چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کا سپریم کورٹ جانے سے انکار

اپنے جونیئر جج کو سپریم کورٹ میں ترقی ملنے اور خود کو ایڈہاک جج لگانے کی غیر آئینی تجویز کے ردعمل میں چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ احمد علی شیخ نے عدالت عظمیٰ کو اپنا باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرواتے ہوئے سپریم کورٹ جانے سے انکار کردیا ہے۔
خیال رہے کہ سینیارٹی کے اعتبار سے سندھ ہائیکورٹ میں پانچویں نمبر کے جج جسٹس محمد علی مظہر کو چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم جوڈیشل کونسل نے حال ہی میں ترقی دے کر سپریم کورٹ بھیج دیا تھا جس کے خلاف پاکستان بار کونسل نے ملک گیر احتجاج کیا تھا۔ چنانچہ اس فیصلے پر وکلا برادری کے شدید تحفظات کو زائل کرنے کے لئے سپریم جوڈیشل کمیشن نے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ چیف جسٹس احمد علی شیخ کو عدالتِ عظمیٰ میں ایڈہاک جج لگانے کا عندیہ دیا تھا۔ تاہم انہوں نے اس پیش کش کو مسترد کرتے ہوئے، اس تاثر کی بھی باقاعدی نفی کردی ہے کہ انہوں نے کبھی ایڈہاک جج لگنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس احمد علی شیخ نے 5 اگست کو جوڈیشل کمیشن پاکستان کو ارسال کردہ ایک خط میں اس تاثر کو یکسر رد کیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ میں بطور ایڈہاک جج شمولیت پر متفق ہیں یا کبھی انہوں نے اس حوالے سے اپنی رضامندی ظاہر کی ہے۔ ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن پاکستان یا جے سی پی کا اجلاس 10 اگست کو ہونا ہے جس میں سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی سپریم کورٹ میں بطور ایڈہاک جج تعیناتی پر غور کیا جائے گا۔ اس سے قبل جسٹس علی محمد مظہر کو اسی عدالت کے لیے نامزد کیا گیا تھا جو عدالت عظمیٰ میں مستقل جج بننے کے لیے عدالت عالیہ کی سنیارٹی فہرست میں پانچویں نمبر پر تھے۔ جسٹس علی مظہر کی اس ترقی کے ساتھ سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد مقررہ 17 تک پہنچ جاتی ہے اس لیے فیصلہ کیا گیا کہ چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کو سپریم کورٹ میں بطور ایڈہاک جج تعینات کیا جائے گا۔
تاہم جوڈیشل کمیشن کو ارسال کردہ ایک مختصر خط میں جسٹس احمد علی شیخ یہ بات ریکارڈ پر لے آئے ہیں کہ وہ نہ تو کبھی اس بات پر راضی ہوئے تھے اور نہ ہی انہوں نے عدالت عظمیٰ کے ججز میں بطور ایڈہاک جج شامل ہونے کے لیے اپنی رضامندی ظاہر کی۔ ذرائع کے مطابق چیف جسٹس ہائی کورٹ نے کہا کہ انہیں اس فیصلے پر کوئی اعتراض نہ ہوتا اگر انہیں سپریم کورٹ میں بطور مستقل جج تعینات یا ترقی دی جاتی۔ انہوں نے سیکریٹری جوڈیشل کمیشن، جو سپریم کورٹ کے رجسٹرار بھی ہیں، سے کہا کہ ان کا خط کمیشن کے تمام اراکین تک پہنچایا جائے۔ ذرائع کے مطابق چیف جسٹس احمد علی ایم شیخ کا خط سامنے آنے کے بعد ممکنہ طور پر جوڈیشل کمیشن کا 10 اگست کے روز طے شدہ اجلاس منسوخ ہوجائے گا۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر رشید اے رضوی کا کہنا ہے کہ سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی سپریم کورٹ میں بطور ایڈہاک جج تعیناتی قانون کے طریقہ کار کے بغیر ہائی کورٹ سے انہیں ہٹانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ آئین کی دفعہ 209 کی خلاف ورزی ہے، جس میں قرار دیا گیا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کے کسی بھی جج کو اس شق کے نفاذ اور ایس جے سی کی کارروائی کے بغیر نہیں ہٹایا جانا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ آئینی دفعہ میں یہ بات نہیں ہے کہ ایک چیف جسٹس کو عدالت عظمیٰ کے ججز میں بطور ایڈہاک جج شامل ہونے کے لیے مدعو کیا جاسکتا ہے، دوسرا یہ کہ اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ چیف جسٹس کا مطلب جج ہونا بھی ہے جیسا کہ آرٹیکل 260 کے تحت جج کی تعریف کے تحت فراہم کیا گیا ہے تو ان کی رضامندی ضروری ہے۔قبل ازیں ایک مشترکہ اجلاس میں جوڈیشل کمیشن پاکستان کی ایگزیکٹو کمیٹیوں کے چیئرمین، جوائنٹ چیئرمین، اراکین، صوبائی اور اسلام آباد بار کونسلز کے صدور نے ایک قرارداد کے ذریعے اس بات پر زور دیا کہ سپریم کورٹ میں تمام تعیناتیوں کے لیے سنیارٹی کے اصولوں پر عمل کرنا چاہیے، تاکہ عدلیہ کے اندر من مانی، اقربا پروری اور گروہ بندی سے بچا جاسکے۔
