کس مائی کے لعل میں عمران کو نااہل کرنے کی جرات ہے؟

تحریک انصاف کے رہنما و سابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہاہے کہ کس مائی کے لعل میں عمران کو نااہل کرنے کی جرات ہے؟آپ پاکستان میں ون پارٹی سسٹم بنانا چاہتے ہیں؟ ہم نے آخری مرحلے کی تیاری کرلی ہے ،13 اگست کو تاریخی جلسہ ہوگا، ہم انہیں انتخابات سے بھاگنے نہیں دیں گے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انکا کہنا تھا میں کل سے دیکھ رہا ہوں کہ کچھ لوگ شہیدوں پر سیاست کر رہے ہیں، اس ملک میں فوج پر سب سے گھٹیا اور رکیک حملے خواجہ آصف نے کیے ہیں جو پاکستان کے وزیر دفاع بن کر بیٹھا ہے، ہم جہلم اور پوٹھوہار کے لوگوں سے زیادہ شہدا کا دکھ کسی کو نہیں ہوسکتا، اس لیے اس طرح کی گھٹیا باتیں نہ کی جائیں، سیاسی فیصلوں کی وجہ سے کچھ معاملہ ہوا ہے لیکن بہرحال وہ ٹھیک ہوجائے گا۔
انہوں نے کہا اسد قیصر، عمران اسمٰعیل، علی زیدی سمیت پی ٹی آئی کے سینئر رہنماؤں کو وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے نوٹس جاری کردیے ہیں، ہمارے دفتر کے 4 ملازمین کو بھی ایف آئی اے نے طلب کیا ہے، اس لیے میں آج اس حوالے سے تفصیلات آپ کو بتانا چاہتا ہوں، یہ کُل 13 اکاؤنٹس ہیں جن میں ہمارے لوگوں کو موصول ہونے والی کُل رقم 2 کروڑ روپے ہے، مریم اورنگزیب بدقسمتی سے پاکستان کی وزیر اطلاعات بن گئی ہیں ارو بڑھ چڑھ کر ایسی باتیں کر رہی ہیں جیسے ان اکاؤنٹس میں کتنے ارب منتقل ہوگئے ہیں،2019 میں الیکشن کمیشن کو جمع کروائے گئے اصل دستاویزات میں یہ 2 کروڑ روپے ڈکلیئر تھے اور اس کے بعد 23 اکتوبر 2019 کو بھی الیکشن کمیشن کے سامنے یہ 13 اکاؤنٹس ڈکلیئر کیے گئے تھے۔
فواد چوہدری نے کہا یہ 2 کروڑ روپے اس لیے منتقل کیے گئے کیونکہ 2012 میں جب فنڈنگ مکمل ہوئی تو 2013 میں الیکشن تھے، ان الیکشنز کے انعقاد کے حوالے سے پی ٹی آئی کے مختلف دفاتر کو انتظامی معاملات چلانے کے لیے یہ پیسہ منتقل کیا گیا، عارف علوی پی ٹی آئی کراچی کا آفس چلا رہے تھے اس لیے ان کو کراچی میں پیسے بھیجے گئے، زمزمہ میں پی ٹی آئی آفس عمران اسمٰعیل چلا رہے تھے اس لیے ان کو بھی پپیسے بھیجے گئے۔
انہوں نے کہا میں دیکھ رہا ہوں کہ رانا ثنااللہ اپنی اوقات سے بڑھ کر باتیں کر رہے ہیں، پاکستانی کی 80 فیصد آبادی پر اس وقت پی ٹی آئی کی حکومت ہے، دو بڑے صوبے مکمل طور پر پی ٹی آئی کے پاس ہیں، رانا ثنا اللہ صرف کوہسار کے اسی ایچ او ہیں اس لیے ان کو ایسی باتیں نہیں کرنی چاہیے،مجھے ابھی تک سمجھ نہیں کہ ایف آئی اے کس حییثیت میں پی ٹی آئی رہنماؤں کو نوٹس جاری کررہا ہے، یہ تمام لوگ 12-2011 میں عوامی عہدوں پر فائز نہیں تھے، اس لیے ہم عدالت گئے ہیں، اگر عدالت نے ہمیں کہا کہ آپ نے ایف آئی اے سے تعاون کرنا ہے تو ہم کریں گے۔
