کیاحالیہ گرفتاریاں حکومت کی مضبوطی کو ظاہر کرتی ہیں ؟

سیاسی تقسیم کے اس ماحول میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں پر مقدمات اور ان کی گرفتاریوں سے حکومت کو سیاسی نقصان نہیں ہو گا بلکہ اس کے حامیوں میں اس کی سپورٹ مزید بڑھے گی تاہم ملکی مفاد میں  تناؤ ختم کرنے کے لئے سیاسی مخا لفین کے درمیان ایک اور میثاق جمہوریت کے اشد ضرورت ہے ۔ سیاسی تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ حالیہ گرفتاریوں سے عمران خان اور پی ٹی آئی کے بارے  عوام میں یہ تاثر مضبوط ہوگا کہ انہیں اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل نہیں ہے۔ واضح رہے کہ اپریل 2022 میں پی ڈی ایم حکومت کے برسرا اقتدار آنے کے بعد اب تک متعدد پی ٹی آئی رہنماؤں کو مختلف مقدمات میں گرفتار اور پھر رہا کیا جا چکا ہے۔

بدھ کو پی ٹی آئی کے سینئر نائب صدر فواد چوہدری کی گرفتاری کے بعد  حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔فواد چوہدری سے قبل گزشتہ نو ماہ میں شیریں مزاری، راشد شفیق، شہباز گِل، اعظم سواتی اور پی ٹی آئی کے قریب سمجھے جانے والے سوشل میڈیا بلاگرز کو بھی گرفتار کیا جا چکا ہے،اس حوالے سے مبصرین سوال اٹھا رہے ہیں کہ ایک جمہوری دور حکومت میں مخالفین کی گرفتاریوں سے حکومت کو کیا سیاسی فائدہ ہو رہا ہے؟گزشتہ سال مئی میں شیریں مزاری کو  800 کنال اراضی کی غیر قانونی منتقلی کے مقدمے میں ڈرامائی انداز میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔ ان کی گرفتاری اینٹی کرپشن پنجاب نے کی تھی۔ ا سی رات شیریں مزاری کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے رہا کر دیا۔

گذشتہ سال مئی میں ہی پی ٹی آئی کے اتحادی سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کے بھتیجے شیخ راشد شفیق کو سعودی عرب سے اسلام آباد پہنچنے پر تحویل میں لے لیا گیا۔ ان پر وزیراعظم شہباز شریف کے دورے کے دوران سعودی عرب میں احتجاج منظم کرنے کا الزام تھا۔تاہم چند دن بعد اٹک جیل سے ضمانت منظور ہونے پر ایم این اے شیخ راشد شفیق کو رہا کر دیا گیا۔

اگست 2021 میں سابق وزیراعظم عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گِل کو اسلام آباد سے گرفتار کیا گیا تھا۔ شہباز گِل نے نجی ٹی وی چینل ’اے آر وائی‘ کے ایک پروگرام میں متنازع گفتگو کی تھی جس کی بنیاد پر ان کے خلاف اداروں میں بغاوت کی کوشش پر مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ تقریباً ایک ماہ بعد انہیں اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے ضمانت پر رہا کر دیا گیا تاہم ان کا ٹرائل مقامی عدالت میں اب بھی چل رہا ہے۔

پی ٹی آئی کے  سینئر نائب صدر  سینیٹر اعظم سواتی کو گذشتہ سال 12 اکتوبر کو سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے خلاف ٹویٹ کرنے پر وفاقی تحقیقاتی ادارے کے سائبر کرائم سیل نے گرفتار کیا تھا۔ضمانت پر رہائی کے بعد انہیں 27 نومبر کو ایف آئی اے راولپنڈی نے مزید متنازع ٹویٹس کرنے پر ایک بار پھر گرفتار کر لیا تھا تاہم چند ہفتوں بعد انہیں حال ہی میں رہائی ملی ہے۔جمعرات کو اسلام آباد کی مقامی عدالت نے الیکشن کمیشن کے ارکان اور اہل خانہ کو دھمکیاں دینے کے الزام کے کیس میں جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے رہنما فواد چوہدری کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔25جنوری کو فواد چوہدری کولاہور سے گرفتار کیا گیا تھا اور اسلام آباد کی مقامی عدالت نے دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر انہیں پولیس کے حوالے کر دیا تھا۔

حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی رہنماؤں کی گرفتاریوں پر تجزیہ کار ضیغم خان نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس وقت ملک میں جو سیاسی تقسیم کا ماحول ہے اس میں جو گروپ حکومت کا حامی ہے وہ اس طرح کے عمل سے خوش ہوتا ہے۔ان کے مطابق پی ٹی آئی ارکان کی گرفتاریوں سے پی ڈی ایم کی اپنے حامیوں میں سپورٹ مزید مضبوط ہوتی ہے۔ضیغم خان کے مطابق ’حکومت کی جانب سے مخالفین کی گرفتاریوں پر میڈیا اور اہل دانش تنقید کرتے ہیں مگر اس سے اسے سیاسی نقصان نہیں ہوتا بلکہ سپورٹ اور مضبوط ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ حالیہ گرفتاریوں سے عمران خان اور پی ٹی آئی کو نقصان ہوگا کیونکہ عام عوام میں یہ تاثر مضبوط ہوگا کہ انہیں اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل نہیں ہے۔

’پنجاب اور دیگر علاقوں میں جہاں دھڑے کی سیاست ہے وہاں یہ تاثر کہ اسٹیبلشمنٹ کسی پارٹی کے خلاف ہے سیاسی نقصان کا باعث ہوتا ہے کیونکہ خاموش اور فیصلہ کن اکثریت ایسی جماعت کی حمایت نہیں کرتی۔ اسی وجہ سے 2018 کے انتخابات میں عمران خان اور پی ٹی آئی کو فائدہ ہوا تھا۔تجزیہ کار محمل سرفراز کے مطابق ’موجودہ حکومت کے مخالفین کی گرفتاریوں کا عمل  اتنا ہی غلط ہے جتنا پی ٹی آئی دور میں مخالفین کو جیلوں میں ڈالنا غلط تھا۔انہوں نے کہا کہ اس سے نہ صرف سیاسی جماعتوں کو نقصان ہوتا ہے بلکہ سسٹم کو بھی نقصان ہوتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ دیگر اداروں کے ساتھ الیکشن کمیشن بھی ریڈ لائن بن گیا ہے مگر سیاستدان کیوں اپنی ریڈ لائن نہیں بناتے۔اسی وجہ سے میں کہتی ہوں کہ نئے میثاق جمہوریت کی ضرورت ہے جس میں پی ٹی آئی لازمی شامل ہو۔ پہلے والے میثاق جمہوریت کی وجہ سے 2008 سے 2013 تک اپوزیشن نے سیاسی حکومت کو گرانے کی کوشش نہیں کی، نئے میثاق جمہوریت سے سسٹم مضبوط ہو گا۔ سیاستدانوں کو آپس میں بیٹھنا چاہیے۔

Back to top button