ڈالر سستا ہونے کے باوجود پیٹرول کیوں مہنگا ہونے والا ہے؟

پاکستان میں وزیر خزانہ کی تبدیلی سے ڈالر کی قیمت تو نیچے آنا شروع ہوگئی لیکن اس کی وجہ سے اوپر جانے والی پیٹرولیم مصنوعات کی قیتمیں نیچے نہیں لائی جا رہی ہیں بلکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 5 سے 15 روپے کے اضافے کا امکان ہے۔ البتہ اگر موجودہ ٹیکس کی شرح برقرار رہی تو 15 اکتوبر کے بعد آئندہ پندرہ دن کے لیے پیٹرول کی قیمتوں میں تقریباً 11 روپے فی لیٹر کمی کا امکان ہے، حالیہ ٹیکس کی شرح کے تحت پیٹرول کی قیمت تقریباً 10.75 روپے فی لیٹر کم ہو کر 214 روپے تک پہنچنے کا امکان ہے، جبکہ اس کے مقابلے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت تقریباً 11.50 روپے فی لیٹر اضافہ کے بعد 247 روپے تک پہنچنے کا امکان ہے۔
اسی طرح مٹی کے تیل کی قیمت 4 روپے 50 پیسے فی لیٹر اضافے کے بعد 196 روپے جبکہ لائٹ ڈیزل آئل (ایل ڈی او) کی قیمت 7 روپے 50 پیسے فی لیٹر اضافے کے بعد 194 روپے تک پہنچنے کا امکان ہے، دوسری جانب بینچ مارک میں بین الاقوامی خام تیل کی قیمتوں میں گزشتہ 2 ہفتوں کے دوران کمی ہوئی لیکن اسی عرصے کے دوران ہائی اسپیڈ ڈیزل میں پریمیئم اور مارجن میں اضافے کے سبب ملک میں ہائی اسپیڈ ڈیزل کی درآمدات کی لاگت پر بھی اثر پڑا ہے۔
تیل برآمد کرنے والے بڑے ممالک کی جانب سے تیل کی پیداوار میں کمی کے اعلان کے بعد رواں ہفتے خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ہوا ہے، لیکن یکم نومبر سے اگلے پندرہ دنوں میں تیل کی قیمتوں میں تبدیلی واقع ہوسکتی ہے، عہدیدار کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کے دورہ امریکا پر منحصر ہے کہ وہ مغربی ممالک کے ساتھ کس طرح کی ایڈجسٹمنٹ کرتے ہیں۔.اس صورت میں آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ معاہدہ کے تحت پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی (پی ڈی ایل) اونچی سطح تک پہنچ سکتا ہے لیکن اس سے ہائی اسپیڈ ڈیزل پر فرق پڑے گا، اسی لیے آئی ایم ایف کے معاہدے کے تحت 50 روپے فی لیٹر پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کی حد کو حاصل اور جنوری اور اپریل میں مہنگائی سے بچنے کیلئے حکومت بین الاقوامی قیمتوں کے رجحان پر عمل کرے گی۔
البتہ پیٹرول، ہائی اسپیڈ ڈیزل، مٹی کا تیل اور لائٹ ڈیزل آئل سمیت تمام اہم مصنوعات پر جی ایس ٹی صفر ہے جبکہ عام جی ایس ٹی 17 فیصد ہے تاہم حکومت پیٹرول پر تقریباً 32 روپے 42 پیسے فی لیٹر لیوی وصول کر رہی ہے، ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 12 روپے 58 پیسے، مٹی کے تیل پر 15 روپے اور لائٹ ڈیزل آئل پر 30 روپے فی لیٹر کے علاوہ ہائی آکٹین بلینڈنگ پر 30 روپے فی لیٹر لیوی عائد کی جارہی ہے۔
اس کے علاوہ حکومت پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 22 روپے فی لیٹر کسٹم ڈیوٹی بھی عائد کر رہی ہے، حکومت نے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل دونوں ایندھن کے لیے ماہانہ پی ڈی ایل میں 5 روپے اضافے کا عہد کیا تھا تاکہ یہ جنوری میں پیٹرول کے لیے اور اپریل میں ڈیزل کے لیے 50 روپے تک پہنچ جائے، جس سے رواں مالی سال کے دوران 855 ارب روپے اکٹھے کیے جائیں تاہم سیلاب اور اقتصادی سست روی کی وجہ سے پی او ایل کی کھپت میں نمایاں کمی کی وجہ سے ہدف حاصل کرنا مشکل نظر آ رہا ہے۔
