کرنل انعام کو جاسوس قرار دے دیا گیا، رہائی کا حکم معطل

بالآخر وہی ہوا جو سکیورٹی سٹیٹ آف پاکستان میں ایسے معاملات میں اکثر ہوتا آیا ہے. سکیورٹی اداروں نے پہلے لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں لاپتہ افراد کی آواز بننے والے کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کی رہائی کے فیصلے پر عمل درآمد سے انکار کیا اور پھر بزرگ وکیل کو دشمن کا جاسوس قرار دے دیا جس کے بعد سپریم کورٹ نے بھی ان کی رہائی کا ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کردیا.
یاد رہے کہ اس سے پہلے کرنل انعام رحیم پر یہ الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے آرمی چیف کے توسیع کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو پاکستان آرمی ایکٹ کی ایک کاپی فراہم کی تھی جو کے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔ تاہم اس الزام کو کرنل انعام کی گرفتاری کا مناسب جواز نہ بنتا دیکھ کر ریاستی اداروں نے الزام کی نوعیت بدلتے ہوئے کرنل انعام کو دشمن کا جاسوس ڈیکلیئر کر دیا ہے جو ملک میں جاسوسی کا ایک بڑا نیٹ ورک چلا رہا تھا۔
14 جنوری کے روز سپریم کورٹ میں انعام الرحیم کی رہائی کے خلاف حکومتی اپیل کی سماعت جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔ اٹارنی جنرل نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کرنل (ر) انعام الرحیم عملی طور پر دشمن کے لیے جاسوسی کررہے رھے تھے اور ان سے حساس معلومات ملی ہیں۔ اس کام میں وہ اکیلے نہیں تھے بلکہ ان کا ایک پورا جاسوس نیٹ ورک ہے جس نے آئی ایس آئی اور ملک کے جوہری پروگرام سمیت حساس معلومات دشمن کو افشا کیں اورآفیشل سیکریٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کی۔ اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ کرنل انعام رحیم کے مبینہ خفیہ نیٹ ورک کے کئی لوگ اداروں کے ہاتھوں گرفتار ہو چکے ہیں جن میں سے ایک کو پھانسی ہو چکی ہے جب کہ مزید لوگ بھی گرفتار ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ جاری تحقیقات کے دوران کرنل انعام کو اہلخانہ سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
اٹارنی جنرل کے کرنل انعام سے متعلق دشمن کا جاسوس ہونے کے روایتی دلائل سننے کے بعد حسب توقع سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ بادی النظر میں کرنل (ر) انعام الرحیم کے خلاف ٹھوس مواد موجود ہے۔
سماعت کے دوران اٹارنی جنرل انور منصور خان نے عدالت کو بتایا کہ ’کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم سے حساس نوعیت کی انفارمیشن اور مواد برآمد ہوا ہے۔ انہوں نے کرنل انعام الرحیم کی گرفتاری پر ابتدائی رپورٹ سربمہر عدالت میں پیش کی۔
بینچ کے سربراہ جسٹس مشیر عالم نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے زیرحراست شخص کوبتایا ہے کہ ان پر کون کون سے الزامات ہیں؟ جس پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ان کو بتا دیا ہے کہ آپ پر کیا الزامات ہیں اور اب وہ ملزم ہیں۔ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ’کرنل انعام الرحیم سے لیپ ٹاپ برآمد ہوا ہے جس میں نیوکلیئر اور آئی ایس آئی سے متعلق حساس معلومات ملی ہیں۔‘ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ’تحقیقات کے لیے آپ کو کتنا وقت درکار ہوگا؟ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ابھی اس حوالے سے حتمی طور پر کچھ کہا نہیں جا سکتا کیونکہ انعام الرحیم اکیلے نہیں ان کے ساتھ اوربھی لوگ ہیں۔ کچھ لوگوں کو حراست میں لیا جاچکا ہے اورکچھ کوحراست میں لینا باقی ہے۔‘
جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ’آپ کا مطلب ہے کہ ان کے پاس جو معلومات تھیں وہ انہوں نے دشمن سے شئیر کیں اور کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم ایک جاسوس ہے؟‘ اٹارنی جنرل نے جواب دیا ’جی کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم ایک جاسوس ہیں۔ ان کے خلاف ابھی تحقیقات چل رہی ہیں۔ ان کے پیچھے پورا ایک نیٹ ورک ہے جس میں متعدد لوگوں کی گرفتاریاں ہونی ہیں۔ جب تک تحقیقات مکمل نہیں ہوتیں کورٹ مارشل سے متعلق کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ جب تحقیقات مکمل ہوں گی تو کرنل ریٹائرڈ انعام کے پاس تمام حقوق ہوں گے۔‘ چنانچہ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ بادی النظر میں کرنل ریٹائرڈ انعام رحیم کے خلاف ٹھوس ثبوت موجود ہیں چنانچہ ان کی ہائی کورٹ کے ہاتھوں ہونے والی ضمانت کے فیصلے کو منسوخ کیا جاتا ہے۔ عدالت نے ہائی کورٹ میں داخل کردہ تمام ریکارڈ طلب کر لیا اور سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی کر دی۔
یاد رہے کہ حکومت نے سپریم کورٹ میں انعام الرحیم کی رہائی کے ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا اور سپریم کورٹ نے آج کے دن حکومت کو حکم دیا تھا کہ کرنل انعام کو عدالت میں پیش کیا جائے تاہم ہم حکومت نے 14 جنوری کو بھی ان کو عدالت میں پیش نہیں کیا بلکہ ان کی ضمانتیں ہی منسوخ کروادی۔
کرنل انعام کے خاندان کے افراد نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اب ریاستی ادارے کرنل انعام کو اس پرانے مقدمے میں پھنسا سکتے ہیں جس میں پہلے ہی ایک فوجی افسر کو پھانسی دی جا چکی ہے۔ یاد رہے کہ سو۔ماہ پہلے پاکستان آرمی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک بریگیڈئر رینک کے افسر کو امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے لئے جاسوسی کرنے پر غداری کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔
فوجی ذرائع کے مطابق بریگیڈیئر رضوان کو پاکستان کی نیوکلیئر میزائل ٹیکنالوجی کے حوالے سے خفیہ معلومات سی آئی اے اور را کو بیچنے کے الزام میں گرفتار کرکے اس کا کورٹ مارشل کیا گیا تھا۔ 31 مئی 2019 کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے دو فوجی افسران اور ایک سول افسر کو جاسوسی اور غیر ملکی ایجنسیوں کو حساس معلومات فراہم کر نے کے الزام میں دی گئی سزا کی توثیق کی تھی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ان افسران کا پاکستان آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت علیحدہ علیحدہ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کیا گیا تھا۔ جن افسران کو سزائیں دی گئی ان میں بریگیڈئیر (ر) راجہ رضوان کو سزائے موت، لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال کو چودہ سال قید با مشقت اور شاہین میزائیل ٹیکنالوجی پراجیکٹ سے وابستہ ایک حساس ادارے کے انڈر کور سول ملازم ڈاکٹر وسیم اکرم کو سزائے موت سنائی گئی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button