کوئٹہ پولیس نے منشیات فروشوں کا راج کیسے ختم کیا؟

کوئٹہ پولیس نے سٹی نالہ پر منشیات فروشوں کے خلاف ایک گرینڈ آپریشن کرتے ہوئے حکمرانوں کی چھتر چھایہ میں منشیات کا دھندہ کرنے والا جرائم پیشہ افراد کی آماجگاہ کو ہمیشہ کیلئے ختم کر دیا۔ اس دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں سے جھڑپ کے دوران 8 منشیات فروش اپنی جان سے بھی گئے جن میں منشیات فروشوں کا سرغنہ آصف عرف صفو بھی شامل تھا۔ یوں بالآخر کئی سالوں بعد کوئٹہ سے منشیات فروشوں کا راج ختم ہو گیا۔ پولیس کے مطابق 8 ستمبر کی صبح پانچ بجے شروع ہونے والی کارروائی تین گھنٹے سے زائد تک جاری رہی جس میں دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے پولیس کی خصوصی فورس یعنی کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ کی مدد بھی لی گئی۔
بتایا گیا ہے کہ منشیات فروشوں کے گینگ کا سرغنہ زیادہ تر سٹی نالے میں ہی رہتا تھا اور اس نے مختلف داخلی راستوں پر مورچے بنا کر مسلح لوگ بٹھا رکھے تھے جو 24 گھنٹے پہرہ دیتے تھے، پولیس نے چار سے پانچ مختلف مقامات پر سنائپرز بٹھا کر اور مختلف اطراف سے نالے کے اندر اچانک داخل ہو کر ملزمان کو فرار ہونے سے پہلے ہی گھیرے میں لے لیا۔ نالے میں گزشتہ ایک دہائی سے رہنے والے منشیات کے عادی ایک شخص نے بتایا کہ پولیس کارروائی میں مارا گیا منشیات فروشوں کا سرغنہ آصف عرف صفو انتہائی سفاک اور ظالم شخص تھا، وہ پہلے شہر کے جناح روڈ اور پرنس روڈ پر چھوٹے پیمانے پر منشیات فروخت کرتا تھا پھر اس نے نالے کے اندر آکر یہی کام شروع کیا اور گزشتہ کئی سالوں سے اس نے نالے کے اندر باقاعدہ اپنا راج قائم کر رکھا تھا۔ ان کے بقول صفو چرس، ہیروئن، آئس سمیت ہر قسم کی منشیات فروخت کرتا تھا۔ وہ نشے کے عادی افراد سے چوری کرواتا تھا انہیں اسلحہ دیتا تھا، اگر کوئی ان کی بات نہیں مانتا تھا تو اسے قتل کرنے سے بھی گریز نہیں کرتا تھا، ڈی آئی جی کوئٹہ غلام اظفر مہیسر کا کہنا تھا کہ منشیات فروش خاص طور پر سکول، کالج اور یونیورسٹی کے لڑکے لڑکوں کو ہدف بناکر انہیں اس گندے دھندے میں شامل کرتے ہیں کسی کو منشیات کا عادی تو کسی کو منشیات فروش بنا دیتے ہیں۔
ڈی آئی جی کے مطابق یہ نالہ پانچ تھانوں کی حدود سے گزرتا ہے، منشیات کے عادی افراد اورمنشیات فروشوں کا دوبارہ گڑھ بننے سے محفوظ رکھنے کے لئے نالے کے اندر اور داخلی راستوں پر پولیس چوکیاں قائم کی جائیں گی جن پر چوبیس گھنٹے پولیس اہلکار تعینات رہیں گے۔ سی ٹی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ بھتہ خوری اور منشیات فروشی ’ٹیررفنانسنگ‘ یعنی دہشت گردوں کی مالی معاونت کا بڑا ذریعہ ہے۔ نالے کے اندر منشیات فروشی سے دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، آپریشن منشیات فروشوں کے گینگ کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پر کیا گیا، ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس کوئٹہ غلام اظفر مہیسر کے مطابق پولیس نے سی ٹی ڈی کے ساتھ مل کر یہ آپریشن منشیات فروشوں کے گینگ کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پرکیا۔ آپریشن کے اختتام پر ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزازاحمد گورائیہ کے ہمراہ بریفنگ دیتے ہوئے ڈی آئی جی غلام اظفر نے بتایا کہ نالے کے اندر اترنے والے پولیس اہلکاروں کو دیکھتے ہی ملزمان نے فائرنگ شروع کردی تھی جس پر پولیس نے جوابی کارروائی کی۔ فائرنگ کے تبادلے میں آٹھ منشیات فروش مارے گئے جبکہ سات کو گرفتار کیا گیا جن میں دو کو زخمی حالت میں پکڑا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ مارے گئے ملزمان میں منشیات فروشوں کے گروہ کا سرغنہ آصف عرف صفو بھی شامل تھا جو پولیس پر فائرنگ، دہشت گردی، قتل اور اقدام قتل سمیت کم از کم 9 مقدمات میں مطلوب تھا اور منشیات فروشوں کی ’وانٹڈلسٹ‘ میں پہلے نمبر پر تھا۔ باقی مارے گئے سات افراد بھی انتہائی مطلوب منشیات فروش تھے۔
پولیس کی جانب سے فراہم کئے گئے ریکارڈ کے مطابق ملزم جنید احمد کے خلاف گزشتہ چھ سالوں میں کوئٹہ کے چار مختلف تھانوں میں منشیات فروشی کے الزام میں چار مقدمات درج کیے گئے تھے جس میں وہ گرفتار بھی ہوئے تھے تاہم انہیں بعد ازاں ضمانت پر رہائی ملی۔ ملزم عزت اللہ ڈکیتی کے الزام میں پچھلے سال فروری میں اورملزم عنایت اللہ نومبر 2019 میں چوری کے الزام میں گرفتار ہونے کے بعد ضمانت پر رہا ہوا تھا۔ ملزم نادر پر 2015 میں تھانہ گوالمنڈی میں منشیات فروشی کے الزام میں مقدمہ درج تھا۔