پی ٹی آئی رہنما اس کے ساتھ ساتھ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ 25 مئی کے واقعات پر ایف آئی آر کی درجنوں درخواستیں آرہی ہیں جن میں رانا ثنا اللہ، عطا تارڑ، احمد ملک اور حمزہ شہباز نامزد ہیں، لہذا ایک جے آئی ٹی تشکیل دی جائے گی جو ان تمام لوگوں کو طلب کرے گے، جس طرح ہم سے ایف آئی کے ساتھ تعاون کی امید کی جارہی ہے اسی طرح ہمیں امید ہے کہ یہ لوگ بھی جے آئی ٹی کے ساتھ ان تحقیقات میں تعاون کریں گے اور اسلام آباد میں نہیں چھپیں گے،اس کے علاوہ ماڈل ٹاؤن کیس کے حوالے سے بھی وزیراعلیٰ پنجاب پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ پنجاب حکومت اس کیس میں بھی تیزی سے آگے بڑھے گی۔
انکا کہنا تھا ہمیں امید ہے کہ وفاقی حکومت اس ضمن میں ہمارے ساتھ تعاون کرے گی اور اگر پولیس کو یہ لوگ مطلوب ہوں گے تو ان لوگوں کو عہدے سے ہٹا کر ان کی گرفتاری کی اجازت دی جائے گی۔
انہوں نے اسلام آباد کی عدالت عالیہ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2017 میں سپریم کورٹ نے ایک حکم جاری کیا جس میں کہا گیا کہ ہمیں امید ہے کہ الیکشن کمیشن تمام سیاسی جماعتوں کی غیر ملکی فنڈنگ کا اکھٹا فیصلہ سنائے گا تاکہ لوگ موازنہ کر سکیں کہ سیاسی جماعتیں کیسے فنڈنگ کرتی ہیں، اس کے بعد پی ٹی آئی کے سردار اظہر نے سپریم کورٹ میں درخواست جمع کروائی کہ 19 سیاسی جماعتوں کی فنڈنگ کا آڈٹ ہونا چاہیے، پاکستان کے قانون کے تحت یہ آڈٹ ہر سال ہونا ہے لیکن الیکشن کمیشن نے اس پر عملدرآمد نہیں کیا، اس سے اندازہ لگالیں کہ الیکشن کمیشن نہ صرف جانبدار ہے بلکہ نااہل لوگوں پر بھی مشتمل ہے۔
فواد چوہدری نے کہا پی ٹی آئی کے خلاف فیصلہ بھی اسی نااہلی اور جانبداری کے نتیجے میں آیا ہے اور ان شا اللہ عاشور کے بعد یہ فیصلہ عدالت میں چیلنج ہوگا اور جو بھی نتیجہ ہوگا اس کے مطابق ہم آگے چلیں گے، ان شا اللہ بدھ کو ہم عدالت میں یہ درخواست دائر کررہے ہیں کہ 15 روز کے اندر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے اکاؤنٹس کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے اور جے یو آئی (ف) کے اکاؤنٹس کی بھی جانچ کی جائے جو غیبی امداد پر چلنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔
انکا کہناتھا مسلم لیگ ن کے اکاؤنٹس کا آڈٹ نہیں ہے، اس میں آنے والے فنڈز کے ذرائع کا بھی پتا نہیں ہے، اس کے علاوہ مسلم لیگ (ن) کے ریکارڈ کے مطابق انہوں نے 2013 کے الیکشن میں میڈیا مہم پر ایک ارب 30 کروڑ روپے خرچ کیے جو ان کا پسندیدہ کام ہے لیکن یہ پیسہ کہاں سے آیا ہے اس کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔
