ڈوبتے پاکستان میں جماعتیے خواجہ سراؤں سے خوفزدہ کیوں؟

ایک ایسے وقت میں کہ جب سیلاب کی آفت سے نمٹنے کے لیے اپنے اختلافات بھلا کر یکسوئی سے مصیبت زدگان کی بحالی کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے، قیام پاکستان کی مخالفت کرنے والی جماعت اسلامی کے ایک سینیٹر کو یاد آ گیا کہ چار سال پہلے ہماری پارلیمان نے خواجہ سراؤں کو تمام شہریوں کے برابر حقوق دینے کا جو فیصلہ کیا تھا وہ اسلام کے خلاف ایک سازش ہے اور ہمارے مثالی خاندانی نظام پر ایک حملہ ہے۔ لیکن وہ بتانا بھول گئے کہ یہ وہی خاندانی نظام ہے جس میں خاندان پر لازم ہے کہ اگر گھر میں نور مقدم کا گلا کاٹا جا رہا ہو یا ڈمبل سے سارہ کا سر کچلا جا رہا ہو تو کوئی مسلمان بھائی مداخلت نہ کرے کیونکہ اس سے خاندان بدنام ہو سکتا ہے۔
بی بی سی اردو کے لئے تازہ تحریر میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے معروف مصنف اور لکھاری محمد حنیف کہتے ہیں کہ ہو سکتا ہے میری طرح آپ نے بھی کبھی سینیٹر مشتاق کا نام نہ سنا ہو لیکن آپ نے جماعت اسلامی کا نام ضرور سنا ہو گا۔ اس کے بانی امیر کا نام مولانا مودودی تھا جو قائد اعظم کو کافر اعظم کہا کرتے تھے۔ لیکن اگر آپ لوگوں نے جماعت اسلامی کا نام بھی نہیں سنا تو انکے فلاحی ادارے الخدمت فائونڈیشن کا نام حالیہ سیلاب کے دنوں میں ہر طرف گونج رہا ہے۔ الخدمت کے کارکن وہاں وہاں پہنچ کر لوگوں کی مدد کر رہے ہیں جہاں اور کوئی نہیں پہنچ سکتا۔ کشتیوں میں لوگوں کو ان کے گھروں سے نکال رہے ہیں۔ ان کے لیے خیمے، دوائیں پہنچا رہے ہیں۔ کسی کی مدد کرنے سے پہلے اس سے اس کا مذہب یا فرقہ نہیں پوچھتے۔ آپ نے بھی وہ ویڈیوز دیکھی ہوں گی جس میں الخدمت کے رضاکار اپنی جان پر کھیل کر بلیوں اور کتوں کو محفوظ مقامات تک پہنچا رہے ہیں۔ میں ذاتی طور پر کئی ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو جماعت اسلامی کے نظریاتی مخالف ہیں، کبھی زندگی میں جماعت کو ووٹ دینے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ لیکن سیلاب زدگان کی امداد کے لیے چندہ صرف جماعت اسلامی کی تنظیم الخدمت کو دیتے ہیں۔
محمد حنیف کہتے ہیں کہ جماعت اسلامی کے یہ سارے نیک اور احسن کام دیکھ کر کئی دردمند پوچھتے ہیں کہ لوگ چندہ تو جماعت اسلامی کو دیتے ہیں لیکن ووٹ کیوں نہیں دیتے؟ اس کا سیدھا سا جواب ہے سینیٹر مشتاق جیسے لوگ اور ان کی ذہنیت جو بقول ایک خواجہ سرا کے اس مصیبت کے وقت میں بھی خواجہ سراؤں کی شلواریں ٹٹول رہی ہے۔ کون نہیں جانتا کہ خواجہ سرا پاکستان کا شاید سب سے دھتکارا ہوا طبقہ ہیں۔ کئی سالوں سے پاکستان کے کئی علاقوں میں ان کی ٹارگٹ کلنگ جاری ہے۔ پاکستان کے دھتکارے ہوئے لوگ بھی انھیں دھتکارتے ہیں۔ پاکستانی مرد اس سے بڑی گالی کوئی نہیں سمجھتا کہ کوئی اسے خواجہ سرا یا کھسرا کہہ دے۔ ان کی قسمت میں یہی دیکھا گیا ہے کہ وہ یا تو بھیک مانگیں یا ناچیں گائیں۔ اپنے گھر والوں سے بھی گالیاں کھائیں اور بازار میں بھی رسوا ہوں۔
محمد حنیف کہتے ہیں کہ ایسے ماحول میں اگر کوئی اپنے حقوق کی بات کرنے والا یا پڑھا لکھا خواجہ سرا نظر آ جائے تو ہماری مشرقی روایات خطرے میں پڑ جاتی ہیں۔ اسی لیے چار سال پہلے جب خواجہ سراؤں کو تقریباً انسان ماننے والا قانون پاس ہوا تو ایک خوشگوار حیرت ہوئی کہ اگر ہمارے قانون دان سر جوڑ کر بیٹھ جائیں تو مظلوموں کا بھلا بھی کر سکتے ہیں۔ حنیف کہتے ہیں کہ سینیٹر مشتاق نے قوم کو نہیں بتایا کہ جب سے یہ قانون پاس ہوا ہے ہمارے ملک میں فحاشی اور عریانی میں کتنا اضافہ ہوا ہے، خواجہ سراؤں نے کتنے لوگوں کی شادیاں تڑوائی ہیں، کتنے پاکباز نوجوانوں کو راہِ راست سے گمراہ کیا ہے۔ اور کیا ہمارا ایمان، ہمارا ملک، ہمارا معاشرہ اتنی کمزور بنیادوں پر کھڑا ہے کہ خواجہ سراؤں کو انسان ماننے سے اس کی بنیادیں ہلنے لگتی ہیں۔ جماعت اسلامی کو چاہیے کہ اگر وہ واقعی اس معاشرے کو سدھارنا چاہتی ہے اور کچھ ووٹ بھی لینا چاہتی ہے تو ٹی وی پر الخدمت کے رضاکاروں کو بھیجے اور خواجہ سراؤں کے خواب دیکھنے والے سینیٹر حضرات کو کچھ عرصے کے لیے سیلاب زدہ علاقوں میں بھیجے۔
