کپتان کا فون پر عوامی مسائل حل کرنے کا اعلان ڈرامہ نکلا

پاکستان ٹیلی ویژن کی وساطت سے براہ راست فون پر وزیراعظم عمران خان کو اپنے مسائل بتانے والوں کے مسئلے وزیراعظم کی فوری ہدایات کے بعد جوں کے توں کھڑے ہیں اور مسائل کا شکار لوگوں نے اس سارے عمل کو حکومتی ڈرامے بازی قرار دے دیا ہے۔
جب جنوری 2021 کے آخری ہفتے میں تب کے وزیر اطلاعات شبلی فراز نے یہ خبر سنائی کہ عمران خان عوام سے براہ راست ٹیلی فون پر بات کریں گے اور انکے مسائل فوری حل کریں گے تو لاکھوں لوگوں نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ وہ اپنے مسائل ڈائریکٹ وزیراعظم کو بتائیں گے تاکہ وہ فوری طور پر حل ہو سکیں۔ نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن سنٹر کے مطابق چار اپریل 2021 کو وزیراعظم سے بات کرنے کے لیے جب لائنز کھولی گئیں تو تقریبا 85 لاکھ افراد نے کال ملانے کی کوشش کی۔ سرکاری چینل پی ٹی وی پر لائیو نشر ہونے والے پروگرام ’آپ کا وزیراعظم آپ کے ساتھ‘ میں عمران خان نے یکم فروری اور چار اپریل 2021 کو دو بار براہ راست عوامی کالز سنیں اور ان کے مسائل حل کرنے کے احکامات جاری کیے۔ تاہم ان پچاسی لاکھ افراد میں سے صرف درجن بھر کی ہی زیر اعظم سے بات ہو سکی۔ مگر سوال یہ ہے کہ جن درجن بھر افراد کی وزیراعظم سے بات ہوئی کیا ان کے مسائل حل ہوئے؟
اس حوالے سے میڈیاکی ایک ٹیم نے کال کرنے والے چند افراد اور انکے مسائل سے متعلقہ محکموں سے رابطہ کر کے صورتحال جاننے کی کوشش کی۔ وزیراعظم سے چار اپریل کو ایبٹ آباد کے علاقے لورہ سے ایک کالر عمران عباسی نے رابطہ کرکے اپنے علاقے میں پی ٹی آئی کے بااثر افراد کی جانب سے کرشنگ مشینوں کے ذریعے پہاڑوں کی کٹائی اور اس سے مقامی آبادی کو لاحق مسائل پر بات کی۔وزیر اعظم نے کال کرنے والے کو یقین دلایا کہ ان کا مسئلہ ’آج ہی‘ حل کیا جائے گا۔ تاہم میڈیا کے رابطہ کرنے پر کالر نے بتایا کہ وزیر اعظم سے رابطے کے بعد صرف دو دن پہاڑوں کی کٹائی بند ہوئی مگر اس کے بعد بااثر افراد کی کرشنگ مشینیں پھر پہاڑوں کو کاٹنا شروع ہو گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے حکم کے بعد ایک خاتون اسسٹنٹ کمشنر علاقے میں آئی تھیں تاہم وہ صرف کرشنگ مشینوں پر لگے وزن کرنے والے آلے چیک کر کے واپس چلی گئیں۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے ایک حکم نامے کے ذریعے اس علاقے میں کرشنگ پر پابندی عائد کی تھی جسکے بعد وزیراعظم کی ہدایات بھی آ گئیں تاہم نہ تو کٹائی رکی اور نہ ہی لوگوں کی مشکلات کم ہوئیں۔ عمران عباسی کے مطابق آبادی کے قریب ہونے والی کرشنگ سے نہ صرف پہاڑوں اور جنگلات کا صفایا ہو رہا ہے بلکہ مقامی آبادی آلودگی سے ہونے والی بیماریوں کا شکار ہے۔ انکامکہنا یے کہ گزشتہ تیس سال سے یہاں کے چند گاؤں کے درمیان سڑک نہیں بن پا رہی حالانکہ ایک سابق وزیر اعلیٰ، ایک سینیٹر اور ایک ڈپٹی سپیکر اسی علاقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ لیکن پہاڑوں کی کٹائی کے باعث یہاں سڑک کی تعمیر نا ممکن ہے۔
