کپتان دور پاکستانی صحافت کے لیے بدترین قرار

پاکستان کی 74 سالہ تاریخ میں صحافیوں کو اس بد ترین سنسر شپ اور ریاستی جبر کا سامنا کبھی نہیں کرنا پڑا جس کا سامنا انہیں 2018 میں تحریک انصاف کو اقتدار سونپے جانے کے بعد سے ہے۔ اس صورتحال کی تصدیق میڈیا کے عالمی ادارے ‘رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز‘ کی ایک تازہ رپورٹ سے ہوتی ہے جس کے پریس فریڈم انڈیکس میں پاکستان میں میڈیا کی آزادی کا گراف مزید گر کر 180 ممالک کی لسٹ میں 145ویں نمبر پر آگیا ہے یعنی میڈیا کی آزادی کے حوالے پاکستان دنیا کے آخری 35 ممالک میں شامل ہو چکا ہے۔ یاد رہے کہ پچھلے سال تک پاکستان اسی لسٹ میں 142ویں نمبر پر تھا لیکن اب تین درجے اور بھی نیچے آ گیا ہے جس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان میں آزادی صحافت کی موجودہ صورتحال کتنی تشویشناک ہو چکی ہے۔
سال 2019 اور 2020 کی طرح اس برس بھی سچ لکھنے اور حق پر کھڑے ہونے والے صحافی قتل اور اغوا ہو رہے ہیں اور ان پر جسمانی تشدد، دھمکیوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستان کے مین سٹریم میڈیا کو کھسی کر دینے کے بعد اب حکومتی اداروں اور ریاستی ایجنسیوں کی جانب سے سوشل میڈیا کو قابو کرنے کی کوششیں شروع ہوچکی ہیں۔ رپورٹرز ودآوٹ بارڈرز کی رپورٹ کے مطابق ریگولیٹری اداروں کی جانب سے سنسرشپ کی وجہ سے ایسا ماحول پیدا ہو گیا ہے جہاں میڈیا تاریخ کی بد ترین سنسر شپ کا شکار ہے اور صحافیوں کو سچ لکھنے اور کہنے کی پاداش میں اپنی جان کا خطرہ اٹھانا پڑتا ہے۔
یاد رہے کہ کپتان حکومت کی جانب سے اس تاثر کی تردید کی جاتی ہے کہ وہ میڈیا سینسر شپ میں ملوث ہے لیکن یہ اب ایک کھلی حقیقت ہے کہ میڈیا کو آج مشرف دور سے بھی زیادہ سخت پابندیوں اور جبر کا سامنا ہے۔ پیمرا جیسے ریگولیٹری ادارے میڈیا پر ریاستی بندشیں عائد کرنے کا ایک ذریعہ بن چکے ہیں۔ حالت یہ ہے کہ ملک میں ہونے والی اہم ترین واقعات کی کوریج پر بھی پیمرا کی جانب سے مکمل پابندیاں عائد کر دی جاتی ہیں جن کی وجہ سے میڈیا اپنے ناظرین کو آگاہ رکھنے میں ناکام رہتا ہے۔ اس حوالے سے رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے پاکستانی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ میڈیا کے معاملات میں مداخلت بند کر دے کیونکہ ایسا کرنا جمہوریت مخالف عمل ہے اور ایسی مداخلت پاکستان کی تاریخ میں فوجی آمریت کے بدترین برسوں کی یاد تازہ کرتی ہے۔ بظاہر عام لوگوں کو پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد بہت محفوظ لگتا ہے۔ تاہم اس رپورٹرز ودآوٹ بارڈرز کے مطابق سال 21-2020 میں ملک کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں یہ شہر صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ثابت ہوا ہے۔
کئی دہائیوں سے صحافت سے وابستہ اقبال خٹک ان دنوں صحافیوں کے تحفظ کی ایک بین الاقوامی تنظیم فریڈم نیٹ ورک کے بانی و سربراہ ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اسلام آ باد تو بظاہر بہت محفوظ لگتا ہے تو یہ صحافیوں کے لیے اتنا خطرناک کیوں ہو گیا؟ اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد در اصل شہر اقتدار ہے اور یہاں پرصحافیوں کے منہ سے ایسے سخت سوالات نکلتے ہیں جو حکمرانوں کو اچھے نہیں لگتے۔ ایک اور وجہ یہ ہے کہ یہاں مختلف علاقوں کے لوگ رہتے ہیں اور یہیں ملک کی قسمت کے فیصلے کیے جاتے ہے۔ میڈیا کا کام ہے کہ وہ سوال کرے جس کی وجہ سے ان کو حقوق کی پامالی کے واقعات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جب اقبال خٹک سے پوچھا گیا کہ آیا ایسا تو نہیں کہ کچھ واقعات میں صحافی بھی صحافتی اقدار پامال کرتے ہیں، اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ کمزوری اور غلطی ہر انسان کرتا ہے، تاہم ان کوتاہیوں کے حوالے سے فیصلے کرنے کے لیے متعلقہ ادارے موجود ہیں۔
