کپتان کی چاپلوسی میں شبلی فراز نے احمد فراز کا نام کیسے ڈبویا؟

صبح و شام وزیراعظم عمران خان کی خوشامد کر کے اپنی وزارت پکی کرنے والے چاپلوس شبلی فراز نے اب اپنے کپتان کو خوش کرنے کے لیے ایک ایسا ہوشربا بیان داغ دیا ہے کہ ان کے مرحوم والد اور معروف شاعر احمد فراز کی روح بھی تڑپ اٹھی ہوگی۔ ایک انٹرویو میں شبلی فراز نے یہ دعوی کیا ہے کہ انکے والد احمد فراز کی شاعری اور نظریات میں وہی پیغام تھا جو کہ عمران خان لے کر چل رہے ہیں۔ آپ حیران مت ہوں۔ یہ سچ ہے اور شبلی فراز نے بالکل یہی موقف اختیار کیا ہے۔
ایک انٹرویو میں سینیٹر شبلی فراز کا کہنا ہے کہ احمد فراز کا بیٹا ہونے کی وجہ سے پیدا ہونے والی عوامی توقعات کا ان پر دباؤ رہتا ہے اور انکی بھر پور کوشش ہوتی ہے کہ وہ ان توقعات پر پورا بھی اتریں۔ اسی لیے انہوں نے سیاسی زندگی میں عمران کے ساتھ چلنے کا فیصلہ کیا چونکہ ان کے نظریے میں بھی وہی باتیں ہیں جو کہ ان کے والد احمد فراز کی شاعری اور نظریات میں دکھائی دیتی ہیں۔ چھوٹی سوچ رکھنے والے بڑے باپ کے چھوٹے بیٹے کے اس بھونڈے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ناقدین شبلی کی کلاس لے رہے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ شبلی ایک عظیم باپ کا وہ ناہنجار بیٹا ہے جس نے عمران خان اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کی خوشامد کرکے وزارت تو حاصل کر لی لیکن اپنے باپ کا نام ڈبو دیا۔ سوشل میڈیا پر شبلی فراز کے اس مضحکہ خیز دعوے کے بعد ناقدین ان سے پوچھ رہے ہیں کہ فراز کی وہ شاعری کہاں ہے جس میں وہ عمران خان جیسے غیر جمہوری اور آمرانہ نظریات اور افکار کا اظہار کر رہے ہیں۔
سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ شبلی کیا نہیں جانتے کہ احمد فراز ایک مستند انقلابی اور نظریاتی شاعر تھے جب کہ عمران خان ایک غیر نظریاتی اور موقع پرست سیاستدان ہے جسکی نہ کوئی کمنٹ ہے اور نہ کوئی نظریہ۔ ناقدین کہتے ہیں کہ احمد فراز نے تو فوجی آمریت کے خلاف عملی اور لفظی دونوں طرح کی جدوجہد کی لیکن عمران خان تو عملی اور لفظی طور پر پاکستان اور اس کے آئین کے ساتھ بار بار کھلواڑ کرنے والی فوجی اسٹیبلشمنٹ کا مہرہ ہے جو یو ٹرن لینے یعنی اپنی بات سے پھر جانے کو عظیم لیڈروں کی نشانی قرار دیتا ہے۔
سوشل میڈیا ناقدین کا کہنا ہے کہ احمد فراز نے تو طالع آزما قوتوں سے مفاہمت کی بجائے ہمیشہ انکے خلاف مزاحمت کی۔ دوسری طرف عام آدمی کی نظر میں تو عمران خان ایک روایتی اور غیر نظریاتی سیاست دان ہے جو کہ اقتدار میں آنے کے لیے ہر سمجھوتہ کرنے کو تیار رہتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے شبلی فراز کو یہی کٹھ پتلی سیاست دان انقلابی اور نجات دہندہ نظر آتا ہے جسکا مطلب یہ ہے کہ اس نے اپنے والد کی نظریات اور شاعری کو پڑھا ہی نہیں ورنہ وہ اس طرح کی بونگی نہ مارتا۔
