کرپشن ریفرنس میں آصف زرداری 20 مئی کو طلب

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے بدعنوانی کے ریفرنس میں سابق صدر آصف علی زرداری کو 20 مئی کو طلب کرلیا۔
احتساب عدالت کے جج سید اصغر علی نے آصف علی زرداری کو بحریہ ٹاؤن کے اکاؤنٹ سے 8 ارب 30 کروڑ روپے کی مشکوک لین دین سے متعلق کیس میں طلب کیا۔ اسی عدالت نے 6 مئی کو آمدن سے زائد اثاثے اور باغ ابن قاسم کرپشن اسکینڈل میں مبینہ کردار پر کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کے پارکس اور باغبانی کے سابق ڈائریکٹر جنرل لیاقت علی قائمخانی پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ قومی احتساب بیورو (نیب) نے 15 اپریل کو ان کے خلاف ریفرنس دائر کیا تھا۔ بیورو باغ ابن قاسم کی اراضی کی غیر قانونی الاٹمنٹ اور اسے کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی (کے ڈی اے) کے دو پلاٹس کے ساتھ غیر قانونی طور پر جوڑنے کے سلسلے میں تحقیقات کر رہا ہے۔ عدالت نے ریفرنس میں کارروائی کا آغاز کیا اور نیب کو ملزمان میں ریفرنس کی کاپیاں تقسیم کرنے کی ہدایت کی۔ نیب نے لیاقت قائمخانی پر سرکاری ملازمت کے دوران 5 مختلف ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں جائیدادیں خریدنے کا الزام عائد کیا۔ اسی معاملے میں نیب نے جون 2019 میں سابق ایگزیکٹو ڈسٹرکٹ افسر سجاد علی عباسی کو گرفتار کیا تھا۔ وہ ایک نجی تعمیراتی کمپنی کو ایمنٹی پلاٹ فراہم کرنے والی کمیٹی کا حصہ ہونے کے ساتھ ساتھ اس ہی کمپنی کو باغ ابن قاسم کی زمین ریگولرائز کرنے والی سندھ لینڈ کمیٹی کا بھی حصہ تھے۔ لیاقت قائمخانی کو ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد چند سال قبل میئر کراچی کا مشیر تعینات کیا گیا تھا۔ انہوں نے سابق میئر کراچی نعمت اللہ خان اور مصطفیٰ کمال کے دور میں بھی اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ گزشتہ سال ستمبر میں نیب نے لیاقت قائمخانی کے گھر سے 8 گاڑیاں، اسلحہ، جائیداد کی فائلیں، زیورات اور کے ایم سی کے سرکاری ریکارڈ قبضے میں لیے تھے۔ پی ای سی ایچ ایس کے بلاک 6 میں ان کے گھر سے تلاشی کے دوران کراچی اور لاہور کے 7 بنگلوں کی دستاویزات بھی ملی تھیں۔ لیاقت قائم خانی کے گھر سے کے ایم سی کی ‘اصل فائلیں’ بھی ضبط کی گئی تھیں۔ دریں اثنا احتساب عدالت نے 8 ارب روپے کے مشکوک لین دین سے متعلق جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کو سماعت کےلیے منظور کرلیا۔ عدالت نے آصف علی زرداری کے اسٹینوگرافر مشتاق احمد کو اس معاملے میں 20 مئی کو طلب کرلیا ہے۔ نیب نے آصف علی زرداری پر الزام لگایا کہ انہوں نے کلفٹن میں اپنا محل نما مکان ناجائز پیسوں سے تعمیر کیا ہے۔ ریفرنس کے مطابق مشتاق احمد نے مکان کی تعمیر کےلیے 15 کروڑ روپے فراہم کیے تھے۔ ریفرنس میں کہا گیا کہ آصف زرداری اپنے دعوے کے شواہد فراہم نہیں کرسکے ہیں کہ انہوں نے مکان قانونی ذرائع سے خریدا تھا۔ ریفرنس کے مطابق مشتاق احمد کے بینک اکاؤنٹ کے ذریعے 8 ارب 30 کروڑ روپے کا غیر قانونی لین دین ہوا جب کہ رقم بحریہ ٹاؤن کو ادا کی گئی۔ ملزم مشتاق احمد 2009 سے 2013 تک ایوان صدر میں سرکاری ملازم کی حیثیت سے کام کرتے تھے۔ انہیں سینیٹر رخسانہ بنگش کی سفارش پر بطور اسٹینوگرافر بھرتی کیا گیا تھا۔ اس کیس کے تیسرے ملزم و بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض کے داماد زین ملک پہلے ہی نیب کے ساتھ پلی بارگین پر دستخط کر چکے ہیں اور انہوں نے قومی خزانے میں 9 ارب روپے جمع کرائے ہیں۔