سابق وزیر اطلاعات نے کہااب پیپلپزپارٹی کی بات کرلیتے ہیں جو 2 حصوں میں ہے، ایک پاکستان پیپلزپارٹی اور دوسری پیپلزپارٹی پارلیمینٹیرینز ہے، پیپلزپارٹی نے بڑا دلچسپ جواب لکھا ہے کہ ہمیں پیسے پیپلزپارٹی پارلیمینٹیریز نے دیے ہیں جبکہ قانون کے مطابق ایک سیاسی جماعت دوسری سیاسی جماعت کی فنڈنگ کر ہی نہیں سکتی، معلوم نہیں الیکشن کمیشن نے اسے کیسے قبول کرلیا۔
انہوں نے کہا اس کے علاوہ پیپلزپارٹی کا 2011 میں 41 کروڑ 47 لاکھ سے زائد کا اوپننگ فنڈ ہے لیکن اس رقم کے ذرائع نہیں بتائے گئےاور اس اکاؤنٹ کا آڈٹ بھی نہیں کیا گیا، پارتی لیڈر کا سرٹیفیکیٹ اور اخراجات کی تفصیل بھی موجود نہیں ہے،الیکشن کمیشن مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی اور جے یو آئی (ف) کو کیوں بچارہا ہے؟ الیکشن کمیشن کی پہلے بھی عزت نہیں تھی اور اب تو بالکل نہیں رہی ہے، لگتا ہے الیکشن کمیشن کو اپنی ساکھ کی پرواہ نہیں لیکن اگر تھوڑا بہت خیال ہے تو آئیں کے مطابق ان پر کارروائی کرے اور 15 روز کے اندر فیصلہ دے۔
پی ٹی آئی رہنمافواد چوہدری عمران خان کے خلاف مہم میں زیادہ تر وہ صحافی متحرک ہیں جن کی ہمدردیاں ساری عمر حامد کرزئی اور اشرف غنی کے ساتھ رہی ہیں، پی ٹی ایم کے حامیوں کو بھی بڑی تکلیف ہے، بلوچ علیحدگی پسندوں کو بھی عمران خان سے بڑی تکلیف ہے اور ان کے ساتھ جے یو آئی (ف) بھی مل گئی ہے،یہ سب لوگ مل کر عمران خان کو نااہل کروانے کی مہم چلانا چاہ رہے ہیں، کس مائی کے لعل میں ہمت ہے کہ عمران خان کو نااہل کرے، عمران خان کے بغیر پاکستان کی سیاست کیا ہے، یہ ‘ایک بمقابلہ تمام’ والی صورتحال ہے، ایک جانب عمران خان ہے اور مقابلے میں یہ سارے جوکر اکھٹے ہوگئے ہیں، تو کیا آپ پاکستان میں ون پارٹی سسٹم لانا چاہتے ہیں؟
انکا کہنا تھا اگر پاکستان میں جمہوریت ہے تو عمران خان سے مقابلہ کرنا پڑے گا، آپ الیکشن صرف اس لیے نہیں کروارہے ہیں کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ اگر آج انتخابات ہوئے تو عمران خان دو تہائی اکثریت سے جیت جائے گا، ہم نے آخری مرحلے کی تیاری کرلی ہے ،13 اگست کو تاریخی جلسہ ہوگا جس میں ہم اپنا آئندہ لائحہ عمل دے دیں گے، ہم انہیں انتخابات سے بھاگنے نہیں دیں گے، میں کل سے دیکھ رہا ہوں کہ کچھ لوگ شہیدوں پر سیاست کررہے ہیں، اس ملک میں فوج پر سب سے گھٹیا اور رکیک حملے خواجہ آصف نے کیے ہیں جو پاکستان کے وزیردفاع بن کر بیٹھا ہے۔
فواد چوہدری نے کاکہا ہم جہلم اور پوٹھوہار کے لوگوں سے زیادہ شہیدوں کو دکھ کسی کو نہیں ہوسکتا، اس لیے اس طرح کی گھٹیا باتیں نہ کی جائیں، سیاسی فیصلوں کی وجہ سے کچھ معاملہ ہوا ہے لیکن بہرحال وہ ٹھیک ہوجائے گا،ان شا اللہ اس حکومت کے آخری دن ہیں، ہم بڑی تیزی سے عام انتخابات کی جانب جا رہے ہیں۔
