کراچی حملے کے بعد پاک چین تعلقات کشیدگی کا شکار

کراچی یونیورسٹی میں بلوچستان لبریشن آرمی کے خودکش حملے میں تین چینی باشندوں کی ہلاکت کے بعد چین اور پاکستان کے تعلقات دوبارہ کشیدگی کا شکار ہو گئے ہیں۔ ماضی کی طرح اس مرتبہ کراچی یونیورسٹی حملے کے بعد بھی پاکستان میں کام کرنے والے چینی ملازمین واپس تو نہیں بلائے گئے لیکن چین نے اپنے شہریوں کی حفاظت میں ناکامی پر حکومت پاکستان کے ساتھ سخت احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔
سینیٹ کی دفاعی کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین سید کے مطابق چین کا اپنے شہریوں اور منصوبوں کے تحفظ کے لیے پاکستان کے سیکیورٹی نظام پر اعتماد کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ یاد رہے کہ کراچی یونیورسٹی میں چینی زبان سکھانے والے والے اساتذہ ہر حملہ ایک سال میں پاکستانی سرزمین پر چینی شہریوں پر ہونے والا تیسرا دہشت گردانہ حملہ تھا۔ اس واقعے نے چین میں شدید تشویش اور غصہ پیدا کیا ہے، چین کا گلہ ہے کہ پاکستان میں اس کے شہریوں پر باقاعدہ منصوبے کے تحت مسلسل حملے ہو رہے ہیں اور پاکستانی حکام انہیں روکنے میں ناکام ہیں۔ چینی حکام نے پاکستان کے ساتھ احتجاج ریکارڈ کرواتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واضح ہے کہ پاکستان کی جانب سے کیے گے فول پروف سیکیورٹی کے وعدے محض لفاظی ہیں اور عملی طور پر پاکستانی حکام مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ چین نے احتجاج ریکارڈ کرواتے ہوئے پاکستان کو وارننگ بھی دے دی یے۔ چینی حکام نے کہا ہے کہ اگر ایسے حملے جاری رہے تو نہ صرف چینی بلکہ دیگر غیر ملکی سرمایہ کار بھی پاکستان میں سرمایہ کاری پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ کراچی حملے کے بعد سے بڑی تعداد میں چینی ملازمین کی پاکستان چھوڑنے کی خبریں سوشل میڈیا پر گرم تھیں، لیکن چینی ذرائع نے ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی سے ہفتہ وار پرواز پر پاکستان میں مقیم چینی مزدوروں اور شہریوں کی ایک معمول کی نقل و حرکت ہوئی ہے جسے سوشل میڈیا پر مرضی کا رنگ دے کر پیش کیا گیا ہے۔ تاہم ذرائع نے کہا کہ دہشت گردانہ حملے یہاں رہنے والی چینی کمیونٹی کے اعتماد کو متاثر کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں پاک چین سی پیک منصوبہ اور گوادر منصوبہ بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔
بیجنگ میں ایک پریس کانفرنس میں چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لیجیان ژاؤ نے امید ظاہر کی ہے کہ دہشت گرد قوتوں کی جانب سے دونوں ممالک کے باہمی اعتماد اور تعاون کو نقصان پہنچانے کی سازش کامیاب نہیں ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ کراچی حملے کی تحقیقات کرنے، سچ سامنے لانے، مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنے اور دونوں ممالک کے عوام کو اعتماد میں لینے کے لیے چین پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ چین پاکستان میں چینی اہلکاروں، منصوبوں اور اداروں کی حفاظت کے لیے پاکستان کے مضبوط حفاظتی اقدامات کو اہمیت دیتا ہے اور دوطرفہ تعاون میں محفوظ اور ہموار پیش رفت کو یقینی بنانے اور مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنے کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔
دوسری جانب کراچی یونیورسٹی میں خود کش حملہ کرنے والی بلوچ قوم پرست خاتون شاری بلوچ کا ڈاکٹر شوہر اپنے دو کمسن بچوں سمیت ابھی تک مفرور ہے اور تحقیقاتی ادارے اسے گرفتار کرنے میں ناکام ہیں۔ بی بی سی سے رابطے میں آنے کے بعد شاری بلوچ کے شوہر ہیبتان بلوچ نے اعتراف کیا ہے کہ اسے اپنی اہلیہ کے خودکش مشن بارے معلوم تھا لیکن یہ نہیں پتا تھا کہ وہ کس روز اور کہاں پر حملہ کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی اہلیہ نے بلوچ کاز کی خاطر اپنی جان قربان کی ہے جو کوئی آسان کام نہیں، خصوصا دو معصوم بچوں کی ماں کے لئے۔
