کیا حکومت فوج کی انکوائری رپورٹ بھی ماننے کو تیار نہیں؟

مزار قائد کراچی واقعے کے بارے میں فوجی انکوائری رپورٹ کی بنیاد پر آئی ایس آئی اور رینجرز کے چار سینئر افسران کی فراغت اور سندھ پولیس کی جانب سے کیپٹن صفدر کے خلاف درج ایف آئی آر جھوٹی قرار دیے جانے کے باوجود وفاقی حکومت میں نہ مانوں کی رٹ لگائے ہوئے ایک بار پھر یہ معاملہ لے کر عدالت پہنچ گئی ہے۔
کپتان حکومت کے اس اقدام کو محض سیاسی پوائنٹ سکورنگ اور اپنی خفت مٹانے کے لئے کھسیانی بلی کی طرح کھمبا نوچے کے مصداق قرار دیا جا رہا ہے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ہدایت کے پر گزشتہ مہینے کراچی میں لیگی قیادت کی جانب سے مزار قائد کی بیحرمتی کے واقعے کے حوالے سے انکوائری مکمل ہو چکی ہے جسے حکومت اور بلاول بھٹو کی جانب سے سراہا گیا اور ن لیگ کے قائد نواز شریف نے مسترد کر دیا۔
کراچی پولیس اس مقدمےکو جھوٹا قرار دے چکی ہے کیونکہ کہ مدعی وقاص اس واقعے کے دوران جائے وقوعہ پر موجود نہیں تھا تاہم تحریک انصاف کی وفاقی حکومت محض پوائنٹ سکورنگ کے لئے اس معاملے پر قانونی جنگ لڑنے کا ذہن بنا چکی ہے۔وفاقی حکومت نے سندھ پولیس کی جانب سے مزار قائد کے تقدس کی خلاف ورزی پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف ایف آئی آر کو جعلی قرار دینے پر کراچی کی مقامی عدالت سے رجوع کرلیا ہے۔وفاقی حکومت نے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کے ذریعے مزار قائد منیجمنٹ بورڈ کے ایک افسر غلام اکبر میمن کی جانب سے عدالت میں درخواست جمع کرادی۔ خیال رہے کہ 9 نومبر کو سندھ پولیس نے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف مزار قائد کے تقدس کی پامالی کے مقدمے کو ‘جھوٹا’ قرار دے دیا تھا۔سٹی کورٹ میں مقدمے کی سماعت کے دوران پولیس نے استغاثہ کے پیش کردہ اعتراضات کو دور کرکے حتمی چالان جمع کروایا جس میں مقدمے کو ‘بی کلاس’ قرار دیا گیا اور چالان میں مزار قائد کے تقدس، اس کے املاک کو نقصان پہنچانے اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کے الزامات خارج کردیے گئے۔
وفاقی حکومت کی مذکورہ درخواست میں عدالت سے تفتیشی افسر کو ملزم کے خلاف میڈیا اور سوشل میڈیا سے شواہد اکٹھے کرنے کی ہدایت دینے کی استدعا کی گئی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ یہ معاملہ پاکستان کے بانی کے مزار کے تقدس کی خلاف ورزی اور شرعی معاملہ ہے۔وفاقی لا افسر محمد احمد نے دلائل دیے کہ بانی پاکستان کے مزار کے تقدس کو پامال کرنا شرعی طور پر گناہ ہے اور یہ سیاسی مسئلہ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ متعلقہ مجسٹریٹ تعزیرات پاکستان کے سیکشن 173 کے تحت دائر رپورٹ پر جرم کو دیکھ سکتا ہے لیکن قابل ضمانت جرم کے ارتکاب کا حتمی فیصلہ تفتیش کے دوران اکٹھے کیے گئے شواہد سے کیا جاتا ہے۔وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ واقعے کی ویڈیو مقامی اور بین الاقوامی میڈیا میں وائرل ہوچکی تھی جو ریاست کے لیے قابل اعتراض تھا۔انہوں نے کہا کہ درخواست گزار وقاص خان کے موبائل فون کی سی ڈی آر رپورٹ یہ واضح کرنے کے لیے کافی نہیں کہ وہ واقعے کے وقت وہاں موجود نہیں تھا، جبکہ قانون کے مطابق کوئی بھی فرد شکایت کا اندراج کروا سکتا ہے اور مقامی پولیس کو اس بارے میں آگاہ کرسکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ قانون شہادت 1984 کے آرٹیکل 164 کے تحت شواہد موجود تھے، اس طرح کے مقدمات میں جدید ڈیوائسز کے شواہد کو عدالت ثبوت کے طور پر پیش کرنے کی اجازت دے سکتی ہے اور یہ ثبوت جدید ڈیوائسز یا ٹیکنالوجی کی دستیابی سے ممکن ہیں۔وفاقی اٹارنی نے مزید کہا کہ مذکورہ آرڈیننس کے آرٹیکل 227 کی شقیں قرآن پاک اور سنت سے متعلق ہیں اور شریعت اور قرآن و حدیث میں ایک قبر کی حرمت کو واضح کردیا گیا ہے۔انہوں نے عدالت سے استدعا کرتے ہوئے کہا کہ تعزیرات پاکستان کے تحت تفتیش بلاتاخیر مکمل کی جائے اور عدالت تفتیشی افسر کو نامزد ملزمان کے خلاف چارج شیٹ پیش کرنے کی ہدایت جاری کرے۔ انہوں نے عدالت سے معاملے کا میرٹ پر فیصلہ کرنے کی بھی درخواست کی۔
یاد رہے کہ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز اور دیگر رہنما 18 اکتوبر کو اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے جلسے میں شرکت کے لیے کراچی پہنچے تھے۔ مریم نواز نے اپنے ایک ٹویٹ میں بتایا تھا کہ پولیس نے کراچی کے اس ہوٹل کے کمرے کا دروازہ توڑا جہاں میں ٹھہری ہوئی تھی اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کو گرفتار کرلیا۔پولیس کی جانب سے یہ گرفتاری بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے مزار کے تقدس کو پامال کرنے کے الزام میں مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز، ان کے شوہر کیپٹن (ر) محمد صفدر اور دیگر 200 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے بعد سامنے آئی تھی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایف آئی آر خارج ہونے اور کور کمانڈر کراچی کی رپورٹ کی روشنی میں چار فوجی افسران کی سبکدوشی کی وجہ سے تحریک انصاف کو سبکی کا سامنا کرنا پڑا ہے اس لئے اپنی خفت مٹانے کے لئے تحریک انصاف ہر ممکن حد تک اس معاملے کو اچھال رہی ہے تاکہ سیاسی مقاصد حاصل کئے جائیں لیکن اس چکر میں مزید رسوائی حکومت کے گلے پڑ سکتی ہے۔
