کپتان کی مداخلت پر بزدار کا شراب لائسنس کیس لٹکا دیا گیا؟

وزیراعظم عمران خان کی مبینہ مداخلت کے بعد پانچ کروڑ روپے کے عوض ایک ہوٹل کو شراب کی فروخت کا لائسنس دلوانے کے الزام میں نیب کے زیر تفتیش وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کے خلاف کارروائی ڈھیلی پڑ جانے کی اطلاعات ہیں۔ باخبر حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے ایک انٹرویو میں وزیر اعلی عثمان بزدار کے خلاف شراب کا لائسنس دلوانے کے الزامات کی کھلی مذمت کرنے کے بعد اس معاملے کو ذاتی طور پر مانیٹر کرنا شروع کر دیا تھا چنانچہ نیب حکام نے دباؤ لیتے ہوئے تفتیش کی رفتار ہلکی کر دی ہے۔ شاید اسی وجہ سے نیب نے پہلی پیشی کے بعد وزیراعلی کو مزید تفتیش کے لیے اب تک دوبارہ طلب نہیں کیا۔
دوسری طرف شراب لائسنس اجراء کیس میں کپتان کے وسیم اکرم پلس نے خود کو بچانے کیلئے سارا مدعا کیس کے وعدہ معاف گواہ سابق صوبائی ڈی جی ایکسائز اکرم اشرف گوندل اور چیف سیکرٹری پنجاب پر ڈال دیا ہے۔ نیب پنجاب کو جمع کرائے گئے جوابات میں عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ شراب لائسنس جاری کرنا ڈی جی ایکسائز کی ذمہ داری ہے جس نے پنجاب کے چیف سیکرٹری کو لائسنس کے اجراء کے بعد بتایا۔ بزدار نے مؤقف اختیار کیا کہ 8 جنوری 2019ء کو ڈی جی ایکسائز نے مجھے دوسری مرتبہ شراب لائسنس کے اجرا کے لیے سمری بھیجی لیکن سمری بھجوانے تک لائسنس کا اجرا ہو چکا تھا۔تاہم چیف سیکرٹری اور ڈی جی ایکسائز نے لائسنس جاری کیے جانے کے معاملے کو چھپا لیا لہذا بزدار نے موقف اختیار کیا کہ اس کیس میں ان کا کوئی کردار نہیں بنتا۔
بزدار نے بتایا کہ شراب لائسنس کیس کی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق صوبائی وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نے شراب فروخت لائسنس کے اجراء کی منظوری دی، ڈی جی ایکسائز نے جلد بازی میں لائسنس جاری کیا، جبکہ سیکرٹری ایکسائز شیرعالم نے لائسنس منظوری کیلئے وزیراعلیٰ کو خط لکھا۔ کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ میسرز یونیکارن کو 6 ماہ کیلئے شراب لائسنس جاری کیا گیا، 9 جنوری 2019 کو ڈی جی ایکسائز نے یونیکارن کو شراب کی فروخت کا لائسنس جاری کیا، 22 جنوری 2019 کو سیکرٹری ریگولیشنز نے کہا کہ چیف سیکرٹری کی ہدایت پر عمل کیا جائے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے نیب میں جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ شراب لائسنس کا اجراء ڈی جی ایکسائز کی ذمہ داری ہے، چیف سیکرٹری نے بھی کہا کہ لائسنس کا اجرا متعلقہ افسر کا کام ہے۔ وزیر اعلی کے مطابق 8 جنوری 2019ء کو ڈی جی ایکسائز نے انہیں دوسری بار سمری بھیجی،اس وقت تک لائسنس کا اجرا ہو چکا تھا، لیکن چیف سیکرٹری اور ڈی جی ایکسائز نے معاملے کو چھپا لیا، عثمان بزدار کی جانب سے نیب کو دئیے گئے جواب میں کہا گیا کہ ڈی جی سے پوچھا جائے کہ انہوں نے بار بار وزیراعلیٰ کو سمری کیوں بھجوائی؟ قواعد وضوابط کے مطابق وزیراعلیٰ، چیف سیکرٹری اور پرنسپل سیکرٹری کا بھی شراب لائسنس کے اجرا میں کوئی کردار نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پرنسپل سیکرٹری نے سمری واپس چیف سیکرٹری کو بھیج دی۔ چیف سیکرٹری نے سمری پر لکھا کہ لائسنس کے اجرا میں احتیاط کی جائے۔