’پاکستان میں ان اداروں کے پاس نہیں جایا جاتا بلکہ الٹا صحافیوں کے حقوق کی پامالی کی جاتی ہے۔ اب حالات یہ ہیں کہ کوئی ٹی وی اور اخبار میں پورا سچ بیان نہیں کر سکتا لہازا وہ آن لائن پلیٹ فارم کا استعمال کرتے ہیں۔ لیکن پاکستان میں ان پلیٹ فارمز کو استعمال کرنے والے صحافیوں پر بھی مقدمے درج کروا دیے جاتے ہیں اور بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ ایک خاص پیٹرن کے ساتھ آزادی اظہار رائے کو ایک جرم کے زمرے میں لانے کی کوشش کی جا ری ہے۔
فریڈم نیٹ ورک نے ان واقعات کا ایک بریک ڈاؤن بھی جاری کیا ہے، جس میں سب سے زیادہ واقعات صحافیوں پر مقدمات درج کرنے کے ہیں۔21-2020 میں پیش آئے 148 واقعات میں سے 27 ایسے ہیں جس میں کسی صحافی پر مقدمہ درج کیا گیا۔ دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ صحافیوں کو زبانی دھمکیوں کے واقعات، جس میں قتل سمیت دیگر دھمکیاں شامل ہیں۔ مجموعی طور پر اپریل مئی 2020 سے اب تک صحافیوں کو دھمکیوں کے 26 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ تیسرے نمبر پر سب سے زیادہ 25 واقعات قانون نافذ کرنے والوں اداروں کی جانب سے صحافیوں کی گرفتاریاں ہیں۔ اسی طرح اگر صحافیوں کے قتل کی بات کی جائے تو مئی 2020 سے اب تک پاکستان میں 6 صحافیوں کو قتل کیا گیا، جبکہ پانچ واقعات میں صحافیوں کی قتل کرنے کی کوشش کی گئی۔ قتل ہونے والے چھ صحافیوں میں سے دو سندھ، دو بلوچستان اور ایک ایک خیبر پختونخوا اور پنجاب میں مارے گئے۔
اسی طرح پاکستان میں صحافیوں پر کوریج کے دوران حملوں اور ان کو زدو کوب کرنے کے واقعات بھی سامنے آتے ہیں۔ مئی 2020 سے ابتک صحافیوں کو زد وکوب کرنے کے 15 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جس میں 11 صحافی زخمی ہوئے تھے جبکہ پانچ واقعات صحافیوں کے اغوا یا اغوا کی کوشش کے متعلق ہیں۔اس کے علاوہ صحافیوں کی ہراسانی کے 15 واقعات بھی رپورٹ ہوئے جو مجموعی کیسز کا 10 فیصد بنتا ہے۔
تاہم دوسری جانب ھکومت کا اصرار ہے کہ پاکستان میں میڈیا کو جو آزادی آج حاصل ہے وہ دنیا کے کسی اور ملک میں نہیں ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے فریڈم نیٹ ورک کے رپورٹ اور پاکستان میں میڈیا کی آزادی پر اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ پاکستان میں میڈیا کی آزادی پر سوالات اٹھاتے ہیں، ان کو پاکستانی نیوز چینلز پر ٹاک شوز دیکھنے چاہییں۔’ان ٹاک شوز میں حکومتی وزرا، ترجمان اور حکومت کے دیگر لوگوں کو بلا کر ان سے سوالات کیے جاتے ہیں۔ شاید ہی کوئی دوسری حکومت ہو جس کا ٹاک شوز میں روز اس طرح کا ٹرائل کیا جاتا ہے۔ اس سے پاکستان میں میڈیا کی آزادی ظاہر ہوتی ہے۔‘پاکستان میں میڈیا کی آزادی کا ثبوت، فواد کے مطابق، نجی اخبارات اور نیوز چینلز کی بڑھتی ہوئی تعداد ہے جو آزادانہ طریقے سے آرا لوگوں کو پیش کرتے ہیں۔ فواد نے یہ لطیفہ بھی سنایا کہ ’پاکستان میں کسی قسم کی میڈیا سنسرشپ نہیں۔ حکومت بہتری کے لیے تنقید کو خوش آمدید کہتی ہے۔ تاہم ہم اس پر بھی یقین کرتے ہیں کہ میڈیا کے ادارے ضابطہ اخلاق بنا کر اس پر عمل پیرا ہوں۔‘
سوشل میڈیا کی آزادی کے بارے میں فواد چوہدری نے کہا کہ یہ غلط تاثر ہے کہ پاکستان میں آن لائن میڈیا کی سپیس کو محدود کیا جا رہا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ حکومت نے پاکستان میں ڈیجیٹل میڈیا کی پہلی پالیسی مرتب کی ہے۔’ہم نے یہ ضرور کیا ہے کہ انٹرنیٹ پر نفرت انگیز اور تشدد پر ابھارنے والے مواد کو کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے ہیں۔‘ دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت وقت پاکستان میں صحافت پر پابندیوں کے حوالے سے کوے کو سفید قرار دے رہی ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اس ملک میں آج سے پہلے کبھی بھی کسی بھی واقعے کی کوریج پر سنسر شپ عائد نہیں کی گئی جیسا کہ آج ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک میں اگر تحریک لبیک کا دھرنا ایک ہفتہ بھی جاری رہتا ہے تو مین سٹریم میڈیا کو وسیع تر قومی مفاد میں اسے کور کرنے کی اجازت نہیں ہوتی لیکن پھر ایک روز اچانک جب حکومت خود احتجاج کرنے والوں سے معاہدہ کر لیتی ہے تو پھر سنسر ختم کر دیا جاتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button