کیا اب عمران پنجاب میں بلدیاتی الیکشن کروانے کا رسک لیں گے؟

خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں عبرتناک شکست کے بعد اب اس بات کا واضح امکان ہے کہ اگلے سال کے شروع میں پنجاب میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں بھی حکمران جماعت تحریک انصاف کا دھڑن تختہ ہو جائے گا. لہذا اپوزیشن حلقوں کی جانب سے اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ کپتان حکومت پنجاب میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کو ملتوی کرنے کی کوشش کرے گی۔ یاد رہے کہ اگلے سال کے شروع میں پنجاب میں مقامی حکومتوں کے انتخابات ہونا ہیں اور صوبے میں مسلم لیگ نواز کو مضبوط ترین جماعت سمجھا جا رہا ہے جس کا اندازہ چند ماہ پہلے ہونے والے کنٹونمنٹ الیکشنز میں بھی ہو چکا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات سے یہ امید بندھ گئی ہے کہ مقامی حکومتوں کا رکا ہوا سلسلہ دوبارہ پٹری پر چڑھ جائے اور ضلعی حکومتیں جن کو جمہوریت کی نرسری کہا جاتا ہے، وہ پھل پھول دینے لگیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مقامی حکومتوں کے ساتھ دوہری بد قسمتی یہ رہی ہے کہ ملک میں جمہوریت کے ساتھ ان کا متضاد تعلق جڑ گیا ہے۔ جب ملک میں مارشل لا ہوتا ہے تو اقتدار عوام کے دروازے پر پہنچانے کی بات شروع ہو جاتی ہے مگر جب ڈکٹیٹر شپ کا خاتمہ ہوتا ہے، اور قومی اور صوبائی حکومتوں کے الیکشن ہوتے ہیں تو اس کے ساتھ ہی مقامی حکومتیں سرد خانے میں چلی جاتی ہیں۔ یاد رہے کہ ایوب خان کے دور میں پہلی دفعہ بنیادی جمہوریتوں کی اصطلاح استعمال ہوئی اور ایک بی ڈی سسٹم کے نام کا نظام آیا۔ اس کے بعد ضیا دور میں 1979 میں مقامی حکومتوں کا قانون آیا اور پھر اس کے بعد مشرف دور میں ایک طاقتور قانون بھی آیا اور دو دفعہ الیکشن بھی ہوئے۔ ڈکٹیٹرشپ میں مقامی حکومتوں کی ترویج کی ایک وجہ نظر آتی ہے۔ آمریت کے ادوار میں نچلی سطح پر سیاسی سرگرمیاں ’محفوظ‘ سمجھی جاتی ہیں۔ سیاسی ماحول بھی قائم ہو جاتا ہے اور نظام کو کوئی خطرہ بھی لاحق نہیں ہوتا۔ ضرورت پڑنے پر سپورٹ بھی مل جاتی ہے۔
سیاسی دور میں یا تو مقامی انتخابات ہوتے نہیں اور اگر ہوں بھی تو اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے میں ہچکچاہٹ سے کام لیا جاتا ہے۔ اس رجحان سے کوئی بھی پارٹی مبرا نہیں۔ پرانی پارٹیوں میں ن لیگ اور پی پی پی نے مقامی حکومتوں کے اختیارات باقاعدہ کم کیے اور حتی الوسع کوشش کی کہ وسائل اور اختیارات صوبائی سطح تک ہی رہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے خیال میں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ 18 ترمیم سے فائدہ اٹھانے والی صوبائی حکومتیں آگے ضلعوں میں اقتدار منتقل کریں مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اس کی یہی توجیہہ ہو سکتی ہے کہ اقتدار حاصل کرنا سب کو اچھا لگتا ہے مگر اس میں شراکت سے ہر کوئی گریز کرتا ہے۔ پیپلز پارٹی کے دور میں بھی بحالت مجبوری انتخابات کرائے گئے مگر میئر کراچی احتجاج کرتے ہی رہ گئے۔ اسی طرح ن لیگ کے تحت لاہور کے بھی ایک میئر تھے مگر شہباز شریف کے سایے تلے ان کا نام اور کام دونوں ہی کسی کا یاد نہیں۔ پی ٹی آئی کے باقی دعوں کے ساتھ مقامی حکومتوں میں بھی بلند و بانگ دعوے رہے ہیں۔ گراؤنڈ پر مگر خاطر خواہ تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی۔ 2018 کے بعد جب پنجاب اور وفاق میں بھی حکومت بنی، اس کے ساتھ ہی پنجاب میں بجائے اس کے کہ ایک مضبوط نظام تشکیل پاتا، پہلے سے موجود کمزور ضلعی حکومتیں بھی ختم کر دی گئیں۔ 2019 میں نئے قوانین اور ترامیم کی گئی مگر اس کے بعد بھی دو سال تک انتخابات کو ملتوی کیا گیا۔ اب بھی سپریم کورٹ کی مداخلت اور دباؤ کے بعد انتخابات کا اعلان کیا گیا مگر پنجاب کی حد تک اس میں ہر ممکن تاخیری حربے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ ان تاخیری حربوں کے پیچھے بھی سیاسی وجوہات ہیں اور اب یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں عبرتناک شکست کے بعد عمران خان حکومت بھی یہ کوشش کرے گی کہ اگلے سال کے شروع میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کو اگلے عام الیکشن تک لٹکا دیا جائے۔
سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ہر محاذ پر عمران خان حکومت کی ناکام ترین کارکردگی کے بعد ایک بات ہے کہ اگلے الیکشن میں تحریک انصاف کا دھڑن تختہ ہونے جا رہا ہے۔ پنجاب میں پی ٹی آئی کی سیاسی کشتی شروع سے ہی سنبھل نہیں سکی۔ ایک کے بعد ایک ضمنی انتخاب میں ان کو شکست ہوئی۔ ڈسکہ، وزیر آباد، لاہور اور اب خانیوال میں ن لیگ نے میدان مارا ہے۔ کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات تک میں بھی مقابلہ سخت رہا ہے۔ ایسے ماحول میں پورے پنجاب میں انتخابات کروانا وہ رسک ہے جو شاید پی ٹی آئی لینا نہیں چاہتی گی۔ دوسری وجہ یہ کہ اسکے اتحادیوں کے ساتھ ساتھ اختلافات بھی ہیں۔ پنجاب میں مقامی حکومتوں کے پرانے ماہر ق لیگ میں ہیں اور موقعے کی تلاش میں بھی ہیں کہ کس طرح اپنی سیاسی طاقت بڑھائیں۔ اتحادیوں کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات بھی اب ڈھکے چھپے نہیں۔
ایک اور وجہ اب الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا استعمال ہے جس کو پی ٹی آئی ہر صورت میں الیکشن کا حصہ بنانا چاہتی ہے۔ اس لیے ابھی بھی پنجاب میں مقامی حکومتوں کا مستقبل خاص روشن نہیں ہے اور اس میں اپوزیشن کے عدم دلچسپی کا بھی واضح کردار ہے۔ مقامی حکومتوں کے انتخابات ایک خوش آئند قدم ہے۔ دیر سے ہی سہی مگر نچلی سطح پر اقتدار ہمارے آئین اور جمہوریت کا تقاضا ہے۔ میئر کا براہ راست الیکشن بھی ملک میں پہلی بار ہو رہا ہے جو کہ ضلعی سطح پر ایک ذمہ دار اور خود مختار سیٹ اپ کا پیش خیمہ ثابت ہو گا۔ عوام کے براہ راست ووٹوں سے منتخب شدہ میئر اپنے اختیارات کے بارے میں حساس بھی ہوگا اور جواب دہ بھی۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ عمران حکومت پنجاب میں بلدیاتی الیکشنز ملتوی کرنے کے لیے کونسا ہتھکنڈا استعمال کرتی یے۔
