خواجہ سعد رفیق سیاسی طور پرغیر متحرک کیوں ہو گئے؟

سابق وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے اپنایا جانے والا سخت ترین اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ اب نون لیگ کے کچھ صلح پسند رہنماوں کے لیے پریشانی کا سبب بن رہا ہے لہذا انہوں نے پارٹی کے اندر یا باہر کوئی پوزیشن لینے کی بجائے پہلی سٹیج پر خود کو مکمل طور پر غیر متحرک کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور دوسری سٹیج پر وہ سیاست چھوڑنے کا فیصلہ بھی کر سکتے ہیں۔
نواز شریف کے سخت ترین اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانییے سے اختلاف کرنے والے مسلم لیگی رہنماؤں کی سوچ شہباز شریف کی پالیسی سے مطابقت رکھتی ہے جو اپنے تمام سیاسی کیریئر کے دوران اسٹیبلشمنٹ کے کندھے کے ساتھ کندھا ملا کر چلے ہیں۔ تاہم نواز شریف کے بیانیے کو درست سمجھنے والے مسلم لیگی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اگر شہباز شریف اپنے زندگی بھر کے پرو اسٹیبلشمنٹ بیانیے کے باوجود آج جیل میں ہیں تو پھر تو ہم نواز شریف کا بیانیہ ہی درست مانیں گے۔ یاد رہے کہ شہباز شریف اور ان کے بڑے صاحبزادے حمزہ شہباز اس وقت نیب کی حراست میں ہیں اور کرپشن کے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ نواز شریف نے وزارت عظمیٰ سے نااہلی اور پھر کوئی پارٹی عہدہ رکھنے پر بھی پابندی لگ جانے کے بعد شہباز شریف کو نون لیگ کا صدر بنوا دیا تھا اور تب سے شہباز اپنی مرضی کی سیاست کر رہے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ نے ان کو اس شرط پر اقتدار میں لانے کا وعدہ کیا تھا کہ وہ نواز شریف کا سیاسی بیانیہ لیکر نہیں چلیں گے۔ تاہم اپنی تمام تر سعادت مندانہ سیاست کے باوجود آج شہباز شریف جیل میں ہیں۔ نواز لیگ کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ اب شہباز شریف بھی جیل میں بیٹھ کر نواز شریف کے اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیے کی پذیرائی کرتے نظر آتے ہیں۔
تاہم دوسری طرف نواز لیگ سے تعلق رکھنے والے کچھ رہنما ایسے بھی ہیں جنہوں نے نیب کی حراست میں وقت گزارنے کے بعد اب یہ نتیجہ نکالا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیے کی سیاست کا انجام بالاخر جیل ہے۔ پندرہ مہینے بلاوجہ نیب کی حراست میں رہنے والے مسلم لیگی رہنما خواجہ سعد رفیق کے بارے میں اب اب سیاسی حلقوں میں یہ افواہیں ہیں کہ انہوں نے نواز شریف کے اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیے سے دوری اختیار کر تے ہوئے خود کو سیاسی طور پر غیر متحرک کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ روزنامہ جنگ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق لاہور کے ایک سینئر مسلم لیگی رہنما نے اپنا نام افشا نہ کرنے کی شرط پر یہ کہا ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے بارے میں نواز شریف کی حالیہ پوزیشن ’’بلوئنگ ہاٹ اینڈ کولڈ‘‘ جیسی ہے، کیونکہ پی انہوں نے صرف چند ماہ قبل ہی پارٹی کے قانون سازوں کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے لئے ووٹ دینے کو۔کہا تھا اور اب وہ باقاعدہ آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف کا نام لے کر ان پر الزامات کی بوچھاڑ کئے چلے جارہے ہیں۔
لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی اس حالیہ پوزیشن پر پارٹی میں بے چینی پائی جاتی ہے خاص طور پر ان کے ان تقاریر کے حوالے سے جن میں میاں صاحب نے دو سینئر فوجی افسران کو 2018 کے الیکشن میں مبینہ دھاندلی کا ذمہ دار قرار دیا اور عمران خان کو وزیراعظم بنوانے کا الزام عائد کیا تھا۔ لاہور سے پی ایم ایل این رہنما نے کہا کہ بہت سے بااثر پارٹی رہنما حالیہ اینٹی سٹیبلشمنٹ بیانیہ سے مکمل اتفاق نہیں کرتے اور وہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی گجرانوالہ ریلی کے دوران موجودہ فوجی قیادت کے بارے میں نواز شریف کی تقریر سن کر ’’صدمہ کی حالت‘‘ میں ہیں۔
ذرائع کے مطابق لاہور سے تعلق رکھنے والے یہ لیگی رہنما جنہوں نے اپنا نام لینے کی اجازت نہیں دی گئی، دراصل خواجہ سعد رفیق ہی ہو سکتے ہیں۔ روزنامہ جنگ کے مطابق میاں نوازشریف کی فوجی قیادت کا نام لے کر تنقید کرنے کی پالیسی کے بارے میں لاہور کے مسلم لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ میاں صاحب کا عمل متضاد ہے۔ کچھ عرصہ پہلے وہ ہم سے کہتے ہیں کہ آپ لوگ پارلیمنٹ میں آرمی چیف کی توسیع کے حق میں ووٹ دو۔ اور اب ہم سے کہا جارہا ہے کہ ہم ان کے بارے میں معاندانہ اور غیر مصالحتی موقف اختیار کریں۔انہوں نے کہا کہ ان حالات میں اب پارٹی کی دوسرے درجے کی قیادت کے لئے یہ فیصلہ کرنا بہت مشکل ہے کہ وہ میاں صاحب کا ساتھ دیں یا قومی مفاد کو ذہن میں رکھ کر سیاست کریں۔
لاہور سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ ویسے بھی میاں صاحب نے اپنی پارٹی کے رہنماؤں کو یہ اختیار دے دیا ہے اگر وہ ان کے اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ کو لے کر نہیں چل سکتے تو وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں اور اگر مسلم لیگ نون کو بھی چھوڑنا چاہیں تو چھوڑ سکتے ہیں۔ نون لیگ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ سوچ خواجہ سعد رفیق کے علاوہ اور کسی کی نہیں ہوسکتی جو کہ شہباز شریف کے پرو اسٹیبلشمنٹ بیانیے سے مکمل طور پر اتفاق کرتے ہیں ہاں جی یہ بیانیہ بھی مکمل طور پر پٹ چکا ہے اور اب خود شہباز شریف بھی اس سے اتفاق نہیں کرتے۔ لیگی ذرائع کا کہنا ہے کہ سمجھ نہیں آتی کہ پندرہ ماہ کی قید کاٹنے اور اپنا بزنس تباہ کر لینے کے بعد بھی خواجہ سعد رفیق جیسے کہنہ مشق سیاستدان وہ پٹا ہوا بیانیہ لے کر چلنا چاہتے ہیں جس کا انجام شہباز شریف نے خود اپنی گرفتاری کی صورت میں دیکھ لیا ہے۔ تاہم خواجہ سعد رفیق کے قریبی ذرائع اس بات کی تصدیق کرنے کو تیار نہیں کے روزنامہ جنگ میں شائع ہونے والے گفتگو انہوں نے کی ہے۔
یاد رہے کہ پندرہ ماہ کی قید کاٹنے کے بعد سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق کی ضمانت کے حوالے سے جو تفصیلی فیصلہ جاری کیا تھا اس میں قومی احتساب بیورو یعنی نیب کو آڑے ہاتھوں لیا گیا تھا۔ سعد رفیق اور ان کے بھائی کو دسمبر 2018 میں نیب نے پیراگون ہاؤسنگ سکینڈل میں اپنی تحویل میں لیا تھا جس کے بعد رواں برس 17 مارچ کو سپریم کورٹ کے جج جسٹس مقبول باقر کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انکی ضمانت منظور کی تھی۔ ضمانت دیتے وقت جسٹس مقبول باقر نے ریمارکس میں کہا تھا کہ ’یا تو نیب خراب ہے یا اہلیت کا فقدان ہے، دونوں ہی صورتحال میں معاملہ انتہائی سنگین ہے۔ جسٹس مقبول باقر نے فیصلے کے آغاز میں ہی انگریز فلسفی اور سیاسی اکانومسٹ جان سٹورٹ مل کا یہ قول لکھا ہے: ‘ایک ریاست جو اپنے عوام کو چھوٹا کر کے دکھائے تاکہ وہ اسکے ہاتھوں میں آلہ کار بنے رہیں، یہ جان لے گی کہ چھوٹے آدمیوں سے کوئی بڑا کام نہیں لیا جا سکتا۔’ سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حکومت نیب کو حزب ِ اختلاف کے خلاف ایک آلۂ کار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔
