جنرل باجوہ نے فیکٹ فوکس کے الزامات کو مسترد کردیا

معروف تحقیقاتی ویب سائٹ فیکٹ فوکس نے ایک تفصیلی رپورٹ میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے خاندان پر اپنے چھ سالہ دور اقتدار میں ارب پتی بننے کا الزام عائد کیا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس وقت جنرل باجوہ کا خاندان 12 ارب روپے سے زائد مالیت کے اثاثوں کا مالک ہے۔ تاہم جنرل باجوہ کے قریبی ذرائع نے اس الزام کی سختی سے تردید کی ہے اور اسے جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیا ہے۔
معروف تحقیقاتی صحافی احمد نورانی نے فیکٹ فوکس کے لیے اپنی رپورٹ میں دعوی کیا ہے کہ جنرل قمر باجوہ جب لیفٹیننٹ جنرل بنے تھے تو ان کی اہلیہ ٹیکس فائلر ہی نہیں تھیں۔ لاہور میں ان کا سب سے قریبی دوست صابر حمید مٹھو ایک اچھا بزنس مین تو تھا لیکن ارب پتی نہیں تھا۔
اب صابر جنرل باجوہ کے بڑے بیٹے کا سسر بننے کے علاوہ تین ارب روپے سے زائد مالیت کی جائیداد کا مالک بھی بن چکا ہے۔
جوں جوں دونوں خاندان آگے بڑھے اور ان کا تعلق دوستی سے رشتہ داری میں بدلا تو دولت کی دیوی ان پر اچانک مہربان ہو گئی۔یوں چھ سال کی قلیل مدت میں دونوں خاندان نہ صرف ارب پتی ہو گئے بلکہ انہوں نے بین الاقوامی سطح پر کاروبار بھی شروع کر دیا، انہوں نے بیرونِ ملک متعدد جائیدادیں خریدیں، اور سرمایہ بیرون ملک منتقل کرنا شروع کیا، دونوں اسلام آباد اور کراچی میں بڑے بڑے فارم ہاوسز، لاہور میں کمرشل پلاٹوں، کمرشل پلازوں اور ایک بہت بڑے رئیل اسٹیٹ پورٹ فولیو کے مالک بھی بن گئے۔
فیکٹ فوکس کے لیے اپنی رپورٹ میں احمد نورانی نے دعوی کیا ہے کہ پچھلے چھ سالوں کے دوران جنرل قمر باجوہ کے خاندان کے افراد کی طرف سے پاکستان اور بیرونِ ملک بنائی جانے والی جائدادوں اور قائم کئے گئے کاروباروں کی کل مالیت 12.7 ارب ہے۔ رپورٹ میں جنرل قمر باجوہ کے قریبی رشتہ داروں اور خاندان کے مختلف افراد کے مالی معاملات کی تفصیلات انفرادی طور پر دی گئی ہیں۔
احمد نورانی کا کہنا ہے کہ انہوں نے جنرل باجوہ کی جائیداد کے حوالے سے موقف لینے کے لیے فوجی ترجمان میجر جنرل بابر افتخار سے بار بار رابطے کی کوشش کی لیک۔ انھوں نے کالز کا جواب نہیں دیا۔ صابر حمید مٹھو نے بھی فیکٹ فوکس کی طرف سے رابطہ کرنے پر بات نہیں کی۔
احمد نورانی کے مطابق کہانی جنرل باجوہ کی اہلیہ عائشہ امجد سے شروع ہوتی اور صابر حمید مٹھو اور ان کے خاندان کے دیگر افراد کی مالی ترقی پر منتج ہوتی ہے۔رپوٹ کے مطابق جنرل قمر باجوہ نے مالی سال 2013 میں اپنے انکم ٹیکس گوشواروں میں اپنی اہلیہ کے نام تین جائیدادیں ڈکلئیر کیں تھیں جو کہ ڈی ایچ اے لاہور اور ڈی ایچ اے اسلام آباد میں واقع تھیں۔
ان میں پہلی جائیداد ایک کنال کا پلاٹ تھا، دوسری جائیداد 8 مرلے کا پلاٹ تھا اور تیسری جائیداد چار مرلے کا پلاٹ تھا۔ جنرل باجوہ نے ابتدائی طور پر یہ ٹیکس گوشوارے اور ویلتھ سٹیٹمنٹ 30 نومبر 2013 کو جمع کرائی تھی۔ تاہم چیف آف آرمی اسٹاف مقرر ہونے کے بعد انہوں نے اسی سال سے متعلقہ ویلتھ اسٹیٹمنٹس میں تین بار نظر ثانی کی۔
سال 2013 کے لیے نظرثانی شدہ ویلتھ سٹیٹمنٹ میں، جنرل باجوہ نے ڈی ایچ اے لاہور کے فیز آٹھ میں ایک کمرشل پلاٹ شامل کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ درحقیقت انہوں نے یہ پلاٹ 2013 میں خریدا تھا لیکن ڈکلئیرکرنا بھول گئے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہ بھول اگلے چار سال تک یوں ہی جاری رہی اور آرمی چیف بننے کے ایک سال بعد 2017 میں یکدم انھیں سب کچھ یاد آگیا۔جنرل باجوہ کی اہلیہ عائشہ امجد 10 اگست 2016 کو ٹیکس فائلر ہوئیں۔ ان کے شوہر نومبر 2016 میں ملک کا اگلا آرمی چیف مقرر کیے جانے کے لیے امیدوار تھے۔