عثمان بزدار کی جانب سے نیب کو دئیے گئے جواب میں کہا گیا کہ 5 مارچ 2019ء کو سیکرٹری ایکسائز نے شراب لائسنس کیس کے لیے وزیر اعلی کے پرنسپل سیکرٹری کو ایک نوٹ بھیجا جس پر پرنسپل سیکرٹری نے سمری کو غیر ضروری قرار دیا تھا اور واضح کیا کہ ڈی جی ایکسائز غیر ضروری طور پر نوٹ بھیج رہے ہیں۔ بزدار نے نیب سے کہا ہے کہ ڈی جی ایکسائز سے پوچھا جائے کہ انہوں نے بار بار وزیراعلیٰ کو سمری کیوں بھجوائی؟ نیب کو پتا ہونا چاہیے کہ پرنسپل سیکرٹری وزیراعلیٰ ڈاک خانے کا کام نہیں کرتا۔ پرنسپل سیکرٹری کا کام قواعد کے مطابق معاملات وزیراعلیٰ تک پہنچانا ہے۔ عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ قواعد کے مطابق وزیراعلیٰ، چیف سیکرٹری اور پرنسپل سیکرٹری کا بھی شراب لائسنس کے اجرا میں کوئی کردار نہیں ہے۔ تاہم نیب کو وزیر اعلی پنجاب کی جانب سے سوالات کے جواب ملنے کے بعد دوبارہ سے تفتیش کے لئے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا جسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس معاملے میں وزیراعظم عمران خان کی مداخلت کے بعد تفتیش کی رفتار کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ نیب وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے خلاف لاہور کے ایک نجی ہوٹل کو 5 کروڑ روپے کی رشوت کے عوض شراب فروخت کرنے کا غیر قانونی لائسنس جاری کرنے کی تحقیقات کر رہا ہے جس میں بزدار ایک مرتبہ پیش ہو چکے ہیں اور جواب بھی جمع کرا چکے ہیں۔ اس کیس کے بعد سے انہیں عہدے سے ہٹا کر نیا وزیر اعلی لانے کی خبریں بھی موضوع بحث بنی ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر نیب بزدار کے جوابات سے مطمئن نہ ہوا تو ان کا اپنے عہدے پر برقرار رہنا بہت مشکل ہو گا۔
واضح رہے کہ شراب لائسنس اجرا کیس میں وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کو نیب حکام کی جانب سے وزیر اعلی پنجاب سے ان کی تنخواہ، آمدن کے ذرائع اور اگر کوئی کاروباری آمدن،گیس، بجلی ، ٹیلی فون، موبائل فون کے بلوں سمیت ملازمین کی تعداد سے متعلق بھی تفصیلات طلب کی گئی تھیں جبکہ وراثت میں حاصل کی گئی جائیدار سمیت منقولہ و غیر منقولہ جائیداروں کی تفصیلات بھی طلب کی گئی تھیں۔ نیب حکام کی طرف سے ایسے اثاثے جو خریدے گئے، لیز پر لیے گئے یا بذریعہ نیلامی و تحفے کی صورت میں وصول کیے گئے، ان کی تفصیلات مانگی گئی تھیں۔ ایسے اثاثے جو بزدار کی ملکیت نہیں رہے، وہ کب اور کیسے فروخت کیے گئے ان کی تفصیلات بھی طلب کی گئی تھیں۔ نیب کی طرف سے بزدار سے بیرون ملک دوروں کے حوالے سے بھی تفصیلات طلب کی گئی تھیں۔ وزیر اعلی پنجاب سے ان کے ذاتی بنک اکاونٹس سمیت اہل خانہ یا ان کے نام کریڈٹ کارڈز، قرضوں سمیت دیگر تفصیلات بھی طلب کی گئی تھیں۔ ان سے بچوں کے تعلیمی اخراجات اور دیگر تفصیلات بھی فراہم کرنے کا کہا گیا تھا۔عثمان بزدار سے پوچھا گیا تھا کہ وہ سیاست میں کب داخل ہوئے ، کون کون سے الیکشن میں حصہ لیا اور الیکشن اخراجات کی تفصیلات بھی طلب کی گئی تھیں۔ایسی جائیدادیں جو براہ راست ان کے نام نہیں یا کسی فیملی ممبر کے نام ہیں ان کی تفصیلات بھی پوچھی گئی تھی۔
عثمان بزادر کی طرف سے نیب میں جمع کرائے گئے جواب میں شراب لائسنس اجراء میں ڈی جی ایکسائز اور چیف سیکرٹری ایکسائز کو تو قربانی کا بکرا بنا کر خود کو بچانے کی کوشش جاری ہے تاہم تاحال ابھی تک انہوں نے اپنے اور اپنے خاندان کے اثاثوں کی تفصیلات نیب سے شئیر نہیں کیں۔
