریف کی تقریر پر دھچکا پہنچنے والا بیان دے کر پی ڈی ایم کے انقلابی بیانیے کے غبارے سے ہوا نکالنے کے عمل کا آغاز کیا تھا۔ سلیم صافی کہتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ اس وقت پیپلز پارٹی ایک نئی قسم کی پی ٹی آئی بن چکی ہے جس سے دو کام لئے جارہے ہیں۔ ایک تو پی ڈی ایم کو سڑکوں پر نکلنے اور انتہا پر جانے سے روکنے کا کام اور دوسرا جب خان صاحب آنکھیں دکھانے لگتے ہیں تو انہیں پیپلز پارٹی کے ذریعے سبق سکھایا جاتا ہے۔
صافی کے مطابق عمران خان پچھلے کچھ عرصے سے خود کو سچ مچ کا وزیراعظم سمجھنا شروع ہو گئے تھے اور اسٹیبلشمینٹ بارے الٹے سیدھے بیانات دینے کے علاوہ انہوں نے کئی معاملات میں بات ماننے سے بھی انکار کرنا شروع کیا تھا۔ چنانچہ گیلانی کی سینیٹ الیکشن میں جیت کے ذریعے انکو دوبارہ بات سمجھادی گئی۔ تاہم اب چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں پتہ چل جائے گا کہ اصف علی زرداری، حقیقتا کتنے بھاری ہیں؟ اس لئے اب پیپلز پارٹی زیادہ زور پنجاب میں بزدار کے خلاف تحرئک عدم اعتماد لانے پر ڈال رہی ہے جس کا مقصد پی ڈی ایم کو جوڑ توڑ اور خرید و فروخت کی سیاست میں الجھا کر عمران خان کو سیدھا رکھنے کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔
سلیم صافی کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ پیپلز پارٹی نے جس اسکرپٹ کی بنیاد پر ڈیل کی ہے، اگر اس پر من و عن عمل ہوا تو پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی حریف نہیں رہیں گی بلکہ پنجاب میں اگلا الیکشن دونوں مل کر لڑیں گی۔ پی ڈی ایم کا بیانیہ ووٹ کو عزت دینے کا تھا لیکن سینیٹ الیکشن کے دوران ضمیر فروشی کے دھندے میں ملوث ہوکر سیاسی جماعتوں کی قیادت نے ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ دفن کر دیا۔ حالیہ سینیٹ الیکشن کی تلخ حقیقت یہ ہے کہ پیپلز پارٹی نے 16 نہیں بلکہ پی ٹی آئی کے 30 سے زائد اراکین قومی اسمبلی کو ساتھ ملایا تھا لیکن آخری دو دنوں میں عمران خان کی چیخ و پکار کے بعد قوم کے وسیع ترمفاد میں خفیہ طاقتیں متحرک ہوئیں اور زور لگا کر اس تعداد کو کم کیا۔دوسری بھیانک حقیقت یہ ہے کہ پی ٹی آئی نے بھی اپوزیشن کے نصف درجن ممبران اسمبلی خرید کر توڑے، جن میں ایک جے یو آئی کا ممبر بھی ہے۔ صافی کے مطابق پی ٹی آئی کے جن 16 سے زیادہ ممبران نے گیلانی کو ووٹ ڈالے یا ضائع کئے، ہر ایک کا عمران خان کو علم ہے۔ یہ صرف میرا دعویٰ نہیں بلکہ میرے ٹی وی پروگرام جرگہ میں وزیر داخلہ شیخ رشید احمد بھی کہہ چکے ہیں کہ عمران خان کو سب کے بارے میں پتہ ہے۔ تاہم وہ اپنی سیاسی مجبوریوں کی وجہ سے ان لوگوں کے خلاف ایکشن نہیں لے سکتے۔ عمران خان کے پاس چیئرمین نیب کی بھی درجنوں آڈیو وڈیوز کے ساتھ ساتھ گزشتہ سینیٹ انتخابات سے متعلق بھی پندرہ سے زیادہ خفیہ وڈیوز موجود ہیں۔ لیکن پھر بھی خان صاحب کہہ رہے ہیں کہ الیکشن کمیشن نشاندہی کرکے انہیں بتائے کہ پی ٹی آئی کے کون کونسے لوگ سینیٹ الیکشن میں بکے ہیں۔ ان سے کوئی نہیں پوچھتا کہ 2018 میں آپ نے جن لوگوں کو پارٹی سے نکالا، کیا ان کے نام آپ کو الیکشن کمیشن نے دیے تھے؟
سلیم صافی کہتے ہیں کہ صرف یہ نہیں بلکہ خیبرپختونخوا میں عمران خان کے امیدواروں نے پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور جے یو آئی کے درجنوں بندے توڑے اور اسی وجہ سے پی پی پی کے فرحت ﷲ بابر اور جماعت اسلامی کی خاتون امیدوار ہار گئیں۔ وہاں بھی عمران خان کو سب پتہ ہے کہ کون بکا اور کس نے خریدا کیونکہ خود انہوں نے کھرب پتیوں کو ٹکٹ اسی لئے دیے تھے کہ وہ ان پر پیسہ لگا سکیں۔ اس لئے خریدوفروخت کے معاملے پر سیاست تو ہوتی رہے گی لیکن عمران خان اس معاملے کو کبھی عدالت یا الیکشن کمیشن کے ذریعے منطقی انجام تک نہیں پہنچانا چاہیں گے۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ ایک تو اس حمام میں وہ ننگے ہیں۔
صافی کے مطابق دوسری وجہ یہ کہ عمران خان کو اچھی طرح علم ہے کہ ان کی جماعت کا کون کونسا ممبر سی ئٹ الیکشن میں پھسلا ہے لیکن ان کا دماغ خراب نہیں کہ اپنے تیس کے لگ بھگ اراکینِ اسمبلی کے خلاف کارروائی کریں۔ اگر انہوں نے ایسا کیا تو اگلے دن ہی وہ وزیراعظم نہیں رہیں گے۔ صافی کہتے ہیں کہ یہ بات بھی خود وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے مجھے بتائی کہ اگر عمران خان نے ان لوگوں کے خلاف کارروائی کی تو اگلے دن ان کی حکومت نہیں ہوگی اور میں آپ کے سامنے وزیر نہیں بلکہ صرف ایم این اے کے طور پر بیٹھا ہوں گا۔
