96 سالہ ملکہ کی موت کے بعد 73 سالہ چارلس برطانیہ کے نئے بادشاہ

96 سالہ ملکہ الزبتھ دوئم کی موت کے بعد برطانیہ کا شاہی تاج ان کے 73 سالہ بیٹے اورجانشین پرنس چارلس کو سونپ دیا گیا ہے جبکہ ان کی دوسری اہلیہ کمیلا پارکربرطانیہ کی ملکہ بن گئی ہیں جن سے چارلس نے ڈیانا سے طلاق کے بعد شادی کی تھی۔
1952 میں ملکہ بننے والی الزبتھ دوئم نے 70 برس تک برطانیہ کی بادشاہت کا تاج اپنے سر پرسجائے رکھا۔ اس دوران برطانیہ میں 15 وزرائے اعظم آئے جن میں سب سے پہلے ونسٹن چرچل تھے جو 1874 میں پیدا ہوئے، جبکہ برطانیہ کی موجودہ وزیر اعظم لز ٹرس، چرچل کی پیدائش کے 101 سال بعد 1975 میں پیدا ہوئیں۔ ملکہ الزبتھ 21 اپریل 1926 کو لندن کے علاقے مے فیئر میں پیدا ہوئی تھیں۔ ان کا پورا نام الزبتھ الیگزینڈرا میری ونڈزر رکھا گیا تھا۔ تب بہت کم لوگ یہ پیشگوئی کر سکتے تھے کہ وہ برطانیہ کی حکمران بنیں گی۔ تاہم ستمبر 1936 میں جب ان کے تایا ایڈورڈ ہشتم نے تخت سے کنارہ کشی اختیار کرکے دو بار کی طلاق یافتہ امریکی شہری والس سمپسن سے شادی کی تو الزبتھ کے والد جارج ششم بادشاہ بن گئے اور10 سال کی عمر میں الزبتھ تخت کی وارث بن گئیں۔
ملکہ الزبتھ کی موت کے بعد چارلس کو بادشاہت کا تاج پہننے سے قبل کئی روایتی مراحل سے گزرنا پڑے گا۔ نئے برطانوی بادشاہ کے دادا جارج پنجم کے نام کا پہلا حصہ البرٹ تھا لیکن انہوں نے اپنے نام کے درمیانی حصے کا انتخاب کیا تھا، چارلس کے لیے بھی پہلا کام اپنے لیے ایک نام کا انتخاب تھا اور انہوں نے اپنے لیے شاہ چارلس سوئم کا نام منتخب کیا ہے۔ چارلس اپنے ٹائٹل میں تبدیلی کرنے والی واحد شاہی شخصیت نہیں ہیں، ان کے بیٹے اور جانشین شہزادہ ولیم خود بخود پرنس آف ویلز تو نہیں بن جائیں گے تاہم انھیں اپنے والد کا دوسرا خطاب ڈیوک آف کارنویل ضرور مل گیا جبکہ ان کی اہلیہ کیتھرین اب ڈچز آف کارنویل کہلائیں گی۔
چارلس کی اہلیہ کا نیا ٹائٹل ’کوئین کونسورٹ‘ ہوگا، کونسورٹ وہ اصطلاح ہے جو بادشاہ کی شریکِ حیات کے لیے استعمال کی جاتی ہے، والدہ کی وفات کے ابتدائی 24 گھنٹوں کے دوران سرکاری طور پر چارلس کی بادشاہت کا اعلان کر دیا گیا۔ یہ تقریب لندن کے سینٹ جیمز پیلس میں ایک روایتی کمیٹی کے سامنے منعقد ہوئی۔
اس کمیٹی میں موجودہ اور سابق سینئر ارکانِ پارلیمان پر مشتمل پریوی کونسل کے ارکان، سینئر سرکاری عہدیدار، دولتِ مشترکہ کے ہائی کمشنرز اور لندن کے لارڈ میئر شامل ہوتے ہیں۔ اس قسم کی آخری تقریب 1952 میں منعقد ہوئی تھی جس میں تقریباً 200 افراد شریک ہوئے تھے، روایتی طور پر بادشاہ اس تقریب میں شامل نہیں ہوتا۔