ناقدین کہتے ہیں کسے معلوم نہیں کہ احمد فراز کے خیال میں پاکستان کے تمام مسائل کی جڑ فوج کا سیاسی کردار اور بار بار کے مارشل لا ہیں۔ دوسری طرف فراز کے بیٹے شبلی فراز کا ممدوح عمران خان وہ شخص ہے جو سیاست میں فوج کے ٹاوٹ کا کردار ادا کر رہا یے اور صبح و شام یہ اعلان کرتا ہے کہ میں فوج کا نمائندہ ہوں اور یہ میری فوج ہے عوام کی نہیں۔ ایسے موقع پرست اور جمہوریت کش پتلے کی خوشنودی کی خاطر شبلی فراز کا اپنے باپ کے نظریات سے متعلق غلط فہمی پید اکرنا انتہائی افسوسناک قرسر دیا جا رہا ہے۔ ناقدین کہتے ہیں کہ تحریک انصاف حکومت میں وزیر بننے کے بعد لگتا ہے کہ شبلی فراز اہنے والد احمد فراز کے نظرہات اور جدوجہد کو یکسر بھلا کر وہی کررہے ہیں جو آج کی سیاسی مصلحت انہیں سمجھا رہی ہے۔ شاید شبلی فراز سمجھ چکا ہے کہ ہماری سیاست میں جب تک کسی کو مضبوط کندھے نصیب نہ ہوں اس وقت تک اسے حکومت نہیں مل سکتی۔ اور خوش قسمتی سے ان عمران اور شبلی دونوں کو نہایت ہی طاقت ور اور بہت ہی مضبوط کندھے مل گئے ہیں۔ لہذا ان حالات میں شبلی فراز کو عمران خان بھی احمد فراز جیسا ہی نظریاتی اور انقلابی لگے گا۔
سینیٹر شبلی فراز کا کہنا ہے کہ معروف شاعر احمد فراز کا بیٹا ہونے کی توقعات کا ان پر دباؤ ہوتا ہے تاہم انہوں نے سیاسی زندگی میں عمران خان کے نظریے میں وہی باتیں پائیں جو ان کے والد کی شاعری میں تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کو بچپن سے یہ مسئلہ رہا ہے کہ بڑے شخص کا بیٹا ہونے کی توقعات پر پورا اتریں۔ لوگوں کی توقعات ہوتی ہیں کہ اتنے بڑے شخص کا بیٹا ہونے کی حیثیت سے اس کے فوائد بھی ہوتے ہیں تو نقصان بھی ہوتے ہیں کہ آپ مسلسل لوگوں کو غلط ثابت کرنے میں لگے ہوتے ہیں اس سے ظاہر ہے ایک دباؤ تو ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ احمد فراز مرحوم کی یہ خواہش تھی کہ ان کے دونوں بیٹے اپنی شخصیت کو خود بنائیں اور اپنے والد یا خاندان کے کسی فرد کے مرہون منت ہو کر اپنی مستقبل کی پلاننگ نہ کریں۔ شبلی فراز نے کہا کہ میں ذاتی طور پر یقین رکھتا ہوں کہ پدرم سلطان بود والی بات نہیں ہے، اپنی پہچان خود بنانی چاہیے۔ پروفیشنل زندگی میں بھی اللہ کا شکر ہے میں ایک انویسٹمنٹ بینکر تھا اور سیاسی زندگی میں بھی یہ کوشش کی اور میں نے وزیراعظم عمران خان کے نظریے کے ساتھ خود کو پہچانا کیونکہ یہ کہ بنیادی طور یہ وہی باتیں ہیں جن کا میرے والد صاحب شاعری میں ذکر کرتے تھے اور میں ایک سپاہی ہونے کی حثیت سے اسی سفر پر کاربند ہوں۔
