ڈونلڈ ٹرمپ کلوروکوئن کے استعمال کی تجویز پر ڈٹ گئے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کورونا کے علاج کےلیے ملیریا کی دوا کی استعمال کی تجویز کا طبی ماہرین کی تنقید اور جان لیوا اثرات کے خدشات کے باوجود دفاع کررہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز کہا تھا کہ وہ کلوروکسی کلوروکوئین کا استعمال کررہے ہیں اور اس کے حیران کن نتائج سامنے آئے ہیں جب کہ طبی ماہرین نے اس پر خدشات کا اظہار کیا تھا جس کو صدر نے مسترد کردیا ہے۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ انہوں نے کسی ثبوت کے بغیر تجویز دے دی ہے جب کہ ایک سروے سے اس جو نتائج سامنے آئے ہیں اس کے مطابق دوا ٹھیک نہیں اور یہ بدترین بیان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے ماہرین صحت بھی خبردار کرچکے ہیں کہ اس دوا کو صرف اسپتال اور تحقیق کےلیے استعمال کرلینا چاہیے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈپارٹمنٹ آف ویٹرن افیئرز کی سروے پر عدم اطمینان اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ‘اگر ایک آپ سروے کو دیکھیں تو وہ بری سروے ہے کیوں کہ انہوں نے ایسے لوگوں کو چنا جن کی حالت تشویش ناک ہے’۔
کابینہ کے اجلاس میں ان کا کہنا تھا کہ ‘ان لوگوں کی حالت خطرناک تھی اور تقریباً مرچکے تھے اور یہ نتیجہ ٹرمپ دشمن ہے’۔ کووڈ-19 کےلیے اس دوا کے استعمال پر تحقیقی پرچے شائع ہوچکے ہیں، جن میں دو اہم مضامین ہیں جس میں نیویارک سے 1400 مریضوں کا جائزہ لیا گیا ہے اور اس دوا سے کووڈ-19 کے علاج میں کوئی اثر نہیں ڈالا۔
اسی طرح میڈیکل جرنل بی ایم جے میں دو مضامین شائع ہوئے ہیں جس کے نتائج بھی مختلف نہیں ہیں اور بڑے پیمانے پر اس دوا کو کووڈ-19 کے علاج کےلیے موزوں نہیں سمجھا جاتا۔ ٹرمپ نے اپنے بیان کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہائیڈوروکسی کلوروکوئین کے استعمال کا فیصلہ وائٹ ہاؤس کے دو ملازمین کا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد کیا لیکن وہ طبی ماہرین کی مخالفت کے باجود کئی مہینوں سے اس تجویز کو پھیلا رہے ہیں۔ ری پبلکن کے سینیٹرز سے ملاقات کےلیے کیپٹل ہل کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ‘یہ صرف ایک فیصلہ ہے جس کو کرنا ہے’۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘اس تجویز کی برائی اس لیے کی جارہی ہے کیوں کہ اس پر میں بات کررہا ہوں’۔ اٹلانٹنا کی ایموری یونیورسٹی کے ماہر وبائی امراض ڈاکٹر کارلوس ڈیل ریو کا کہنا تھا کہ کئی محقیقین نے ہائیڈروکسی کلوروکوئین کو کورونا وائرس کو روکنے یا اعلان کےلیے مفید قرار دیا ہے لیکن اس وقت ایسی کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ یہ حکمت عملی کارآمد ہے۔ ایف ڈی اے کمشنر اسٹیفن ہان کا کہنا تھا کہ ‘کسی بھ دوا و علاج کےلیے استعمال کرنا ڈاکٹر اور مریض کا باہمی فیصلہ ہے’۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز ٹرمپ نے اپنے کورونا وائرس کا ٹیسٹ منفی آنے اور علامات ظاہر نہ ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس دوا کو احتیاطی تدابیر کے طور پر تقریباً ڈیڑھ ہفتے سے استعمال کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میں روز ایک گولی کھاتا ہوں اور اس کے ساتھ زنک بھی لیتا ہوں‘۔ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے لگتا ہے کہ یہ بہت اچھا ہے اور میں نے اس کے بارے میں بہت سی اچھی باتیں سنی ہیں‘۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ریسٹورانٹس کی صنعت کےلیے منعقدہ اجلاس کے دوران کہا کہ ’آپ کو یہ سن کر حیرت ہوگی کہ کتنے لوگ بالخصوص فرنٹ لائن ورکرز اسے لے رہے ہیں اور میں بھی اس کا استعمال کر رہا ہوں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میں ہائیڈرو اوکسی کلوروکوئن کا استعمال کر رہا ہوں، چند ہفتوں قبل میں نے اس کا استعمال شروع کیا تھا‘۔
واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ کورونا وائرس سے لوگوں کے ایک چھوٹے سے گروہ کو خطرات ہیں۔ انہوں نے وائرس کے خطرے کے پیش نظر ماسک پہننے کی تجویز کو بھی مسترد کردیا تھا جبکہ ان کے اسٹاف کے زیادہ تر افراد عوام میں ماسک پہن کر سامنے آتے ہیں۔
یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ذاتی معاون سمیت امریکی نائب صدر مائیک پینس کی پریس سیکریٹری کیٹی ملر میں بھی کورونا وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے۔
