آبنائے ہرمز میں کشیدگی عالمی تجارت اور توانائی کےلیے خطرہ ہے : چین

 

 

 

چینی وزارتِ خارجہ نے آبنائے ہرمز میں آزاد، محفوظ اور بلا رکاوٹ بحری آمدورفت کی ضرورت پر زور دیتےہوئے کہا ہےکہ آبنائے ہرمز ایک حساس معاملہ ہے اس کو ذمہ داری اور احتیاط کے ساتھ حل کیا جانا چاہیے تاکہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل متاثر نہ ہو۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان جیان نے بیجنگ میں صحافیوں سے گفتگو کرتےہوئے کہا ہےکہ آبنائے ہرمز بین الاقوامی جہاز رانی کی ایک اہم آبی گزرگاہ ہے، اس لیے یہاں آزاد اور محفوظ نقل و حمل کی بحالی تمام ممالک کے مفاد میں ہے۔

ترجمان چینی وزارت خارجہ نے کہا کہ اس حساس معاملے کو ذمہ داری اور احتیاط کے ساتھ حل کیا جانا چاہیے تاکہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل متاثر نہ ہو۔

پاسداران انقلاب کے اردن، بحرین اور کویت میں امریکی فوجی اڈوں پر حملے

دوسری جانب یورپی کمیشن کی نائب صدر کایا کالاس نے کہا ہےکہ یورپی یونین کے وزرائے خارجہ جلد خلیجی ممالک کے نمائندوں سے ملاقات کریں گے تاکہ خطے کی سکیورٹی اور آبنائے ہرمز کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا جاسکے۔

کایا کالاس نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان عبوری معاہدہ بظاہر مؤثر ثابت نہیں ہورہا اس لیے یورپی یونین اس بات پر زور دےگی کہ آبنائے ہرمز میں سابقہ معمول کی صورت حال بحال کی جائے۔

کایا کالاس نے واضح کیا کہ بین الاقوامی جہاز رانی کی آزادی کا ہرصورت احترام ہوناچاہیے اور اس اہم بحری راستے پر کسی قسم کے ٹول ٹیکس یا اضافی فیس عائد نہیں کی جانی چاہیے۔

 

Back to top button