چیف جسٹس سینئر موسٹ لگ سکتا ہے تو آرمی چیف کیوں نہیں؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار وسعت اللہ خان نے کہا ہے کہ آرمی چیف کی تعیناتی پر تنازعات ختم کرنے کا بہترین راستہ یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی طرح فوجی سربراہ کا تقرر بھی سنیارٹی کی بنیاد پر کرنے کا قانون بنا دیا جائے، ان کا کہنا ہے کہ جو وفاقی کابینہ یا پارلیمنٹ حاضر سروس سپاہ سالار کی مقررہ مدتِ ملازمت میں توسیع کے لیے آرمی ایکٹ میں ایک دن کے اندر اندر متفقہ ترمیم کر سکتی ہے، وہی پارلیمنٹ آرمی ایکٹ میں یہ اضافہ کیوں نہیں کر سکتی کہ سپریم کورٹ کی طرح فوج میں بھی سینئر موسٹ جنرل خود بخود اگلا سپاہ سالار نامزد ہو جائے۔

بی بی سی کے لئے اپنی تازہ سیاسی تجزیے میں وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ مان لیا کہ فوج دفاعی، علاقائی اور خارجہ معاملات میں کسی منتخب حکومت کی نہیں چلنے دیتی مگر صحت، تعلیم، روزگار اور وسائل کی تقسیم سے متعلق عوام دوست پالیسیاں بنانے اور ان پر عملدرآمد سے بھی کیا، آئی ایس آئی روکتی ہے؟وزیرِ اعظم یا قائد حزبِ اختلاف کو ایک میز پر آمنے سامنے بیٹھ کر آنکھ سے آنکھ ملا کر بات کرنے سے بھی کیا فوج ہی منع کرتی ہے۔ اگر آپ اتنے ہی ننھے معصوم ہیں تو پھر سیاست میں کیوں ہیں اور ووٹ لینے کے لیے آسمان سے تارے توڑنے کے خواب کیوں بیچتے ہیں۔ آپ لوگ لنگڑی لولی حکومت تھامنے کے لیے بھی ایکدوسرے کی شیروانی آگے پیچھے سے کیوں کھینچتے رہتے ہیں؟

وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ اقتدار سے بوٹ آؤٹ ہونے کے بعد ہی ہمارے سیاستدانوں کے منہ سے کیوں لینن، چی گویرا، منڈیلا، حقیقی آزادی اور عوامی انقلاب جیسے بھاری بھر کم الفاظ جھڑنے لگتے ہیں؟ ہمارے ہاں کسی بھی وزیرِ اعظم نے پچھتر برس میں اپنی مدتِ اقتدار مکمل نہیں کی۔ بعد از ضیا آنے والے ہر وزیرِاعظم نے برطرفی یا سبکدوشی کے بعد برملا کہا کہ ہمارے تو ہاتھ ہی بندھے ہوئے تھے اور ہم مکمل بے اختیار تھے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ آخر کس نے ان کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا کہ معزول یا چوپٹ ہونے سے پہلے یہ کہتے ہوئے اپنا بریف کیس اٹھا کر گھر لوٹ آتے کہ میں لعنت بھیجتا ہوں اس بے اختیار کرسی پر، کیا ان ہمارے وزرائے اعظم میں سے کوئی ایک بھی تھا جس نے یہ کہہ کر اقتدار لینے سے معذرت کر لی ہو کہ میں گتے کے سیٹ پر فلمی حکومت ہرگز قبول نہیں کر سکتا۔ کسی ایک بھی وزیراعظم نے یہ کہنے کی جرات نہیں کی کہ میں اس کہانی کا کردار نہیں بن سکتا جس کا مکالمہ نویس اور ہدایتکار عوام یا پارٹی کے بجائے کوئی اور ہو۔

وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے لیے آرمی ایکٹ میں ایک دن میں متفقہ ترمیم کرنے والی پارلیمنٹ آرمی ایکٹ میں یہ اضافہ کیوں نہیں کرتی کہ سپریم کورٹ کی طرح فوج میں بھی سینیئر موسٹ جنرل خود بخود اگلا سپاہ سالار نامزد ہو جائے گا۔ کیا یہ ہمارے سیاستدانوں کا بھول پن ہے، نیت کا فتور یا پھر کسی بھی آئی جی پولیس کی تعیناتی کے عمل میں ’ساڈا بندہ آوے ای آوے‘ کی عادت کا اعادہ ہے؟

Back to top button