کپتان کے دعوؤں کے برعکس، پاکستان میں کرپشن بڑھ گئی

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نےدنیا کے 180 ممالک میں کرپشن سےمتعلق سال 2019 کی رپورٹ جاری کردی۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق 2018 کے مقابلے میں 2019 کے دوران پاکستان میں کرپشن بڑھ گئی. جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 2018 کی نسبت 2019 کے دوران پاکستان میں کرپشن بڑھ گئی، 2018 کی کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں پاکستان کا سکور 33 تھا جو2109 میں خراب ہوکر 32 پر آگیا ہے.
رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ 10 برس میں یہ پہلی بارہے کہ کرپشن سےمتعلق انڈیکس میں پاکستان آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے گیا ہے، زیادہ کرپشن والے ممالک میں پاکستان کا درجہ 117 سے بڑھ کر 120 ہوگیا۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ 2019 میں زیادہ تر ممالک کی کرپشن کم کرنے میں کارکردگی بہتر نہیں رہی اور ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی کرپشن پرسیپشن انڈیکس کے 180 رینکس میں پاکستان کا رینک 120 ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2019 میں پہلا نمبر حاصل کرنے والے ڈنمارک کا اسکور بھی ایک پوائنٹ کم ہو کر 87 رہا جبکہ امریکا، برطانیہ، فرانس اور کینیڈا کا انسداد بدعنوانی کا اسکور بھی کم رہا۔
رپورٹ کے مطابق امریکا کا اسکور 2، برطانیہ، فرانس کا 4 اورکینیڈا کا انسداد بدعنوانی اسکور 4 درجہ ہوگیا جبکہ جی7کے ترقی یافتہ ممالک بھی انسداد بدعنوانی کی کوششوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔پڑوسی ملک بھارت کا اسکور اکتالیس ہے.
صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ اکثر ترقی یافتہ ملکوں نے بھی توقعات کے مطابق کارکردگی نہیں دکھائی جن میں کینیڈا، فرانس، برطانیہ اور 2019 کے انڈیکس میں پہلے نمبر پر رہنے والا ڈنمارک بھی شامل ہے۔ انڈیکس میں ایشیا پیسیفک کا اوسط اسکور 100 میں سے 45رہا اور اس کے تحت سب سے کرپٹ ملک 16کے اسکور کے ساتھ افغانستان رہا جبکہ سب سے شفاف ملک 87کے اسکور کے ساتھ نیوزی لینڈ رہا اور 85کے اسکور کے ساتھ سنگاپور فہرست میں چوتھے نمبر پر موجود ہے۔
ٹرانسپرینسی انٹرنیشنل نے دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی کرپشن روکنے کے لیے اپنی سفارشات بھی دی ہیں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق کرپشن روکنے کیلئے سیاست میں بڑے پیسے اور اثرورسوخ کو قابو کیا جائے، بجٹ اور عوامی سہولیات ذاتی مقاصد اور مفاد رکھنےوالوں کے ہاتھوں میں نہ دی جائیں۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے مزید کہا ہے کہ مفادات کے تصادم اور بھرتیوں کے تیزی سے بدلتے ہوئے طریقہ کار کوقابو کیا جائے۔ دنیا بھر میں کرپشن روکنے کےلیے لابیز کو ریگولیٹ کیا جائے۔ الیکٹورل ساکھ مضبوط کی جائے اور غلط تشہیر پر پابندی لگائی جائے۔ رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ کرپشن میں کمی لانے کیلئے شہریوں کو با اختیار کرتے ہوئے، سماجی کارکنوں، نشاندہی کرنے والوں اور جرنلسٹ کو تحفظ دیا جائے جبکہ کرپشن روکنے کے لیےچیک اینڈ بینلنس اور اختیارات کو علیحدہ کیا جائے۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی منیجنگ ڈائریکٹر پیٹریشیا مریرا نے کہا کہ اکثر ملکوں میں کرپشن کے خلاف کوئی پیشرف نہ ہونا مایوس کن ہے جس سے دنیا بھر میں شہریوں پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن کے خاتمے اور لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے سیاست اور بڑی رقوم کے درمیان تعلقات سے نمٹنا ہو گا، فیصلہ سازی میں تمام شہریوں کی نمائندگی ہونی چاہیے۔ تجزیے کے مطابق جن ملکوں میں انتخابات اور سیاسی جماعتوں کے مالیات کے شعبوں پر ذاتی مفادات حاوی ہوتے ہیں، وہ ملک کرپشن سے زیادہ بہتر طریقے سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت سے عاری ہے۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی سربراہ ڈیلیا فریرا روبیو حکومت کی کرپشن پر مایوسی اور اداروں پر عدم اعتماد اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ ہمیں شفاف سیاسی قیادت کی ضرورت ہے، حکومتوں کو سیاسی جماعتوں میں پیسے کے ذریعے کرپشن اور سیاسی نظام پر اثر انداز ہونے والے ذاتی مفادات جیسے مسائل کا فوری حل نکالنا ہو گا۔فہرست میں موجود 180 ملکوں اور علاقوں میں سے دو تہائی 50 سے زائد اسکور کرنے میں ناکام رہے اور ان کا اوسط اسکور 43 رہا۔2012 سے اب تک صرف 22 ملکوں کے اسکور میں نمایاں بہتری آئی ہے جن میں ایستونیہ، یونان اور گیانا شامل ہیں جبکہ 21ملکوں کے اسکور میں نمایاں کمی دیکھی گئی جس میں آسٹریلیا، کینیڈا اور نکارگوا شامل ہیں۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی تحقیق میں ثابت ہوا کہ اگر ملکوں کو کرپشن کے خلاف مہم میں تیزی لانی ہے تو متعدد جدید ملکوں کی معیشت آرام یا اطمینان سے بیٹھنے کا ظرہ مول نہیں لے سکتی اور انہیں فوری اقدامات کرنے ہوں گے۔دنیا میں بڑھتی کرپشن کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے جی7 ملکوں کی فہرست میں شامل چار ملکوں کا اسکور گزشتہ سال کی نسبت کم رہا جہاں کینیڈا کے اسکور میں 4، فرانس اور برطانیہ 3 اور امریکا کا اسکور 2 کی کمی دیکھی گئی۔اس فہرست میں شامل جرمنی اور جاپان کے اسکور میں کوئی بہتری نہیں آئی جبکہ اٹلی نے ایک پوائنٹ حاصل کیا ہے۔
