چین کی بغیر ڈرائیور کے چلنے والی ٹرین آ گئی

چین نے پہلی بار بغیر ڈرائیورکے چلنے والی ٹرین متعارف کرادی ۔منصوبے کو پہلے مرحلے میں عوام کیلئے کھولاگیا ہے ۔عوام 10کلومیٹر سے زائد فاصلہ ٹرین پر طے کر سکیں گے۔فضا میں معلق نظر آنے والی مونو ریل ٹرین 60 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر سکے گی۔ٹرین کا تمام تر آپریشن جیسے چلنا، اسٹیشنز پر رکنا یا دروازے کھلنا وغیرہ مکمل طور پر آٹومیٹک ہے اور اس کے لیے انسانوں کی ضرورت نہیں۔
رپورٹ کے مطابق آپٹکس ویلی ٹریک نامی کمپنی اس ٹرین کو چلا رہی ہے اور اس کے مطابق مونو ریل کا ڈیزائن منفرد ہے۔کمپنی نے بتایا کہ یہ ٹرین ایک سنگل لائن پر معلق نظر آتی ہے اور اس پر سفر کرنے والے افراد کو ٹریفک جام جیسے مسئلے سے نجات مل جائے گی۔یہ ٹرین فضا میں الٹی معلق نظر آتی ہے اور اس میں سفر کرنے والے افراد ووہان شہر کا منفرد نظارہ کر سکتے ہیں۔فضا میں معلق ہونے کی وجہ سے اسے اسکائی ٹرین بھی کہا جاتا ہے۔ابتدائی مرحلے میں اس ٹرین پر 220 افراد سفر کر سکیں گے۔یہ ٹرین مقناخیزی نظام کے تحت سفر کرے گی یعنی ٹرین پٹری کے مقناطیسی میدان
پنجاب میں انجکشن سے بینائی متاثرہ افراد کی تعداد 77 ہوگئی
پر ہوا میں معلق ہوکر چلتی ہے۔
