کراچی طیارہ حادثہ: پائلٹ اور ایئر ٹریفک کنٹرولرذمہ دار قرار

کراچی ایئر پورٹ کے قریب گر کر تباہ ہونے والے پی آئی اے طیارہ حادثے کی عبوری تحقیقاتی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کر دی گئی ہے جس میں حادثے کا ذمہ دار پائلٹس اور ایئر ٹریفک کنٹرولر کو قرار دیا گیا ہے۔تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پائلٹ اور اے ٹی سی نے مروجہ طریقہ استعمال نہیں کیا، پائلٹس کے ذہن پر کورونا سوار تھا، دونوں پائلٹس کے خاندان کرونا سے متاثر تھے، دونوں پائلٹس پرواز کے دوران حاضر دماغ نہیں تھے اور ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی کا شکار تھے، پائلٹس کے فوکس نہ ہونے کی وجہ سے حادثہ ہوا.
وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کراچی پی آئی اے طیارہ حادثے کی عبوری تحقیقاتی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کردی۔ بدھ کو قومی اسمبلی میں طیارہ حادثے کی عبوری رپورٹ پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا کہ پائلٹس نے دوران پرواز کسی تیکنیکی خرابی کی شکایت نہیں کی۔غلام سرور خان کا کہنا تھا کہ جہاز نے کراچی ایئر پورٹ کے لیے جب ‘اپروچ’ بنائی تو رن وے سے 10 ناٹیکل میل دور طیارے کی بلندی مقررہ حد 2500 فٹ سے کہیں زیادہ 7200 فٹ تھی۔ اے ٹی سی نے کیبن کریو کو آگاہ کیا کہ وہ اپنی بلندی کم کرنے کے لیے دوبارہ لینڈنگ اپروچ بنائیں۔ لیکن پائلٹ نے کہا کہ کوئی مسئلہ نہیں وہ ‘مینج’ کر لیں گے۔وزیر ہوا بازی نے کہا کہ لاہور سے لے کر کراچی تک کے سفر میں پائلٹس کرونا وبا سے متعلق گفتگو کرتے رہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اُن کا فوکس نہیں تھا۔ کیوں کہ اُن کے خاندان کے افراد بھی کرونا وبا سے متاثر تھے۔غلام سرور خان نے کہا کہ ایئر ٹریفک کنٹرولر بھی اپنی ہدایات پر عمل کرانے میں مکمل طور پر ناکام رہا۔
قومی اسمبلی میں رپورٹ پیش کرتے ہوئے غلام سرور خان نے کہا کہ حادثے کے دن ہی انکوائری کمیشن تشکیل دے دیا تھا جب کہ طیارہ حادثے کے 3 روز بعد فرانسیسی تفتیشی ٹیم پاکستان آ ئی اور جائے حادثہ کا دورہ کیا۔ وزیر ہوا بازی نے کہا کہ صاف شفاف انکوائری ہورہی ہے، انکوائری میں سینئر پائلٹس کو بھی شامل کیا گیا تاہم حادثے کی مکمل رپورٹ تیار ہونے میں ایک سال کا وقت لگے گا۔انہوں نے بتایا کہ ابتدائی رپورٹ کے مطابق طیارہ پرواز کے لیے 100 فیصد فٹ تھا، پائلٹس بھی طبی طور پر جہاز اڑانے کے لیے فٹ تھے جب کہ پائلٹس نے دوران پرواز کسی قسم کی تکنیکی خرابی کی نشاندہی نہیں کی۔ اُنہوں نے کہا کہ لینڈنگ اپروچ کے وقت بھی جب پائلٹ سے بلندی کم کرنے کا کہا گیا تو اُس نے کنٹرول ٹاور کی ہدایات نظر انداز کرتے ہوئے دوبارہ کرونا پر گفتگو شروع کر دی۔ غلام سرور خان نے کہا کہ رن وے سے 10 ناٹیکل میل دور پہلے طیارے کے لینڈنگ گیئر کھولے گئے اور حیران کن طور پر پانچ ناٹیکل میل پر لینڈنگ گیئر دوبارہ بند کر دیے گئے۔ اُنہوں نے کہا کہ طیارے نے لینڈنگ گیئر کے بغیر رن وے پر لینڈنگ کے مقررہ مقام 1500 فٹ یا تین ہزار فٹ سے بھی آگے 4500 فٹ پر لینڈنگ کی کوشش کی۔ طیارے کے انجنز تین دفعہ رن وے سے ٹکرائے جس کے بعد طیارہ دوبارہ ہوا میں بلند ہوا۔
