کیا اسٹیبلشمنٹ نے اپوزیشن کی تحریک کا دباؤ لے لیا ہے؟


اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کی جانب سے چلائی جانے والی حکومت مخالف تحریک اور اسکے جلسوں میں فوجی قیادت کے خلاف اپنائے جانے والے بیانیے کے نتائج آنا شروع ہوگئے ہیں جس کے نتیجے میں ریاست سے بالاتر ریاست کہلانے والی طاقتور اسٹیبلشمنٹ نے دباو لیتے ہوئے پی ڈی ایم کی اتحادی جماعتوں سے پس پردہ مذاکرات کے دروازے کھول دئیے ہیں۔
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو اور مریم نواز کی جانب سے اپنے اسٹیبلشمنٹ مخالف موقف میں نرمی کی بنیادی وجہ دونوں فریقین کے مابین پس پردہ شروع ہونے والا ڈائیلاگ ہے جس کو حکومت سے بھی خفیہ رکھا جا رہا ہے۔ ان مذاکرات کا بنیادی مقصد پاکستان کو مزید مسائل میں الجھنے سے بچانا ہے اور کوئی ایسا راستہ تلاش کرنا ہے جس سے ملک کی بہتری کی طرف گامزن ہو جائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کو اقتدار میں لانے والی اسٹیبلشمنٹ دو سال گزرنے کے بعد اب خود بھی اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ اس کا یہ تجربہ بری طرح ناکام ہوا ہے اور اب معاملات بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نہ تو کھلے عام 2018 کے الیکشن میں کروائے جانے والی دھاندلی کو تسلیم کر سکتی ہے اور نہ ہی سر عام یہ الزام ماننے کو تیار ہے کہ وہ ایک منصوبے کے تحت عمران خان کو برسراقتدار لائی۔
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ یہ موقف رکھتی ہے کہ ماضی میں جو ہوا اس کو بھلا کر پاکستان کی بہتری کے لئے آگے بڑھنا چاہیے۔ تاہم اپوزیشن جماعتوں کا یہ موقف ہے کہ اگر ملک کو بہتری کی جانب لیجانا ہے تو اسٹیبلشمنٹ کو ماضی میں کی گئی غلطی کا کفارہ ادا کرنا ہو گا۔ ذرائع کہتے ہیں کہ غلطی کا کفارہ ادا کرنے کے لیے اسٹیبلشمنٹ کو نیوٹرل ہو کر ایک سائیڈ پر ہونا ہوگا تاکہ اپوزیشن جماعتیں پہلے پنجاب اسمبلی اور پھر قومی اسمبلی میں عدم اعتماد کی تحریکیں لا کر سیاسی تبدیلی کا آغاز کرسکیں۔ ذرائع کہتے ہیں کہ اپوزیشن درست طور پر یہ سمجھتی ہے کہ ماضی میں اگر عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ کی ننگی چٹی حمایت حاصل نہ ہوتی تو عمران کے لیے اقتدار میں آنا اور پھر اتنی کم اکثریت والی حکومت چلانا ناممکن تھا۔
اپوزیشن ابھی تک سینٹ کے چیئرمین کے خلاف اپنی تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کو بھی نہیں بھلا پائی جس میں آئی ایس آئی نے اہم ترین کردار ادا کیا تھا اور صادق سنجرانی کو بچا لیا تھا حالانکہ سینٹ میں اپوزیشن جماعتوں کی اکثریت تھی۔ لہذا اب اگر اسٹیبلشمنٹ اور اپوزیشن میں تبدیلی لانے پر اتفاق ہوتا ہے تو حکومت کو توڑے بغیر آئینی طریقے سے وزیراعظم کو گھر بھجوانے کا صرف ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہے قومی اسمبلی میں عدم اعتماد کی تحریک۔ ذرائع کہتے ہیں کہ اپوزیشن فوجی اسٹیبلشمنٹ سے اس بات کی یقین دہانی حاصل کرنا چاہے گی کہ اگر وہ پنجاب اور مرکز میں وزیراعلیٰ اور وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریکیں لاتی یے تو ان کو ناکام بنانے کے لیے اسٹیبلشمنٹ حکومت کا ساتھ نہیں دے گی۔ چنانچہ یہ تمام معاملات طے کرنے کے لیے فوجی اسٹیبلشمنٹ نے اپوزیشن کی جماعتوں سے پس پردہ مذاکرات شروع کر دیے ہیں۔
سیاسی تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ سچ یہی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ خود کو جتنا طاقتور سمجھ رہی تھی اتنی طاقتور اب وہ نہیں رہی۔ اپوزیشن کے جلسوں اور اسکے اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیے نے فوجی قیادت پر یقینا بہت زیادہ دباؤ ڈالا ہے جس کے بعد اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کے دروازے دوبارہ کھول دیے گئے ہیں۔ اسی لئے جب بلاول بھٹو زرداری نے بی بی سی سے ایک انٹرویو میں نواز شریف کی سخت ترین فوج مخالف حکمت عملی کے بارے میں گفتگو کی تو مریم نواز نے بھی بی بی سی سے انٹرویو میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مشروط طور پر مذاکرات کے دروازے کھولنے کی نوید سنا دی۔ اسی طرح مولانا فضل الرحمٰن پی ڈی ایم کی سربراہی کے باوجود بھی احتیاط اور خاموشی کی جانب مائل نظر آتے ہیں اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف کوئی ہارڈ لائن پوزیشن نہیں لے رہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی جانب سے چلائی گئی حکومت مخالف تحریک کا بنیادی مقصد نہ صرف عمران خان سے جان چھڑوانا ہے بلکہ مارچ 2022 کے سینٹ الیکشن سے پہلے انہیں گھر بھجوانا بھی ہے تاکہ وہ ایوان بالا میں اکثریت حاصل نہ کر پایئں۔ ذرائع کہتے ہیں کہ اپوزیشن اتحاد دسمبر میں اپنے ھکومت مخالف جلسے ختم کرکے جنوری میں پنجاب اور پھر مرکز میں وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریکیں لانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے جس کی کامیابی کے امکانات کا دارومدار اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ طے پانے والے معاملات پر ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button