کپتان حکومت نےغریب کے منہ سے نوالہ بھی چھین لیا


نئے پاکستان میں غربت ختم کرنے کی بجائے غریبوں کے خاتمے پر عمل پیرا عمران خان کی تبدیلی سرکار کی جانب سے مہنگائی کا نیا طوفان لانے کے بعد رہی سہی کسر پوری کرتے ہوئے اب تنور مالکان نے بھی ملک بھر میں روٹی اور نان کی قیمتوں میں 2 روپے سے دس روپے تک کا ہوشربا اضافہ کردیا ہے۔ پٹرول، بجلی اور گیس کی قیمتوں کا بہانہ بناتے ہوئے تنور مالکان بھی بھی روٹی اور نان مہنگا کردیا ہے جس کا مطلب غریب کے منہ سے نوالہ چھیننا ہے۔ یعنی اب غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والوں کے لئے نمک مرچ کے ساتھ روٹی کھانا بھی مشکل ہوگیا ہے جس کی بنیادی وجہ آٹے کی قیمت میں تباہ کن اضافہ ہے۔
کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ میں تندور مالکان نے روٹی، نان شیرمال اور تافتان کی قیمتوں میں 2 سے 10 روپے تک کا اضافہ کر دیا ہے جس سے متوسط اور غریب طبقہ مزید پس کر رہ گیا ہے۔ بڑا ظلم یہ ہے کہ تنور مالکان کی جانب سے روٹی کی قیمت میں اضافے کے باوجود کسی حکومتی محکمے نے مہنگائی کرنے والوں سے کوئی باز پرس نہیں کی۔ تنور مالکان نے نان اور روٹی کی نئی قیمتیں آویزاں کرتے ہوئے ساتھ میں یہ بینرز لکھ کر بھی آویزاں کر دیئے ہیں کہ برائے مہربانی
نان اور روٹی کی قیمت پر بحث نہ کریں۔
چنانچہ اب تنوروں پر چپاتی کی قیمت 2 روپے اضافے سے 12 روپے ہو گئی ہے۔ اسی طرح شیرمال اور تافتان کی قیمتیں 5 روپے اضافے سے 45 روپے جبکہ کلچے کی قیمت 35 روپے تک پہنچ چکی ہے۔ تنور مالکان نے حکام سے نان کی قیمت میں اضافہ نہ کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن پھر بھی اکثر جگہوں پر اب نان پندرہ روپے کی بجائے 18 اور بیس روپے میں بیچا جس رہا ہے۔
روٹی اور نان کی قیمتوں میں اضافہ کرنے والے بیشتر تندور مالکان کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک سال میں آٹا، گیس اور بجلی کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے جس کے اثرات انکے بزنس پر بھی مرتب ہو رہے ہیں لہذا انہیں اپنے خرچے پورے کرنے کے لئے قیمتوں میں بار بار اضافہ کرنا پڑ رہا ہے۔ لاہور کے ایک تندور مالک نے روٹی کی بڑھتی قیمتوں پر وضاحت دیتے ہوئے بتایا کہ آٹے کی فی پچاس کلو قیمت 2 ہزار 390 سے 3 ہزار 760 روپے پر پہنچ گئی ہے جبکہ ایک سال کے مقابلے چینی کی قیمت میں بھی اضافہ دیکھا گیا جبکہ گیس کی قیمت میں بھی کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ کمرشل صارفین کے لیے گزشتہ دو سالوں سے گیس کی قیمت 700 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو تھی جو اب بڑھ کر ایک ہزار 280 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو ہو گئی ہے۔ اسکا کہنا تھا کہ بجلی کے نرخ گزشتہ سال 28 روپے فی یونٹ سے بڑھ کر 31 روپے 50 پیسے فی یونٹ ہوگیا ہیں۔ 16 کلو گھی کے کنستر کی قیمت 5 ہزار 250 روپے ہے جبکہ پچھلے سال اس کی قیمت 2 ہزار 650 روپے تھی، اسی طرح پلاسٹک کی تھیلیوں اور ردی کی قیمت میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا یے اور یہ تمام تنوروں پر استعمال ہوتی ہیں لہذا اس صورتحال میں اگر روٹی کی قیمت میں اضافہ نہ کیا جائے تو کیا کاروبار بند کر دیا جائے۔
یاد رہے کہ الیکشن 2018 کے وقت چپاتی کی قیمت 8 روپے تھی اور نان 12 روپے میں فروخت کیا جا رہا تھا جبکہ شیرمال اور تافتان 35 روپے کا تھا ۔ ناقدین کا کہنا یے کہ مجموعی مہنگائی کے علاوہ مانیٹرنگ میکانزم کی ناکامی بھی روٹی اور نان کی قیمتیں بڑھانے کا باعث ہے لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ قیمتیں بڑھانے کے باوجود روٹی کا وزن بھی مسلسل کم کیا جا رہا ہے لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔

Back to top button