اس حوالے سے میڈیا کی ٹیم نے علاقے کا دورہ کرنے والی متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر آکاشہ کرن سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے وزیراعظم کے پروگرام کے بعد ڈپٹی کمشنر ایبٹ آباد کی ہدایت پر علاقے کا دورہ کیا تھا۔
جس کرشنگ پلانٹ کی شکایت کی گئی کہ وہ پی ٹی آئی کے رہنما کا ہے اسے دو دن بند بھی کیا گیا تاکہ اس کی جانب سے فراہم کی گئی دستاویزات کا جائزہ لیا جا سکے تاہم وہ ایک قانونی پلانٹ ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا پلانٹ کو دوبارہ چلانے کی اجازت دی گئی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ انہیں تازہ ترین زمینی حقائق کا علم نہیں کیونکہ ان کی عملداری میں آنے والا علاقہ خاصا وسیع ہے جو لورہ سے حویلیاں تک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لورہ کے علاقے میں متعدد کرشنگ پلانٹ لگے ہوئے ہیں جن میں سے کچھ قانونی اور کچھ غیر قانونی ہیں۔ دوسری جانب وزیراعظم کو کال کرنے والے شہری کا کہنا ہے کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ باقی سارے پلانٹس غیر قانونی ہوں اور پی ٹی آئی رہنما کا پلانٹ قانونی قرار دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون کے مطابق اس طرح کے پلانٹ کو آبادی سے کم از کم آٹھ کلو میٹر دور ہونا چاہیے جبکہ مذکورہ پلانٹ کے چاروں طرف آبادی ہے۔ یہاں جنگل ختم ہو گے ہیں، پہاڑ کٹ چکے ہیں اور مقامی آبادی کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ انکا کہنا تھا کہ ملک میں وزیراعظم سے بڑا کوئی عہدہ نہیں، اگر ان کی ہدایت کے باوجود ہماری نہیں سنی گئی تو اب ہم اپنی شکایت کس سے کریں؟ ان کا کہنا تھا کہ اگر وزیراعظم ہمارے مسائل حل نہیں کر سکتے تو پھر ٹی وی پر بیٹھ کر کر فون سننے کا توپی ڈرامہ کرنا بھی بند کر دیں۔
اسی طرح فیصل آباد کی تحصیل سمندری کے رہائشی نسیم بھٹی نے وزیراعظم سے فون پر شکایت کی تھی کہ ان کے علاقے گوجرہ میں ڈرین کینال جسے مقامی زبان میں سیم نالہ کہتے ہیں عدم صفائی کی وجہ سے بند ہے جس کی وجہ سے اردگرد کے متعدد گاؤں میں پانی کی زیرزمین سطح بلند ہو گئی ہے اور اب ہزاروں ایکڑ کی زمین زرعی مقاصد کے لیے ناکارہ ہو گئی ہے۔ وزیراعظم نے اس مسئلے کے حل کی یقین دہانی کروائی تھی۔ تاہم اب کالر نسیم بھٹی نے بتایا ہے کہ ’چار اپریل کو وزیراعظم کو کال کے بعد مقامی انتظامیہ نے ان سے رابطہ تو کیا مگر 14 اپریل تک گراؤنڈ پر کوئی تبدیلی نہیں آئی۔‘ ان کا کہنا تھا کہ یہ علاقہ زرعی اجناس کی فراوانی کے باعث انگریز دور سے فوڈ باسکٹ کہلاتا تھا۔ جب سے پاکستان بنا ہے ہر سال حکومت مون سون سے قبل اس نالے کی صفائی کرواتی تھی مگر گزشتہ تین سال سے اس حکومت کے برسر اقتدار آنے کے بعد اس نالے کی صفائی نہ ہونے کے باعث پانی زمین کے اوپر آ گیا اور یہاں ہزاروں ایکڑ پر گندم، گنا اور سبزیوں کی کاشت نہیں ہو سکی۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم سے فون پر بات کرنے کے بعد ان سے مقامی تحصیلدار اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل فیصل آباد نے رابطہ کیا تھا تاہم ابھی تک مسئلہ جوں کا توں ہے۔ اس حوالے سے رابطہ کرنے پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر فیصل آباد محمد خالد گجر کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ ان کے علم میں ہے اور اس جلد صفائی کا کام شروع ہو جائے گا۔