2016 کا سالانہ ریٹرن اور ویلتھ سٹیٹمنٹ ایف بی آر کے ساتھ ان کا پہلا اندراج تھا جو کہ 28 اکتوبر 2016 کو باجوہ کے آرمی چیف مقرر ہونے سے صرف تین ہفتے قبل جمع کرایا گیا تھا۔اپنے 2016 کے ٹیکس گوشواروں میں مسز باجوہ نے کسی وضاحت کے بغیر آٹھ دیگر اثاثے ڈکلئیر کئے۔ اس سے پہلے عائشہ امجد نے گزشتہ مالی سال 2015 کے دوران انہی اثاثوں کی قیمت صفر ڈکلئیر کی تھی۔ 2017 کی ویلتھ سٹیٹمنٹ میں دیگر اثاثے ڈیکلئیر کئے گئے اور دو جائیدادوں کی وضاحت دی گئی۔
ان میں سے پہلی جائیداد ڈی ایچ اے لاہور کے فیز سِکس میں ایک کمرشل پلازہ تھی اور دوسری جائیداد ڈی ایچ اے لاہور کے فیز فائیو میں 4047 مربع فٹ کا ایک زیر تعمیر فلیٹ تھا۔ سال 2018 کے ٹیکس ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ مسز باجوہ نے پچھلے سال کے تمام اثاثوں کی ملکیت کے ساتھ اس سال 5 عدد مذید کمرشل اور رہائشی جائیدادیں خریدیں اور ایک غیر ملکی ڈالر اکاؤنٹ کا بھی ذکر کیا جس میں تین لاکھ 84 ہزار ڈالرز کا بیلنس دکھایا گیا جو کہ پاکستانی روپوں میں 35 کروڑ سے زائد بنتے ہیں۔
سال 2018 میں مسز قمر باجوہ نے اپنی جو مزید 5 جائیدادیں دکھائیں ان میں ڈی ایچ اے کراچی میں ایک فارم ہاؤس، پی اے ایف ہاؤسنگ اسکیم کراچی میں ایک اپارٹمنٹ، ڈی ایچ اے لاہور میں چار مرلے کا کمرشل پلاٹ اور اسلام آباد کے سکھ چین ٹاور میں ایک شاندار رہائشی اپارٹمنٹ شامل ہیں۔ مسز باجوہ کے اگکے سال یعنی 2019 کے گوشواروں سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی تمام جائیدادیں اسی طرح برقرار رہیں ماسوائے ایک کے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ایک نئی جائیداد بھی ڈکلئیر کی۔ عائشہ امجد نے اس سال ایک جائداد 43 کروڑ روپوں میں بیچی۔ اسکے بعد انہوں نے فوری طور پر ان پاکستانی روپوں کو امریکی ڈالرز میں تبدیل کروا لیا۔ یاد رہے کہ ان دنوں پاکستانی کرنسی کی قدر تیزی سے گر رہی تھی۔یہ رقم غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹ میں 6 لاکھ 56 ہزار امریکی ڈالرز تک پہنچ گئی جو کہ 66 کروڑ پاکستانی روپے بنتے ہیں، اس کے علاوہ ان کے دیگر بینک اکاونٹس میں بھی نقد رقم اور پرائز بانڈز موجود تھے جن کے گوشواروں سے تصدیق کی جا سکتی ہے۔
اس سال مسز جنرل باجوہ کی پچھلی تمام جائیدادیں اسی طرح برقرار رہیں لیکن اس دوران گلبرگ گرینز اسلام آباد میں دو بڑے فارم ہاؤس خریدے گئے۔ اسی برس انکے فارن کرنسی اکاونٹ میں بیلنس 47 کروڑ ڈالرز ہو گیا یعنی ان کے پاس پاکستابی روپوں میں 39 کروڑ مزید آئے، گلبرگ گرینز اسلام آباد کے سیکٹر بی میں دونوں نئے فارم ہاؤس دس دس کنال کے تھے۔ مسز باجوہ نے ڈکلئیر کیا کہ انہوں نے ایک فارم ہاؤس 50 کروڑ روپے میں خریدا ہے اور دوسرا 100 کروڑ روپوں میں خریدا۔ تاہم، گلبرگ گرینز کے سیکٹر بی میں ایک دس کنال فارم ہاؤس کی کم از کم قیمت ڈیڑھ سو کروڑ روپے تھی۔ لہٰذا، دو فارم ہاؤسز کی کم از کم قیمت 300 کروڑ روپے ہوگی۔ ان فارم ہاؤسز میں سے ایک گلی 9A اور گلی 8 کے سنگم پر ایک کارنر پلاٹ تھا۔ یہ دونوں فارم ہاؤس ملحقہ ہیں اور گلبرگ گرینز کی اہم ترین جگہ پر 20 کنال پر مشتمل یہ خاصی قیمتی پراپرٹی ہے۔
احمد نورانی کا کہنا ہے کہ مسز جنرل قمر باجوہ کے مالی عروج کا سفر 2016 میں صفر سے شروع ہوا اور چھ سالوں میں کئی ارب تک پہنچ گیا۔ یاد رہے اس میں رہائشی پلاٹ، کمرشل پلاٹ اور فوج کی طرف سے اپنے شوہر کو دیئے گئے مکانات وغیرہ شامل نہیں ہیں۔