تاہم شبلی فراز جتنا چاہے اپنے والد اور عمران خان کے نظریات میں مماثلت پیدا کرنے کی کوشش کرلیں لیکن اہل نظر جانتے ہیں کہ کپتان اور فراز دو الگ منزلوں کے مسافر ہیں۔ فراز مزاحمت اور بغاوت کا ستعارہ ہیں تو عمران خان اسٹیبلشمنٹ کے ایک مہرے کےسوا کچھ نہیں۔ شبلی فراز نے کپاتن کو نظریاتی اور انقلابی قارا دے کر اپنے مرحوم والد کے نام کو بٹہ لگادیا ہے۔ احمد فراز کو تو یاد کرتے ہی چہرے پر بشاشت پھیل جاتی ہے۔ وہ احمد فرزاز جو یاروں کا یار تھا ، منہ پھٹ کی حد تک صاف گو، چٹکلے باز۔ وہ باغی جو زندگی بھر ہر آمر اور ہر مطلق العنان کے خلاف رہا۔ ایسے نابغہ روزگار شخص کا ایک مصنوعی سیاستدان سے موازنہ شاید توہین کے زمرے میں آتا ہو۔ سب جانتے ہیں کہ احمد فراز نے شروع میں ہی اپنا رشتہ عوامی نیشنل پارٹی اور اس کی جمہوری اور عوامی سیاست سے جوڑ لیا تھا۔ آخر وقت تک یہ تعلق برقرار رکھا۔مشرقی پاکستان میں فوجی ایکشن کے موقع پر انہوں نے جو نظم لکھی، اس پر بھٹو کی حکومت کے وزیر دفاع ٹکا خاں نے انہیں کال کوٹھڑی میں ڈال دیا تھا۔ فیض احمد فیض کے کہنے پر احمد فراز نے اکادمی ادبیات پاکستان کی سربراہی تو سنبھال لی تھی لیکن اپنے خیالات اور نظریات پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ وہ دل کی بھڑاس اپنے شعروں اور اپنی بزلہ سنجی میں نکال لیا کرتے تھے۔ضیاالحق کے زمانے میں فراز صاحب کہاں رہے؟ یہ سب جانتے ہیں۔ مشرف دور میں جب پاکستان کی دونوں بڑی سیاسی جماعتیں اور احمد فراز جیسے انقلابی فوجی آمریت کے خلاف بر سر پیکار تھی تو عمران خان جنرل مشرف کا ساتھی بنا ہوا تھا۔۔
عوامی نیشنل پارٹی کے ساتھ احمد فراز کی وابستگی کا مطلب یہ تھا کہ وہ وفاقی حکومت کے اختیارات کی تقسیم اور صوبوں کو ان کے جائز اختیارات دینے کے حامی ہیں لیکن قسمت کی ستم ظریفی دیکھئے کہ ان کے ہونہار صاحبزادے شبلی فراز نے اطلاعات کی وزارت سنبھالنے کے بعد آئین میں اٹھارہویں ترمیم کے بارے میں جو خیال ظاہر کیا، وہ ان کے والد گرامی احمد فراز کے خیال سے بالکل ہی مختلف ہے۔ ناقدین کہتے ہیں کہ اگر شبلی فراز نے پاکستان کی سیاسی تاریخ پڑھ رکھی ہے تو انہیں یاد ہو گا کہ صوبوں کو ان کے اصل حقوق دینے کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ پاکستان کے قیام کے بعد سب سے پہلے یہ آواز مشرقی پاکستان سے اٹھی تھی اور اس آواز کو دبانے کے لئے ہی ون یونٹ کا شوشہ چھوڑا گیا تھا۔ اب اسٹیبلشمنٹ کی شہ پر شبلی فراز اپنے والد کے نظریات کے یکسر الٹ چل رہے ہیں۔ اب انہیں ایک کٹھ پتلی اپنا ہیرو لگتا ہے، ڈکٹیٹر جمہوریت پسند لگتے ہیں اور عوام کے مقبول لیڈر انہیں غدار لگتے ہیں۔
