کیا عاصم باجوہ کی آخری منزل پاپاجونز کے پیزا ہی ہوں گے؟

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے تصدیق کردی ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم باجوہ کی بطور چیئرمین سی پیک اتھارٹی مدت معیاد ختم ہو گئی ہے اور وہ اس وقت ذاتی حیثیت میں کام کر رہے ہیں، سرکاری حیثیت میں نہیں۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے عاصم باجوہ نے بیرون ملک اپنے خاندان کے اربوں روپے کے اثاثوں کی خبر سامنے آنے کے بعد وزیراعظم کے معاون خصوصی کے عہدے سے بھی استعفی دے دیا تھا لیکن چیئرمین سی پیک اتھارٹی کا اپنے پاس رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ لیکن شومئی قسمت کے اب سی پیک اتھارٹی بھی قانونی طور پر ختم ہو چکی ہے اور بقول شخصے عاصم باجوہ نہ گھر کے رہے ہیں اور نہ ہی گھاٹ کے اور ایسا لگتا ہے کہ بالآخر وہ پاپاجونز کے پیزا ہی بیچا کریں گے۔
بی بی سی کو انٹرویو میں وفاقی وزیر نے کہا کہ عاصم باجوہ کی اتھارٹی کی مدت ختم ہو گئی ہے لیکن وہ آج بھی میرے لیے بہت کار آمد ثابت ہو رہے ہیں۔ اسد عمر نے کہا کہ ’تاحال عاصم باجوہ کو نہ تو کوئی معاوضہ مل رہا ہے اور نہ ہی وہ کوئی فیصلہ کر سکتے ہیں۔ تاہم امید ہے کہ جب سی پیک بِل پاس ہو جائے گا اور دوبارہ اتھارٹی دوبارہ بن جائے گی، تو کم از کم میری تو چوائس عاصم باجوہ ہی ہو گا۔
یاد رہے کہ سی پیک اتھارٹی کو جس صدارتی آرڈیننس کے تحت قانونی تحفظ حاصل تھا وہ ختم ہو چکا ہے اور تکنیکی طور پر یہ اتھارٹی ختم ہو چکی ہے۔ اگرچہ انتظامی لحاظ سے اب بھی عاصم باجوہ چیئرمین سی پیک اتھارٹی ہیں لیکن قانوناً یہ ادارہ اب کسی قانونی مینڈیٹ کے بغیر کام کر رہا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس طرح کی اتھارٹیاں اصولی طور پر پارلیمانی قانون سازی کے ذریعے قائم کی جاتی ہیں اور اتھارٹیز کے قیام کیلئے انتظامی ہدایت نامے جاری نہیں کیے جاتے جیسا کہ ماضی میں سی پیک اتھارٹی بناتے وقت کیا گیا تھا۔ اسے ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے بنایا گیا تھا جو ختم ہو چکا ہے اور دوبارہ سے اسکے لیے کوئی ارڈئنینس جاری نہیں کیا گیا جو اس کو نئی ذندگی دے سکے۔
یاد رہے کہ اپوزیشن جماعتیں پچھلے کئی ماہ سے عاصم باجوہ کے خلاف نیب تحقیقات شروع کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ مریم نواز نے تو یہ مطالبہ کردیا ہے کہ عاصم باجوہ سے بطور چیئرمین سی پیک اتھارٹی بھی استعفی لیا جائے کیونکہ بیرون ملک اربوں کے اثاثے رکھنے کے الزام کے بعد سی پیک جیسے اہم قومی ادارے کی ساکھ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اس سے پہلے عاصم باجوہ کو صدارتی آرڈیننس کا قانونی طریقہ اختیار کرتے ہوئے چیئرمین سی پیک اتھارٹی لگایا گیا تھا جس کی معیاد ختم ہو چکی ہے اور کوئی ایسا قانون موجود نہیں جو سی پیک اتھارٹی کے قیام کو تحفظ دے سکے۔ ایک سینئر سرکاری ذریعے کا کہنا تھا کہ باجوہ کو چیئرمین سی پیک لگانے کیلئے جو قانونی آلہ استعمال کیا گیا وہ اب ختم ہو چکا ہے جس کی وجہ سے ان کا تقرر جائز نہیں اور وہ کام جاری نہیں رکھ سکتے۔ حال ہی میں سی پیک اتھارٹی سے تعلق رکھنے والے ایک سینئر سرکاری عہدیدار کو اس وقت شرمندہ بھی ہونا پڑا اور پچھلی نشست پر بیٹھنا پڑا جب سی پیک اتھارٹی آرڈیننس کی معیاد مکمل ہونے کے بعد سی پیک پر پارلیمانی کمیٹی کے کچھ ارکان نے اجلاس اور مشاورت میں ان کی شرکت پر اعتراض کر دیا تھا۔