اس اجلاس میں ملکہ الزبتھ کی موت کا اعلان پریوی کونسل کے لارڈ پریزیڈنٹ نے کیا۔ یہ خصوصی کمیٹی عموماً ایک دن بعد پھر ملتی ہے اور بادشاہ اجلاس میں پریوی کونسل کے ارکان کے ہمراہ شریک ہوتا ہے، برطانوی بادشاہ یا ملکہ اپنے دور کے آغاز پر ویسے حلف نہیں اٹھاتا جیسے عموماً دیگر سربراہانِ ممالک مثلاً امریکی صدر اٹھاتے ہیں بلکہ نئے بادشاہ کی جانب سے ایک اعلان کیا جاتا ہے کہ وہ چرچ آف سکاٹ لینڈ کا تحفظ کرے گا، اس اعلان کی روایت 18ویں صدی سے چلی آ رہی ہے۔
اس کے بعد نقاروں کی گونج میں چارلس کو برطانیہ کا نیا بادشاہ قرار دیا جائے گا، یہ اعلان سینٹ جیمز پیلس کی فریری کورٹ پر واقع بالکونی سے کیا جائے گا اور یہ اعلان گارٹر کنگ آف آرمز نامی عہدیدار کرے گا۔ وہ کہے گا، ’خدا بادشاہ کی حفاظت کرے‘ اور 1952 کے بعد پہلی مرتبہ جب برطانیہ کا قومی ترانہ بجے گا تو الفاظ ’گاڈ سیو دی کنگ‘ ہوں گے۔ اس کے بعد ہائیڈ پارک، ٹاور آف لندن اور بحری جہازوں سے توپوں کی سلامی دی جائے گی اور چارلس کی بادشاہت کا اعلان ایڈنبرا، کارڈف اور بیلفاسٹ میں پڑھ کر سنایا جائے گا۔
تخت نشینی کا سب سے اہم لمحہ تاجپوشی کا ہوگا جب چارلس کو باقاعدہ تاج پہنایا جائے گا، اس تقریب کی تیاری کے لیے وقت درکار ہوگا، اس لیے یہ چارلس کی تخت نشینی کے فوراً بعد ممکن نہیں ہو سکے گی۔
یاد رہے کہ ملکہ الزبتھ نے فروری 1952 میں تخت سنبھالا تھا لیکن ان کی تاجپوشی کی تقریب جون 1953 میں منعقد ہوئی تھی۔
900 برس سے تاجپوشی کی تقریب ویسٹ منسٹر ایبی میں منعقد ہوتی آئی ہے۔ ولیم دا کنکرر وہاں تاج پہننے والے پہلے بادشاہ تھے جبکہ چارلس ایسا کرنے والے 40ویں بادشاہ ہوں گے، یہ ایک اینگلیکن مذہبی تقریب ہے جسے آرچ بشپ آف کنٹربری انجام دیتے ہیں، یہ تقریب اپنے عروج پر اس وقت پہنچے گی جب وہ سینٹ ایڈورڈ کا تاج چارلس کے سر پر رکھیں گے، ٹھوس سونے کا یہ تاج 1661 میں تیار کیا گیا تھا۔ تقریباً سوا دو کلو وزنی یہ تاج ٹاور آف لندن میں رکھے گئے شاہی جواہرات اور زیورات کا حصہ ہے اور اسے کوئی بھی بادشاہ صرف اپنی تاجپوشی کے وقت ہی پہنتا ہے۔ شاہی شادیوں کے برعکس تخت نشینی ایک سرکاری تقریب ہوتی ہے، اس کے اخراجات حکومت ادا کرتی ہے اور وہی مہمانوں کی فہرست بھی مرتب کرتی ہے۔
اس تقریب میں موسیقی بھی ہوگی اور شاعری بھی اور نئے بادشاہ کو سنگترے، گلاب، دارچینی، مشک اور عنبر کے تیل لگا کر روایتی رسم ادا کی جائے گی۔ نیا بادشاہ دنیا کے سامنے تخت نشینی کا حلف لے گا۔ اس شاندار تقریب میں اسے اپنے نئے عہدے کی نشانیاں ’اورب‘ اور ’سیپٹر‘ دیے جائیں گے اور آرچ بشپ آف کنٹربری ان کے سر پر ٹھوس سونے کا تاج رکھیں گے۔ اب چارلس دولتِ مشترکہ کے بھی سربراہ بن گئے ہیں جو کہ 56 خود مختار ممالک کی تنظیم ہے، چارلس ان میں سے 14 ممالک جن میں برطانیہ بھی شامل ہیں، کے آج بھی سربراہِ مملکت ہیں، ان ممالک میں آسٹریلیا، اینٹیکا اور باربوڈا، بہاماس، بلیز، کینیڈا، گرینیڈا، جمیکا، پاپوا نیو گنی، سینٹ کرسٹوفر اور نیوس، سینٹ لوشیا، سینٹ ونسنٹ اور گرینیڈئنز، نیوزی لینڈ، جزائر سولومن اور ٹوالو شامل ہیں۔