غلام سرورخان نے مزید بتایا کہ ائیر ٹریفک کنٹرولر نے 3 بار پائلٹس کی توجہ مبذول کروائی کہ لینڈنگ نہ کریں ایک چکر اورلگائیں لیکن پائلٹس نے ائیر ٹریفک کنٹرول کی ہدایات کو نظر انداز کیا، رن وے سے 10 میل کے فاصلے پر جہاز کو 2500 فٹ پر اڑنا چاہیے تھا، اس وقت جہاز 7220 فٹ کی بلندی پر تھا اور یہ پہلی خلاف ورزی تھی، کنٹرولر نے تین بار پائلٹ کو بتایا اور لینڈنگ نہ کرنے کو کہا، جہاز کے لینڈنگ گیئر 10 ناٹیکل مائلز پر کھولے گئے، 5 ناٹیکل مائلز پر پہنچنے کے بعد لینڈنگ گیئر پھر اوپر کر لیے گئے۔
وفاقی وزیر نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ رن وے پر 1500 سے 3 ہزار فٹ پر جہاز رن وے کو ٹچ کر سکتا ہے ، جہاز رن وے پر انجن رگڑنے سے متاثر ہوا اور آگ نکلی، پائلٹ نے پھر ہدایات کو نظر انداز کر کے جہاز اڑا لیا، کنٹرولر کی بھی غلطی تھی اسے پائلٹ کو بتانا چاہیے تھا، جہاز جب اوپر اٹھایا تو دونوں انجنز متاثر ہو چکے تھے، دوبارہ اس نے لینڈنگ کی اجازت مانگی، جو اسے اپروچ دی گئی وہ بد قسمتی سے وہاں نہ پہنچ سکا اور سویلین آبادی میں گر گیا، پائلٹ اور کنٹرولر دونوں نے مروجہ طریقہ کار کو اختیار نہیں کیا، آخری الفاظ پائلٹ نے تین بار یا اللہ ادا کیے۔
غلام سرور خان کا کہنا تھا کہ پائلٹ اور کو پائلٹ کے ذہنوں پر کورونا سوار تھا، ساری گفتگو کورونا پر کر رہے تھے، کنٹرولر کی کال بھی جلدی میں سن کے کہا گیا میں مینیج کر لوں گا، زیادہ خود اعتمادی دیکھنے کو ملی، پائلٹ نے جہاز کو آٹو کنٹرول سے مینوئل پر منتقل کیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ طیارہ گرنے سے 29 گھروں کو نقصان پہنچا ہے جن گھروں پر طیارہ گرا ان کا سروے کروادیا ہے جب کہ گھروں کے نقصانات کا بھی سروے کرایا گیا ہے، جن گھروں کو نقصان پہنچا ہے ان کا ازالہ بھی جلد کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی ذاتی دلچسپی اور کورونا کی صورتحال کے باوجود انکوائری بورڈ نےفرائض منصبی انجام دیے، ایک عوامی رائے سامنے آئی کہ پائلٹس کو بھی انکوائری کمیٹی کا حصہ بنایا جائے جس پر 2 پائلٹس کوکمیٹی کا حصہ بنایا، مکمل انکوائری رپورٹ میں تمام ترمعاوضہ جات، محرکات اور حقائق سامنے لائیں گے، مکمل رپورٹ بھی اس ایوان کی سامنے پیش کی جائے گی۔غلام سرور نے کہا کہ بد قسمتی سے پی آئی اے کے 4 پائلٹس کی ڈگریاں جعلی نکلیں، بدقسمتی سے پائلٹس کو بھرتی کرتے وقت میرٹ کو نظر انداز کیا گیا، پائلٹس کو بھی سیاسی بنیادوں پر بھرتی کروایا جاتا ہے، جودکھ کی بات ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت کو بھی ہم تمام حقائق سے متعلق آ گاہ کررہے ہیں اور ذمے داروں کے خلاف بلا تفریق ایکشن ہوگا۔
