کیا صحافی مدثر نارو کا بیٹا کبھی اپنا باپ دیکھ پائے گا؟

سابق وزیراعظم عمران خان کے بعد اب موجودہ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اسلام آباد ہائی کورٹ سے دو مہینے کا وقت مانگ لیا ہے تا کہ برسوں پہلے شمالی علاقہ جات سے پراسرار طور پرلاپتہ ہو جانے والے مدثر نارو کا سراغ لگایا جا سکے جس کی بیوی شوہر کی جدائی کے غم میں اس دنیا سے رخصت ہو چکی ہے اور اسکا چارسال کا بیٹا اپنے باپ کی واپسی کا انتظار کر رہا ہے۔
9 ستمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کو لاپتہ افراد کا معاملہ حل کرنے کے لیے اقدامات پرعملدرآمد کے لیے دو مہینوں کی مہلت دی ہے۔ جب شہباز شریف چیف جسٹس اطہر من اللہ کی عدالت میں پیش ہونے کے لیے پہنچے تو اُن کا لاپتہ صحافی مدثر نارو کے بیٹے سچل نارو سے مختصر مکالمہ بھی ہوا۔ وزیراعظم نے آگے بڑھ کر چار سالہ سچل سے گرم جوشی سے مصافحہ کیا۔وہ معصوم سچل نارو سے بات کرنے کے لیے نیچے جھکے تو اس نے وزیراعظم سے کہا کہ ‘مجھے میرے بابا سے ملوا دیں۔‘ وزیراعظم نے سچل نارو کے سر پر دست شفقت رکھتے ہوئے کہا کہ ’ہم آپ کے ساتھ ہیں، انشا اللہ جلد آپ کے بابا بھی واپس آجائیں گے۔‘
یاد رہے کہ بار بار کی حکومتی یقین دہانیوں اور عدالتی احکامات کے باوجود چار برس سے لاپتہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ صحافی اور بلاگر مدثر نارو کا کوئی سراغ نہیں مل پارہا اور اسی خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ وہ طاقت ور خفیہ اداروں کی تحویل میں ہے۔ مدثر نارو اگست 2018 میں اپنی اہلیہ صدف اور تب چھ ماہ کے بیٹے سچل کے ہمراہ ملک کے شمالی علاقوں کی سیر کی غرض سے گئے تھے لیکن اسی دوران پراسرار طور پر لاپتہ ہوگئے۔ ان کے خاندان نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ مدثر کو خفیہ اداروں نے اٹھا لیا ہے۔ مدثر نارو کی گمشدگی کے بارے میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کروائی گئی پٹیشن کے مطابق 2018 کے دھاندلی زدہ انتخابات کے چند روز بعد ان کو فون پر وارننگ دی گئی کہ وہ الیکشن میں ہونے والی بدعنوانی کے بارے میں سوشل میڈیا پر تبصرہ کرنے سے گریز کریں۔ اپنے شوہر کے لاپتہ ہونے کے بعد ان کی اہلیہ صدف اکثر اسلام آباد میں مدثر نارو کی بازیابی کے لیے مظاہرے کرتی نظر آتی تھیں لیکن پھر مئی 2021 میں ان کی اچانک وفات ہو گئی۔ اب چار سالہ بچہ اپنے دادا اور دادی کے پاس ہے جو کہ عدالتوں میں مسلسل ٹھوکریں کھا رہے ہیں لیکن انکے بیٹے کا کوئی سراغ نہیں مل پایا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں مدثر کی بازیابی کے لئے دائر کردہ درخواست کی کئی سماعتیں ہوچکی ہیں لیکن بار بار کے عدالتی احکامات کے باوجود کوئی نتیجہ نہیں نکل پایا۔ مدثر کی فیملی کی جانب سے دائر درخواست میں وزارت داخلہ اور وزارت دفاع کو فریق بنایا گیا ہے جبکہ وزارت دفاع کا موقف ہے کہ مدثر نارو ان کی تحویل میں نہیں۔
9 ستمبر کو چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے عدالتی کارروائی کے آغاز میں شہباز شریف کو روسٹرم پر طلب کیا۔ اطہر من اللہ نے شہباز شریف کو مخاطب کر کے کہا کہ ’اس عدالت نے آپ کو تکلیف اسی لیے دی کیوں کہ یہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ یہ کیس بہت عرصے سے چلتا رہا۔‘ چیف جسٹس نے لاپتہ مدثر نارو کے مقدمے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’اس عدالت کا آپ پر اعتماد ہے کہ آپ اس کا حل بتائیں۔ ایک چھوٹا بچہ اس عدالت میں آتا ہے، عدالت اسے کیا جواب دے، بدقسمتی سے اس بچے کو پچھلے وزیر اعظم کے پاس بھی بھیجا گیا مگر کچھ نہیں ہوا۔ انہوں نے پوچھا کہ ’وزیراعظم صاحب، آپ اس مسئلے کا حل بتائیں کہ یہ عدالت کیا کرے۔‘ چیف جسٹس نے کہا کہ ’ایک چیف ایگزیکٹیو نے اپنی کتاب میں لکھا کہ لوگوں کو میرے حکم پر اٹھایا گیا، حالانکہ سٹیٹ کے اندر کوئی دوسری سٹیٹ نہیں ہو سکتی۔‘ اُن کا کہنا تھا کہ اس عدالت نے اس معاملے کو کئی بار وفاقی کابینہ کو بھیجا، آپ کو معاملہ بھیجا آپ نے کمیٹی بنائی، لیکن یہ معاملہ کمیٹی کا نہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس عدالت نے مناسب سمجھا کہ آپ کو بتایا جائے کہ مسئلہ کیا ہے، لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کمیشن بنا مگر اسکی بھی کارکردگی مایوس کُن ہے۔
انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد کمیشن کی سماعتوں سے اِن خاندانوں کے دکھوں میں اضافہ ہوا۔جواب میں وزیراعظم شہباز شریف نے عدالت میں کہا کہ میری سب سے پہلی ذمہ داری ہے کہ میں عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد کراؤں، میری بنیادی ذمہ داری ہے کہ انکی بات سنوں اور مسئلے کے حل کی کوشش کروں، میں نہیں چاہتا کہ بلاوجہ کی توجیہات سے بات گھماؤں۔ ایک موقع پر وزیراعظم کی آواز میں کپکپاہٹ محسوس ہوئی جب انہوں نے سچل نارو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’میں اس چھوٹے بچے سے ملا جو مجھ سے کہتا رہا کہ وزیر اعظم میرے ابو کو مجھ سے ملائیں۔ اس بچے کا یہ سوال بہت ہی ڈسٹربنگ ہے۔ میری ذمہ داری ہے کہ اس بچے کے والد کو ڈھونڈوں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’میں اس عدالت کو یقین دلاتا ہوں کہ میرے ڈومین میں جہاں تک ہے میں اپنی ڈیوٹی پوری کروں گا۔‘
چیف جسٹس نے کہا کہ ’دور نہیں قریب دیکھیں اسلام آباد سے ایک صحافی کو اٹھایا گیا، اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج موجود ہے مگر آج تک تفتیش نہیں ہوئی، اسلام آباد سے اب تو دن دھاڑے لوگوں کو اٹھایا جا رہا ہے۔‘ انہوں نے وزیراعظم سے کہا کہ ’یہ کام اب پارلیمنٹ کا ہے، اس عدالت نے آپ کو بتا دیا کہ اس مسئلے کو جڑ سے ختم ہونا چاہیے۔‘