اسی طرح وزیراعظم کو جھنگ سے ایک شہری صداقت علی نے فون کر کے شکایت کی تھی کہ یہاں پر یوٹیلیٹی سٹور پر سستی چینی اور دیگر اشیا عوام کے بجائے براہ راست دکانداروں اور ہوٹل والوں کو بیچی جا رہی ہیں اور غریب عوام کو یہ اشیا نہیں پہنچ رہیں۔‘ رابطہ کرنے پر صداقت علی نے میڈیا کو بتایا کہ وہ وزیراعظم کی ٹائیگر فورس کا حصہ ہیں مگر انہیں افسوس ہے کہ ان کا مسئلہ اب تک حل نہیں ہوا اور کوٹ عیسی شاہ یوٹیلیٹی سٹور پر بدستور غریب عوام کو چینی نہیں مل رہی۔ ان کا کہنا ہے کہ عام آدمی کو ایک کلو چینی کے لیے دو ہزار کا سامان خریدنے کی شرط رکھی جاتی ہے جبکہ دکانداروں اور ریسٹورنٹ والوں کو براہ راست تھوک کے حساب سے چینی بیچی جاتی ہے جو پھر مارکیٹ میں مہنگے داموں فروخت ہوتی ہے۔ اس حوالے سے انہوں نے تصاویر اور ویڈیوز بھی مہیا کیں جن میں مقامی لوگ یوٹیلیٹی سٹور پر عوام کو اشیا کی عدم فراہمی کی شکایت کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان سے یوٹیلیٹی سٹور کے فاروق نامی سینئیر افسر نے بات کی ہے مگر وہ انہیں کہتے ہیں کہ میرے دفتر آ کر بات کرو۔ اس معاملے پر رابطہ کرنے پر جھنگ میں یوٹیلیٹی سٹور کے ریجنل سیلز مینیجر فاروق احمد کا کہنا تھا کہ اس شکایت کا نوٹس لیا گیا ہے اور رپورٹ بنا دی گئی ہے۔ لیکن انہوں نے ان الزامات کی تردید کی کہ اب بھی یوٹیلیٹی سٹور کا عملہ سامان براہ راست مارکیٹ میں بیچ کر کمیشن کما رہا ہے۔
ضلع گجرات سے میجر ریٹائرڈ صدیق نے بھی عمران خان سے فون پر بات کرتے ہوئے انہیں بتایا تھا کہ وہ سرائے عالمگیر کے علاقے معصوم پور میں اپنے ’شہید‘ بیٹے میجر پرویز صدیق کے نام پر میموریل ہسپتال بنانے کے لیے 32 کنال سے زائد زمین پنجاب حکومت کو چودہ سال قبل دی چکے ہیں۔ تاہم اب تک اس ہسپتال کے لیے ایک اینٹ بھی نہیں لگ سکی۔ وزیراعظم نے ان کے مسئلے کو بھی فوری حل کرنے کی یقین دہانی کروائی تھی۔ اس حوالے سے رابطہ کرنے پر میجر صدیق کا کہنا تھا کہ فون کال کے بعد وزیراعظم کے ملٹری سیکرٹری بریگیڈیئر محمد احمد نے رابطہ کرکے یقین دہانی کروائی تھی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اور دوبارہ کوئی فون نہیں آیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے گاوں کے آس پاس کے پچاس گاؤں تک کوئی ہسپتال نہیں جس سے اہل علاقہ کو بہت پریشانی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی زمین اس مقصد کے لیے حکومت کے حوالے کی۔
اسلام آباد کے نواحی علاقے پھلگراں سے روبینہ سہیل راجہ نے وزیراعظم کو فون کر کے شکایت کی تھی کہ ’اب انکے علاقے میں کرپشن کا ریٹ بھی بڑھ گیا ہے اور ترقیاتی کام نہیں ہو رہا۔ اس حوالے سے رابطہ کرنے پر روبینہ سہیل کا کہنا تھا کہ ان کی کال کے بعد کئی لوگوں نے انہیں فون تو کیے ہیں لیکن عملی طور پر ابھی تک کوئی پیشرفت نہیں ہے۔