غلام سرور خان نے انکشاف کیا کہ پی آئی اے میں کام کرنے والے 40 فی صد پائلٹس کے لائسنس جعلی ہیں۔ پائلٹس کو سیاسی بنیادوں پر بھرتی کیا جاتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ جعلی لائسنس رکھنے والے پائلٹس کے خلاف کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
خیال رہے کہ 22 مئی کو لاہور سے کراچی جانے والے پی آئی کا طیارہ لینڈنگ سے چند لمحے قبل آبادی پر گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے میں عملے کے آٹھ ارکان سمیت 97 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ حادثے میں دو افراد معجزانہ طور پر محفوظ رہے تھے۔
بعدازاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا کہ انکوائری کا مقصد معاملات کی اصلاح کرنا ہے۔ ماضی میں ہمارے اداروں میں بے شمار کرپشن اور بے ضابطگیاں ہوئیں۔ بھرتیاں کرنے والے ذمہ دار کرداروں تک بھی پہنچ چکے ہیں۔ وزیر ہوا بازی غلام سرور خان کا میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کہنا تھا کہ کتنے دکھ کی بات ہے کہ اداروں میں اتنی کرپشن اور بے ضابطگیاں ماضی میں ہوئیں، پھر کہا جائے گا کہ پچھلے اداور پر بات کی جا رہی ہے۔ پی آئی اے میں 600 افراد کی ڈگریاں ٹھیک نہیں تھیں، چار پائلٹس کی ڈگریاں بھی جعلی نکلیں۔
غلام سرور خان کا کہنا تھا کہ ایسے تمام لوگوں کو شوکاز نوٹس جاری کیے جائیں گے۔ ایسے پائلٹ کسی بھی ایئرلائنز میں کام کر رہے ہیں ان ساروں کو گراؤنڈ کرنا ہے تاکہ وہ فلائی نہ کر سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے 1970ء میں اور اب کہاں ہے۔ خدا کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں سیاست نہیں بلکہ بلا تفریق کارروائی ہوگی۔ اداروں کی تباہی کی وجہ سیاسی مداخلت تھی۔ ہم نے ایک بھی کوئی سیاسی بھرتی، ٹرانسفر یا مداخلت نہیں کی۔انہوں نے انکشاف کیا کہ یونینز کے لوگ ڈیوٹیاں لگاتے تھے کہ فلاں پائلٹ کینیڈا اور فلاں شکاگو جائے گا۔ سابق دور میں تو جہاز بھی چوری کر لیا گیا تھا۔ یہ معاملہ عدالت میں ہے، جو فیصلہ ہوگا اس پر عمل کریں گے۔
دوسری طرف سیکریٹری جنرل پاکستان پائلٹس ایسوسی ایشن (پالپا) عمران ناریجو نے عبوری رپورٹ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ مکمل رپورٹ نہیں ہے اس میں کئی خامیاں ہیں۔مقامی ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا دونوں پائلٹس خود کش مشن پر نہیں نکلے تھے وہ بھی انسان تھے اور اُنہیں بھی اپنی جان عزیز تھی۔عمران ناریجو نے کہا کہ اسی لیے ہم مطالبہ کرتے تھے کہ تحقیقاتی بورڈ میں مزید لوگ شامل ہونے چاہئیں۔اُنہوں نے کہا کہ تحقیقاتی رپورٹ میں تمام پہلوؤں کا جائزہ لینا چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button