ڈیمنشیا اور تنہائی پسندی کے درمیان واضح تعلق سامنے آگیا

نفسیاتی ماہرین کے مطابق ڈپریشن کی وجہ سے انسان اکتاہٹ اور تنہائی پسندی کا شکار ہوجاتا ہے لیکن امریکا میں کی گئی ایک طویل تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہی دونوں کیفیات ڈیمنشیا کی علامت بھی ہوسکتی ہیں۔
سان فرانسسکو کی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا میں 70 سے 80 سال کے 2000 سے زائد مریضوں پر 9 سال تک جاری رہنے والی اس تحقیق میں ڈیمنشیا اور تنہائی پسندی/ اکتاہٹ کے درمیان واضح تعلق سامنے آیا ہے۔ اس تحقیق کے مطابق یہ تعلق اس قدر نمایاں ہے کہ اسے ڈیمنشیا کی علامت بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔ تاہم یہ رویہ ڈیمنشیا کی وجہ ہر گز نہیں۔ ڈیمنشیا کوئی ایک بیماری نہیں بلکہ مختلف دماغی امراض کا مجموعی نام ہے اور ان سب کی وجہ دماغی خلیوں کا تیزی سے ختم ہونا ہے جس کے نتیجے میں الزائیمرز اور پارکنسنز جیسی بیماریاں لاحق ہوجاتی ہیں۔ اس تحقیق میں دیکھا گیا کہ جن بزرگوں میں تنہائی پسندی اور خلافِ معمول اکتاہٹ کی علامات جتنی زیادہ تھیں، ان کے ڈیمنشیا میں مبتلا ہونے کے امکانات بھی اتنے ہی زیادہ اور نمایاں تھے۔ حتی کہ وہ بزرگ جو شدید قسم کی تنہائی پسندی اور اکتاہٹ میں مبتلا تھے، ان میں دوسرے صحت مند اور معمول کے مطابق میل جول رکھنے والے بزرگوں کے مقابلے میں ڈیمنشیا کا شکار ہونے کا امکان 80 فیصد سے بھی زیادہ تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button