کرونا کے باعث بیرون ملک ہزاروں پاکستانی بیروزگار

دنیا میں کرونا وائرس پھیلنے کے بعد سے اب تک بیرون ملک ملازمت کرنے والے 15000 سے زائد پاکستانی اپنی نوکریوں سے فارغ کر دئیے گئے ہیں۔ کرونا وائرس کی وجہ سے جہاں ایک طرف دنیا کے تقریباً ہر ملک کی معیشت متاثر ہو رہی ہے وہیں بیروزگاری میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس صورتحال سے ملک کا غریب طبقہ تو متاثر ہے ہی، لیکن سب سے زیادہ پریشانی ایسے پاکستانیوں کے لیے ہے جو نوکری کے غرض سے بیرون ملک مقیم تھے اور اب انھیں فارغ کر دیا گیا ہے۔
سمندر پار پاکستانیوں کی وزارت کے مطابق سعودی عرب کے علاوہ مشرق وسطی کے کئی ممالک مثلاً بحرین، قطر، عمان اور کویت میں بھی ہزاروں پاکستانیوں کو نوکریوں سے نکال دیا گیا ہے۔ تاہم ان لوگوں کی تعداد کے حوالے سے متعلقہ سفارت خانوں سے اعدادوشمار طلب کیے گئے ہیں۔یورپی ملکوں میں مقیم پاکستانیوں کے بارے میں وزارت کے حکام کا کہنا ہے کہ ان ممالک سے پاکستان واپس آنے والے کسی ایسے شخص کی درخواست موصول نہیں ہوئی جس کی نوکری کورونا کی وجہ سے ختم ہوئی ہو۔
سمندر پار پاکستانیوں کی وزارت کے ایک اہلکار کے مطابق مشرق وسطی میں بے روزگار ہونے والے افراد میں سے زیادہ تر دیہاڑی دار ہیں جو ساتھ ساتھ تعمیراتی شعبے میں کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ کئی افراد ٹرانسپورٹ اور فوڈ ڈلیوری کے شعبوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ سعودی عرب میں رہنے والوں کا دعوی ہے کہ وہاں مقیم فیکٹریوں میں کام کرنے اور دیہاڑی لگانے والے کئی پاکستانیوں کی نوکریاں ختم کر دی گئی ہیں۔ وزارت کے حکام کہتے ہیں کہ سعودی عرب سے واپس آنے میں دلچسپی رکھنے والے 873 افراد نے پاکستانی سفارت خانے سے رابطہ کیا ہے تاہم ان کے مطابق ان سب کی نوکریاں ختم نہیں ہوئیں۔ پاکستانی حکام کے مطابق یہ تعداد ان افراد کے علاوہ ہیں جو عمرے کے ویزے پر سعودی عرب گئے ہیں اور ان کا ڈیٹا وزارت مذہبی امور کے پاس ہے۔
تاہم سعودی عرب میں گذشتہ 25 سال سے کاروبار کرنے والے ملک طارق کا کہنا ہے کہ سعودی حکومت کی طرف سے ایسے فیکٹری مالکان کو تین ماہ کی تنخواہ کی مد میں ادائیگی کر دی گئی ہے جہاں پر 10 سے کم افراد کام کرتے ہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ اس کے علاوہ وہاں پر کام کرنے والے پاکستانیوں کے اقامے کی مدت میں ایک ماہ کا اضافہ کر دیا گیا ہے اور اُنھیں اس کی فیس بھی ادا نہیں کرنا پڑی۔
بیرون ممالک میں کام کرنے والے اور نوکری سے فارغ ہونے والوں کی سب سے بڑی تعداد مشرق وسطی کے ممالک میں مقیم ہے۔ وزارت کے حکام کا کہنا ہے کہ جن افراد کی کورونا وائرس کی وجہ سے نوکریاں ختم کی گئی ہیں ان میں سے سب سے زیادہ تعداد متحدہ عرب امارات میں کام کرنے والے پاکستانیوں کی ہے اور وزارت کے اہلکاروں کے مطابق اس وقت متحدہ عرب امارت میں 5500 سے زیادہ ایسے افراد ہیں جو پاکستانی سفارت خانے میں رجسٹر ہو چکے ہیں۔
حکام کے مطابق ان میں سے زیادہ تر مزدور ہیں اور تعمیراتی شعبے سے وابسطہ تھے۔ ایک اندازے کے مطابق نو لاکھ سے زیادہ پاکستانی متحدہ عرب امارات میں مقیم ہیں۔
دبئی کے رہائشی تنویر بٹ کے مطابق نوکریوں سے فارغ کیے جانے کے بعد سینکڑوں پاکستانی اس علاقے میں بےیار و مدد گار رہ رہے ہیں اور اُنھوں نے وطن واپس جانے کے لیے قونصل خانے سے رابطہ کیا لیکن ان کی دادرسی کے لیے عملی اقدامات نہیں کیے جا رہے۔ دو سال قبل روزگار کے سلسلے میں دبئی جانے والے تنویر بتاتے ہیں کہ ان کے کئی جاننے والوں کے پاس اب پیسے ختم ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے وہ شدید پرشانی میں مبتلا ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ گھروں سے باہر نکلنے پر پابندی ہے جس کی وجہ سے راشن لینے کے لیے باہر نکلنا بھی ایک مشکل مرحلہ بن جاتا ہے۔
تاہم متحدہ عرب امارات کی وزارت برائے انسانی وسائل کی طرف سے جاری کیے جانے والے ایک مراسلے کے مطابق وزارت غیر ملکیوں کی بھرتی سے متعلق گائیڈ لائنز میں ترمیم کر رہی ہے۔ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ حکومت ان ممالک کے ساتھ افرادی قوت کے معاہدے پر نطرثانی کرے گی جنہوں نے کرونا وائرس کی وجہ سے اپنے شہریوں کو وطن واپس آنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ جو ممالک اس معاملے میں عدم تعاون کر رہے ہیں وزارت ان پر سخت پابندیاں عائد کرے گی۔
وزارت خارجہ کے حکام کے مطابق اس وقت دنیا بھر سے 39 ہزار کے قریب پاکستانی وطن واپسی کے منتظر ہیں جن میں سے اکثریت متحدہ عرب امارات میں رہتی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پاکستانیوں کو وطن والس لانے کا عمل وسط اپریل سے شروع ہوگا۔ سمندر پار پاکستانیوں کی وزارت کے مطابق ہزاروں پاکستانیوں نے کورونا کی وجہ سے پاکستان واپس آنے کے لیے اپنے ممالک میں سفارت خانوں سے رابطے کیے لیکن پاکستان میں قرنطینہ سینٹزز قائم نہ ہونے کی وجہ سے ان افراد کو وطن واپس لانے کا خطرہ مول نہیں لیا جاسکتا تھا۔ اُنھوں نے بتایا کہ چاروں صوبائی حکومتوں نے بھی ایسی کسی بھی پرواز کو اترنے کرنے کی اجازت نہیں دی جس میں بیرون ممالک سے آنے والے پاکستانی سوار ہوں۔
