جنرل قمر باجوہ کو اپنی مرضی کا جانشین کیوں چاہیے؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ جی ایچ کیو گلے لگا کر خنجر گھونپنے کی کمال مہارت رکھتا ہے۔ جنرل قمر باجوہ کو عمران خان اور نواز شریف کی کوئی پروا نہیں، وہ بس اپنا ایک ایسا جانشین چننا چاہتے ہیں جو اُنھیں شاہانہ انداز میں رخصت کرے تا کہ وہ بہت محنت سے حاصل کیے گے مال اور مراعات سے بھرپور لطف اٹھا سکیں۔ لیکن انتقام سے بوجھل فضا میں یہ ایک مشکل امر ہے، لہٰذا اگر ایسا نہ ہو پائے تو پھر وہ ایک اور مدت کے لیے توسیع بھی لے سکتے ہیں۔ ہفت روزہ دی فرائیڈے ٹائمز کے تازہ ایڈیٹوریل میں نجم سیٹھی کہتے ہیں وزیر دفاع، خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ نئے آرمی چیف کی نامزدگی کا عمل شروع ہوگیا ہے، اور اسے بدھ تک مکمل ہوجاناچاہیے۔ لیکن ان کے ساتھی، وزیر داخلہ، رانا ثنا اللہ کا دعویٰ ہے کہ یہ عمل مکمل ہوچکا ہے، فیصلہ کر لیا گیا، اور بس اعلان کرنا باقی ہے جو کسی بھی دن کیا جا سکتا ہے۔
اس دوران وزیرخزانہ اسحاق ڈار، جنھیں عملی طور پر نائب وزیرا عظم کا درجہ حاصل ہے، ایوان صدر گئے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ جنرل باجوہ کی ریٹائرمنٹ سے چند دن پہلے کسی جرنیل کی نامزدگی کی ایڈوائس صدر علوی تک پہنچے تو اُن کی طرف سے کوئی تاخیر نہ ہو۔ اس پر عمران کے بلند آہنگ ترجمان فواد چوہدری نے برہم ہوتے ہوئے تحریک انصاف کے حامیوں کو تسلی دی ہے کہ صدر علوی وہی کچھ کریں گے جو عمران کی ہدایت ہوگی۔ وہ ڈار کی درخواست کوخاطر میں نہیں لائیں گے۔ اس دوران وزیرا عظم شہباز شریف کے کرونا کی وجہ سے قرنطینہ میں چلے جانے کی رپورٹ ہے لیکن وہ اتحادیوں اور شراکت داروں، خاص طور پر مولانا فضل الرحمن اور آصف زرداری کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور مشاورت کا عمل جاری ہے۔ مولانا نے وزیرا عظم سے ملاقات بھی کی ہے۔ اگر یہ سب کچھ حیران کن ہے تو ذرا دھیان دیں کہ لکیر کے دوسری طرف کیا ہورہا ہے؟
نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ عمران خان نے اس مسئلے پر اتنے موقف اختیار کیے ہیں کہ اب تو ان کے بیانات الجھی ہوئی ڈوری کی طرح ہیں جس کا کوئی سرا نہیں ملتا۔اُنھوں نے جنرل قمر باجوہ پر تنقیدی حملے شروع کیے۔ الفاظ کا چناؤ ایسا تھا کہ انسان دہرا بھی نہیں سکتا۔لیکن بالآخر اُنھیں چھے ماہ تک کی توسیع دینے کی وکالت کرنے لگے تاکہ اگلے انتخابات تک وہ عہدے برقرار رہیں۔ یہاں تک کہ نئی منتخب ہونے والی حکومت ان کا جانشین کا تقرر کردے۔ اس کے بعد عمران نے کہا کہ نئے آرمی چیف کا چناؤ پی ڈی ایم حکومت کر سکتی ہے لیکن ایسا میرٹ پر کیا جائے۔ پھر ساتھ ہی میرٹ کی جگہ سنیارٹی کی بات کرنے لگے۔
کہا کہ آرمی چیف کا چناؤ اس طر ح سنیارٹی کی بنیاد پر ہو جیسے چیف جسٹس آف پاکستان کا ہوتا ہے۔ عمران نے یہ بھی وضاحت کی ہے کہ لانگ مارچ کا ہدف اور مقصد پی ڈی ایم حکومت پر دباؤ ڈالنا ہے کہ تاکہ وہ عام انتخابات کا انعقاد فوری طور پر کرے، اور اس میں کسی صورت تاخیر نہ کی جائے۔ لیکن حیرت ناک بات یہ ہے کہ لانگ مارچ کی دانستہ منصوبہ بندی اس طرح کی گئی ہے کہ یہ ٹھیک اس تاریخ کو اسلام آباد میں داخل ہو جب نئے آرمی چیف کا اعلان کیا جائے۔ اس سے قوی تاثر ملتا ہے کہ اُن کا ہدف الیکشن کے انعقاد کی بجائے آرمی چیف کی تعیناتی کے فیصلے پر اثر انداز ہونا ہے۔
نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ جی ایچ کیو بھی گلے لگانے اور خنجر گھونپنے کی مہارت میں کسی سے کم نہیں۔ ایک گروپ ایک ”سینئر ترین“ جنرل کی حمایت کر رہا ہے، جب کہ دوسرا گروپ ایک اور ”سینئر ترین“ جرنیل کے پیچھے کھڑا ہے۔ سینیارٹی کے ایشو پر چھڑ جانے والی بحث نے ابہام کی دھند مزید گہری کر دی ہے اور یہ بھی کہ حکومت کے لیے اس معاملے کو نمٹانا کتنا آسان یا مشکل ہو گا۔ اس حوالے سے موجودہ چیف بھی اپنے مفادات کو دیکھتے ہوئے کسی ایک امیدوار کے پشت پناہی کر رہے ہیں اور وہ امیدوار وہ ہے جو عمران سے اُن کا پیچھا چھڑائے، انھیں محفوظ راستہ اور ضمانت دے کہ اُنھیں اس طرح تنگ نہیں کیا جائے گا کہ جس طرح وردی اتارنے کے بعد جنرل مشرف کو کیا گیا تھا۔ اگر ایسا کرنے میں ناکام رہیں تو پھر وہ اگلے چھے ماہ کی توسیع لے کر اگلے الیکشن کرائیں اور نئے چیف کی تعیناتی کے عمل کو اپنے کنٹرول میں رکھیں۔
نجم سیٹھی کے بقول، اس زور، زبردستی، دھونس، دھمکی سے جڑی ستم ظریفی کو زندگی اور تاریخ کی ایک حقیقت بے نقاب کردیتی ہے: وہ حقیقت یہ ہے کہ ہر آرمی چیف نے اپنے محسن کو نقصان پہنچایا۔ جنرل ایوب خان نے صدر اسکندر مرزا کو برطرف کیا، جنرل یحییٰ خان نے ایوب خان کو نکال باہر کیا، جنرل ضیاء الحق نے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کے تختے پر لٹکایا، جنرل وحید کاکڑ نے صدر اسحاق خان کو گھر بھیجا، جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کو معزول کیا، جنرل اشفاق کیانی نے جنرل مشرف کی رخصتی کی راہ ہموار کی، جنرل راحیل شریف نے نواز شریف سے جان چھڑانے کے لیے دھرنے کی بساط سجائی، جنرل قمر باجوہ نے باری باری نواز شریف اور عمران خان کے اقتدار کے پتے کاٹنے والی قینچی کی دھار تیز کی۔ لیکن شہباز شریف کی قسمت کا ابھی کچھ پتہ نہیں۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل آصف نواز سے منسوب ایک مشہور جملہ ہے: ”یارا، اس چیف کی ’چیچی‘ یعنی چھوٹی انگلی دیکھو! جب اس کا ایک اشارہ پانچ لاکھ مسلح فوج کو متحرک کر سکتا ہے تو آرمی چیف اس کے آدمی کے علاوہ کوئی اور کیسے ہو سکتا ہے؟“
سیٹھی کہتے ہیں کہ اگلے دس دنوں میں ہم حکمران اشرافیہ کے مختلف طبقوں میں اقتدار کے لیے دیوانہ وار کوشش دیکھیں گے۔ اس میں دھوکا دہی، چکما بازی، دغا بازی، مکاری، منافقت اور ممکنہ طور پر خون ریزی کی بھی نوبت آسکتی ہے۔ پی ڈی ایم حکومت ”اپنا آدمی“ چاہتی ہے جو اگلے عام انتخابات تک اس کے اقتدار کی حمایت کرے اور عمران کو ان سے دور رکھے۔ دوسری طرف عمران ایسا بندہ چاہتے ہیں جو پی ڈی ایم کو حکومت سے نکال باہر کرے اور 2018 کی طرح اسے ایک بار پر مسند اقتدار پر بٹھا دے۔ جنرل باجوہ کو عمران خان اور نواز شریف کی کوئی پروا نہیں، وہ بس ایسا جانشین چننا چاہتے ہیں جو اُنھیں شاہانہ انداز میں رخصت کرے تا کہ وہ بہت محنت سے حاصل کی گئی مراعات سے بھرپور لطف اٹھا سکیں۔ لیخن اگر ایسا نہ ہوسکے تو پھر اُنھیں ایک اور مدت کے لیے توسیع مل جائے۔
نجم سیٹھی سوال کرتے ہیں کہ ایسے میں اگلا آرمی چیف کیا کرے گا؟ ایسا لگتا ہے کہ یہ خوف ناک حد تک غیر معمولی واقعات کا تسلسل ہم پہلے بھی دیکھ چکے ہیں۔ جب روم جل رہا تھا تو نیرو بانسری بجا رہا تھا۔ جب ہندوستان نوآبادیاتی تسلط کا شکار ہورہا تھا تو بہادر شاہ ظفر شعرو سخن کی محفلیں آباد کیے بیٹھا تھا۔ اور ایک ایسے وقت کہ جب پاکستان منہدم ہو رہا ہے، ہماری حکمران اشرافیہ اقتدار کی چھینا جھپٹی میں مصروف ہے۔
