کرکٹر نسیم شاہ نےزندگی کے روگ سے جان کیسے چھڑائی؟

اپنی تیز رفتار گیندوں سے بلے بازوں کو ناکوں چنے چبانے والے فاسٹ بائولر نسیم شاہ نے انکشاف کیا ہے زندگی میں ایک موقع ایسا بھی آیا تھا جب انہیں بہت زیادہ ادویات استعمال کرنا پڑی تھیں۔
نجی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں نسیم شاہ نے بتایا کہ میں آج بھی والدہ کی یاد پر بات نہیں کرپاتا، میں ان کے انتقال کے باوجود آج بھی ان سے تنہائی میں باتیں کرتا ہوں، وہ واحد انسان تھیں جن سے میں اپنی زندگی کا ہر اچھا برا شیئر کرسکتا تھا۔
فاسٹ باولر نے جذباتی ہوتے ہوئے بتایا کہ مجھ سے آج بھی والدہ کی یاد کے باعث گاؤں نہیں جایا جاتا، میں وہاں جاؤں تو دروازے دیکھ کر والدہ کا عید ملنا ان کا آنا جانا پھر سے یاد آنے لگتا ہے، مجھے ذہنی تناؤ ہونے لگتا ہے لیکن میں انھیں تصور میں لاکر ان سے باتیں کرتا ہوں۔
نسیم شاہ کے مطابق والدہ کے انتقال کے بعد جذباتی ہو کر ایسی باتیں کرنے لگ گیا تھا کہ میرے کوچز اور منیجر مجھے سمجھاتے تھے کہ ایسی باتوں سے اللہ ناراض ہوجاتے ہیں، میں والدہ کے انتقال کے بعد ایک سال تک ذہنی تناؤ کی گولیاں کھاتا رہا، اس وقت میں ذہنی طور پر اتنا کمزور ہوگیا تھا کہ گھڑی ہاتھ میں پہنی ہوتی تھی اور میں ڈھونڈتا رہتا تھا، میرے ساتھی کھلاڑی بھی جانتے تھے میں کوئی بھی چیز بھول جاتا ہوں جوکہ امی کے انتقال سے پہلے نہیں تھا۔
واضح رہے کہ آسٹریلیا کیخلاف ٹیسٹ ڈیبیو سے قبل فاسٹ بائولر نسیم شاہ کی والدہ دنیا سے کوچ کر گئی تھیں، اطلاع ملنے کے باوجود فاسٹ بائولر پاکستان واپس نہیں آسکے تھے۔
آسٹریلیا میں موجود نسیم شاہ نے اہلخانہ سے مشورے کے بعد پاکستان واپسی کا ارادہ ترک کر دیا تھا، ان کی والدہ کی تدفین آبائی علاقے دیر میں ہوئی۔
نسیم شاہ کی والدہ کے انتقال کے سبب پاکستان اور آسٹریلیا کی ٹیموں کے کھلاڑیوں نے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر میچ کھیلا تھا۔ ذرائع کے مطابق اگر نسیم شاہ یہاں سے پہلی فلائٹ پکڑتے تو بھی وہ اپنی والدہ کی تدفین میں شرکت نہیں کر پاتے، پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان پہلا ٹیسٹ میچ برسبین میں کھیلا گیا تھا۔
اسپنر شاداب خان سمیت متعدد کھلاڑیوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر نسیم شاہ کی والدہ کے انتقال پر گہرے دکھ و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان سے تعزیت کی تھی۔