دوسری طرف حکومت کی طرف سے ابھی تک ایسی کوئی وضاحت جاری نہیں کی گئی کہ سی پیک اتھارٹی کا قانون لانے میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے۔ گزشتہ ماہ حکومت نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران ایف اے ٹی ایف سے جڑے کچھ قانون منظور کیے لیکن سی پیک اتھارٹی کو قانونی تحفظ دینے کیلئے کسی قانون سازی سے گریز کیا۔ ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ پارلیمنٹ میں مطالبہ سامنے آ رہا ہے کہ 21؍ رکنی غیر جانبدارانہ سی پیک کمیٹی تشکیل دی جائے جس میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ارکان شامل ہوں اور اس کا کام سی پیک اتھارٹی کے کاموں کی نگرانی کرنا ہو۔ یہ واضع نہیں کہ اس معاملے پر حکومت کی سوچ کیا ہے اور آیا اتھارٹی پلاننگ ڈویژن کے ماتحت ہوگی یا اسے ایک آزاد ادارہ بنا کر وزیراعظم کو جوابدہ بنایا جائے گا۔ تاہم حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ عاصم سلیم باجوہ کو بطور چیئرمین سی پیک اتھارٹی بھی ان کے عہدے سے فارغ کردیا جائے۔
یاد رہے اس سے قبل ستمبر میں لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ نے وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات کے عہدے سے استعفی دے دیا تھا جس کو وزیرِ اعظم نے قبول نہیں کیا تھا۔ لیکن پھر 12 اکتوبر کو لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم باجوہ نے دوبارہ اس عہدے سے استعفی دیا جس کو قبول کر لیا گیا تھا۔ جبکہ پاک چین اقتصادی راہداری اتھارٹی کے چییرمین کے طور پر انھوں نے کام جاری رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ عاصم باجوہ کا یہ فیصلہ صحافی احمد نورانی کی اگست میں شائع ہونے والی رپورٹ میں ان پر مبینہ طور پر دنیا بھر میں مختلف اثاثوں کے بارے میں تفصیلات ظاہر نہ کرنے کے الزامات کے بعد سامنے آیا۔ جس پر عاصم باجوہ نے وضاحت دیتے ہوئے ان الزامات کی تفصیلی تردید بھی کی۔
اس بارے میں وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا ہے کہ ’ہماری سیاست میں ایسا کوئی شخص نہیں بچا جس پر الزامات نہ لگے ہوں۔ ان پر لگائے گئے الزامات کا تعلق سی پیک سے نہیں ہے۔ انھوں نے تمام تر الزامات کے جواب دیے ہیں۔ میں اس میں نہیں جانا چاہوں گا کہ یہ الزامات صحیح ہیں یا نہیں، لیکن عاصم باجوہ نے ان کے جواب دیے ہیں۔ اسد عمر نے کہا کہ میں یہ وضاحت بھی کر دوں کہ سی پیک کا کام نہیں رکا ہے۔ سی پیک کے کام کی ذمہ داری میرے پاس تھی، ہے اور رہے گی۔ سی پیک اتھارٹی ہو یا نہ ہو کام چل رہا ہے اور اس میں پہلے سے اور تیزی آئی ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’سی پیک آرڈیننس کی مدت ختم ہو گئی تھی۔ اور ایک نئے بِل پر اتفاق نہیں ہو سکا۔ لیکن ایک ترمیمی مسودے پر اب بھی بحث جاری ہے۔ میری سمجھ یہ ہے کہ اگلی بریفنگ تک قائمہ کمیٹی اس بِل کو ترامیم کرنے کے بعد پاس کر دے گی۔ جس کے بعد وہ اسمبلی میں ووٹ کرنے کے لیے لایا جائے گا۔‘ سی پیک اتھارٹی ٹیم کے بارے میں انھوں نے کہا کہ ’یہ وزارتِ منصوبہ بندی کا پراجیکٹ ہے جس کے تحت سی پیک کی ٹیم بنی تھی۔ وہ ہی ٹیم کام کر رہی ہے۔ تو اس ٹیم کی فنڈنگ وزارت برائے منصوبہ بندی سے آتی ہے اس کا سی پیک سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ سی پیک اتھارٹی ہو یا نہ ہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ یہ ٹیم پہلے سے اپنی جگہ موجود ہے۔‘
یاد رہے کہ تحریکِ انصاف کی حکومت کے آتے ہی سی پیک اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس کے ذریعے سی پیک کے منصوبوں کی تکمیل کو معینہ مدت میں یقینی بنایا جا سکے۔ اس اتھارٹی کا بنیادی کام فیسلیٹیشن، کوآرڈینیشن اور مانیٹرنگ ہے۔ واضح رہے کہ چین کے ساتھ پاکستان نے سی پیک معاہدہ مسلم لیگ نواز کی گزشتہ دورِ حکومت میں کیا تھا۔ مگر سی پیک اتھارٹی جیسے ادارے کو ان معاہدوں کی نگرانی نہیں دی گئی تھی۔
