ڈونلڈ لو کو دوستی کی آفر عمران کا سب سے بڑا یوٹرن قرار

سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اپنی حکومت گرانے کی سازش کا مرکزی کردار قرار دیے جانے والے امریکی عہدیدار ڈونلڈ لو کو اب تحریک انصاف کی جانب سے لکھا جانے والا ایک صلح نامہ اس وقت سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں ہے جسے عمران کے سیاسی کیرئیر کا سب سے بڑا یوٹرن قرار دیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ پی ٹی آئی کے اوورسیز چیپٹر کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ ریار نے نائب امریکی معاون وزیر خارجہ برائے جنوبی اور وسطی ایشیائی امور ڈونلڈ کو ماضی بھلا کر آگے بڑھنے کی پیشکش کی ہے۔
اس سے پہلے مارچ میں عمران خان نے بطور وزیر اعظم ایک عوامی جلسے میں دعویٰ کیا تھا کہ ان کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے جمع کرائی گئی تحریک عدم اعتماد ان کی خارجہ پالیسی کے باعث ‘غیر ملکی سازش’ کا نتیجہ ہے اور انہیں عہدے سے بے دخل کرنے کے لیے بیرون ملک سے فنڈز دیے گئے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ ان کے دعوے کی بنیاد وہ کیبل مراسلہ ہے جو کہ واشنگٹن میں پاکستان کے سابق سفیر نے 7 مارچ کو اسلام آباد بھیجا تھا جس میں سازش کی تفصیل درج تھی۔ اس خط میں امریکہ میں سابق پاکستانی سفیر اسد مجید خان کی ڈونلڈ لو سے پاکستانی سفارتخانے میں ملاقات کی تفصیل درج تھی۔ اس مراسلے میں بیان کی گئی گفتگو سبکدوش ہونے والے پاکستانی سفیر کے الوداعی ظہرانے پر ہوئی تھی۔ تاہم شہباز شریف کے وزیر اعظم بننے کے بعد قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں اسد مجید خان نے فوجی قیادت کی موجودگی میں بتایا تھا کہ انکے لکھے ہوئے خط میں کسی سازش یا دھمکی کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ تاہم ڈونلڈ لو نے جو عمران خان کے اسی روز دورہ ماسکو پر اعتراض کیا تھا جس روز روس نے یوکرین پر حملہ کیا تھا۔
سابق پاکستانی سفیر کے ساتھ اپنی طویل گفتگو کے دوران ڈونلڈ لو نے پی ٹی آئی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے بارے میں بھی سوالات کیے تھے کیونکہ ان دنوں یہ معاملہ میڈیا میں بہت زیادہ زیر بحث تھا۔ دوسری جانب جوبائیڈن انتظامیہ عمران خان کی جانب سے امریکہ پر اپنی حکومت گرانے میں ملوث ہونے کے الزام کو سختی سے رد کر چکی ہے۔
ایسے میں اب یہ خبر آئی ہے کہ عمران خان کی جماعت نے اپنے سابقہ موقف سے یو ٹرن لیتے ہوئے اب اسی امریکی عہدیدار ڈونلڈ سے صلح کی کوششیں شروع کر دی ہیں جس پر حکومت گرانے کی سازش کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ اس خبر پر جب پی ٹی آئی کے رہنما فواد چودھری سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ میں چیک کر کے بتاتا ہوں۔ خیال رہے کہ 4 اپریل 2022 کو بنی گالہ میں تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی کے اجلاس میں عمران خان نے کہا تھا کہ امریکا کے جس نمائندے نے دھمکی آمیز الفاظ استعمال کیے اس کا نام ڈونلڈ لو ہے۔
اس سے قبل عمران خان نے ”سازشی خط” کے مبینہ کردار امریکی عہدیدار ڈونلڈ لوو کو برطرف کرنے کا مطالبہ کر دیا تھا۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے عمران کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ لوو کو برطرف کیا جانا چاہیے۔ تصور کریں کہ وہ پاکستانی سفیر سے ایک منتخب وزیر اعظم سے جان چھڑانے کے لئے کہہ رہے تھے۔
پی ٹی آئی چیئرمین کا کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے پاکستان کے اندورنی معاملات میں بھرپور مداخلت کی گئی ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ ڈونلڈ لو کی ملاقات سے پہلے امريکی سفارتکار ہمارے ارکان اسمبلی سے کیوں مل رہے تھے، انہیں ہمارے غیر اہم اراکین اسمبلی سے ملاقاتوں کی آخر کیا ضرورت تھی؟ بعد میں یہی لوگ ہمیں چھوڑ کر اپوزیشن کے ساتھ چلے گئے۔
ایک سوال کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظاميہ سے ميرے بہت اچھے تعلقات تھے لیکن بائيڈن انتظاميہ کے بعد اس میں تبديلی آئی۔ اسی وقت افغانستان ميں حالات بدلے۔ دورہ ماسکو پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ روس نے ہميں 30 فيصد کم پر تيل اور گيس دينے کی پيشکش کی تھی۔ روس کا دورہ بہت پہلے سے طے تھا، اسٹيک ہولڈرز کو اعتماد ميں ليا گيا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی عہدیدار نے ہمارے سفیر کو کہا کہ اگر عمران کیخلاف تحریک عدم کامیاب ہوگئی تو پاکستان کو معاف کردیا جائے گا۔
لیکن اب اس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے دعوی کیا ہے کہ ہم نے ڈونلڈ لُو سے پی ٹی آئی کی معافی کی کوششوں کا تمام ریکارڈحاصل کر لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی رہنما کی ملاقات اور امریکی حکومت سے معافی کے شواہد آچکے ہیں، عمران خان کی ہوا نکل گئی ہے ان کی جانب سے اب ڈونلڈ لُو سے منتیں ترلے کیے جا رہے ہیں اور معافی مانگی جا رہی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ پاکستان میں امریکا کے خلاف نعرے لگوانے والا اب امریکا کے پیر پکڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے امریکا کو پیغام بھیجا ہے کہ ہم سے غلطی ہوگئی ہے، وہ امریکا سے معاملات ٹھیک کرنا چاہتے ہیں اور درخواست کی ہے کہ تعلقات کا سلسلہ وہیں سےشروع کیا جائے جہاں سے ٹوٹا تھا۔ دوسری جانب عمران خان کے بدزبان چیف آف سٹاف شہباز گل کا کہنا ہے کہ خواجہ آصف عادتاً جھوٹ بولتے ہیں اور صرف کنفیوژن پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دھمکی آمیز خط ہماری حکومت سے چھپایا جارہا تھا لیکن ہم نے حلق میں ڈال کر نکلوایا۔ تاہم جب ان سے پوچھا گیا کہ یہ خط کون چھپا رہا تھا تو انہوں نے جواب دینے سے انکار کر دیا۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ شہباز گل سفید جھوٹ بول رہے تھے چونکہ عمران کی جانب سے مبینہ دھمکی آمیز خط پبلک کیے جانے کے فوری بعد سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک انٹرویو میں تسلیم کیاتھا کہ سفیر کا خط ملنے کے دو روز بعد ہی انہوں نے اسے پڑھ لیا تھا اور پھر عمران خان کو بھی آگاہ کر دیا تھا۔
