کشمیر صورتحال، بھارت کا ملائیشیا، ترکی سے درآمدات کم کرنے کا منصوبہ

بھارت نے کشمیر کے حوالے سے پالیسیوں پر تنقید کرنے پر ترکی سے درآمدات کو کم کرنے اور ملائیشیا سے پام آئل، تیل، گیس سمیت دیگر مصنوعات پر پابندیاں عائد کرنے کا منصوبے پر غور شروع کر دیا۔
ذرائع کے مطابق بھارت کی طرف سے ملائیشیا سے پیٹرولیم، المونیم، لیکوئیفائڈ نیچرل گیس، کمپیوٹر پارٹس اور مائیکروپروسیسرز کی خریداری پر پابندی کا منصوب بنایا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے ایک حکام کا کہنا تھا کہ حکومت ترکی سے تیل اور اسٹیل کی مصنوعات کی درآمد کو بھی روکنے کا منصوبہ بنارہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت نے ملائیشیا اور ترکی کی رائے کو قبول نہیں کیا ہے اور ہم دونوں ممالک کی تجارت روکیں گے۔تاہم بھارتی وزارت تجارت نے اس حوالے سے رائے کے لیے کیے گئے ای میل کا جواب نہیں دیا۔
واضح رہے کہ ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد نے حال ہی میں کہا تھا کہ بھارت جموں و کشمیر پر حملہ کرکے اس پر قبضہ کر رہا ہے۔دوسری جانب ترک صدر رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کو پابندیوں کا سامنا ہے۔
انڈونیشیا کے بعد دنیا کے دوسرے بڑے پام آئل برآمدی ملک ملائیشیا اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد نے بھارت کے نئے شہریت قانون پر تنقید کی اور اسے مسلمانوں کے خلاف امتیازی قرار دیا تھا۔
دریں اثناء ترکی نے معاملے پر پاکستان کی جانب داری کی تھی جو نیوکلیئر سپلائرز گروپ کا حصہ ہے جو جوہری ہتھیار کی پیداوار میں استعمال ہونے والے اشیا کی نگرانی کرتا ہے۔ ترکی نے عالمی مالیاتی نگراں ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سے پاکستان کو بلیک لسٹ کیے جانے کی بھی مخالفت کی تھی جس کے لیے بھارت برسوں سے لابنگ کر رہا ہے۔بھارت کا تجارتی ڈیٹا بتاتا ہے کہ ملائیشیا اور ترکی سے مجموعی درآمد گزشتہ سال میں کم ہوئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button