کیا اسٹیبلشمنٹ واقعی شہباز شریف کی پشت پر کھڑی ہے؟


نیب کی جانب سے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی حالیہ گرفتاری کی ناکام کوشش نے پاکستانی سیاست کے ٹھہرے ہوئے پانی میں ایک تلاطم برپا کر دیا ہے۔ ان کی گرفتاری کی خواہش کرنے والی شخصیت دراصل یہ جاننا چاہتی تھی کہ لندن پلٹ شہباز کی پشت پر آیا واقعی کوئی طاقت کھڑی ہے یا نہیں۔ شہباز کی ضمانت اور نیب کی ناکامی سے فوری تاثر تو یہی ملا ہے کہ وہ اکیلے نہیں ہیں اور ان کے ساتھ بھی کچھ طاقتیں ضرور کھڑی ہیں بھلے وہ نظر نہ آئیں۔
سینئر صحافی اور تجزیہ نگار سہیل وڑائچ کے مطابق شہباز شریف کے وارنٹ گرفتاری سے پہلے سیاست ٹھہرے پانی کی طرح تھی، کسی جوار بھاٹے کا امکان تک نہیں تھا مگر وارنٹ گرفتاری نے سیاست کے ٹھہرے پانی میں پتھر ماردیا ہے، اب لازماً شہباز شریف اور ن لیگی بھی متحرک ہوں گے۔ تحریک انصاف حکومت بظاہر بہت مضبوط ہے، سبب ایک ہیں لیکن پھر بھی تحریک انصاف قیادت نے سیاست کے ٹھہرے پانی میں پتھر پھینک کر کوشش کی ہے کہ شہباز شریف کا اصلی وزن چیک کیا جائے۔ بظاہر تحریک انصاف کی سیاسی چال کارگر ثابت ہو سکتی ہے اور شہباز کے پیچھے کھڑے ہونے والے غائب ہو سکتے ہیں لیکن اگر کم امکان رکھنے والا واقعہ ہو گیا یعنی شہباز شریف کو غیب سے مدد آ گئی تو پھر وہ واقعی متبادل کے طور پر سامنے آ جائیں گے یوں یہ چال مہنگی بھی پڑ سکتی ہے، پھر تاریخ میں یہ کہا جائے گا کہ جب سب ٹھیک چل رہا تھا تو پنگا کیوں لیا تھا؟
لیکن سوال یہ یے کہ آخر حکومت کو یہ چیک کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی کہ شہباز شریف کتنے پانی میں ہیں۔ بقول سہیل وڑائچ شہباز شریف لندن سے لوٹنے کے بعد ایک کونے میں بیٹھے دہی کیساتھ کلچہ کھا رہے تھے، نہ کوئی ہنگامہ، نہ کوئی جلسہ اورنہ جلوس۔ گھر میں بیٹھے لیپ ٹاپ کے ذریعے وہ کرونا کے اعداد و شمار دیکھتے اور کڑھتے تھے۔ نہ وہ پارلیمان کے اجلاس میں گئے، نہ پارٹی کو متحرک کیا، لہجہ دھیما رکھا، دبائو کے دنوں کو خاموشی سے گزارنے کا سوچا مگر اُن کے حریف اُن کی صلح پسندانہ خاموشی پر شک کا اظہار کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ لندن سے شہباز شریف کی واپسی کے پیچھے ضرورکوئی ڈیل ہے، کسی نے اشارہ دیا ہوگا، تبھی تو وہ واپس آئے ہیں۔
غرضیکہ جتنے منہ اُتنی باتیں۔ یہ بھی کہا جانے لگا کہ شہباز کو واپس ہی اِس لئے لایا گیا ہے کہ عمران پر سیاسی دبائو بڑھایا جائے اور انکا متبادل کھڑا کیا جائے۔ چنانچہ ان افواہوں کی صداقت جانچنے کا فیصلہ کیا گیا۔ کپتان دیکھنا چاہتے تھے کہ شہباز کتنے پانی میں ہیں؟ ان کی پشت پر واقعی کوئی کھڑا بھی ہے یا نہیں؟ کونے میں بیٹھے شہباز شریف کو گرفتار کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تو وہ بھی امتحان کیلئے تیار ہو بیٹھے۔
اُن کے حریف چاہتے تھے کہ عدالتی عبوری ضمانت سے پہلے ہی انکو گرفتار کر لیا جائے، لیکن شہباز شریف نے وقتی طور پر اپنے کارڈز اچھے کھیلے، اور 17جون تک عبوری ضمانت لے کر نہ صرف حریف کے پہلے وار سے بچ نکلے مگر یہ بھی ثابت کر دیا کہ وہ اکیلے نہیں اور ان کی پشت پر کچھ طاقتور لوگ ضرور کھڑے ہیں۔مگر انکو معلوم ہونا چاہیئے کہ یہ وار آخری نہیں تھا، شہباز شریف کو ابھی اور امتحانوں سے گزرنا ہوگا۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ شہباز شریف کی گرفتاری کے سیاسی مضمرات کا جائزہ لینا ہو تو ہمیں تین امکانات پر غور کرنا ہوگا۔ پہلا امکان یہ ہے کہ دوسرے حملے میں ان کی پشت پناہی کرنے والوں کو دبایا جائے، شہباز شریف کی ضمانت منسوخ کروائی جائے اور نیب اُنہیں گرفتار کر لے۔ اُنہیں مذید کوئی امداد نہ ملے اور وہ قید بھگتیں۔ اِس کا سیاسی مطلب یہ ہوگا کہ حکومت کو مستقبل قریب میں کوئی سیاسی خطرہ لاحق نہیں، شہباز شریف کے مفاہمانہ بیانیے سے ہوا نکل جائے گی، ن لیگ میں پھر سے جارحانہ بیانیے کو فروغ ملے گا۔
سہیل وڑائچ کے خیال میں مریم خاموش ہیں مگر سب کو علم ہے کہ جس دن وہ باہر نکلیں گی بڑے ہجوم اُن کا استقبال کریں گے۔ تحریک انصاف کے حکمت کار چاہیں گے کہ اُن کامقابلہ ن لیگ کے اِس جارحانہ بیانیے سے ہو جسے ریاست پسند نہیں کرتی تاکہ تحریک انصاف کیلئے ریاست کی حمایت جاری رہے۔ شہباز شریف اپنی پارٹی کو مفاہمانہ بیانیے کے ذریعے ریاست کیلئے قابلِ قبول بنوانا چاہتے ہیں۔ شہباز شریف کی ممکنہ گرفتاری اُن کے اسی مفاہمانہ سیاسی بیانیے کا امتحان ہو گی۔
سہیل وڑائچ کے مطابق دوسرا امکان یہ ہے کہ شہباز شریف کا برسوں کا ’’کھٹیا وٹیا‘‘ کام آ جائے، کوئی غیب سے اُن کی مدد کو آ جائے اور وہ گرفتاری سے بچ جائیں۔ اِس صورتحال کا اگرچہ امکان بہت کم ہے مگر اِسے سرے سے رد نہیں کیا جا سکتا۔ ایسا ہوا تو شہباز شریف کا بول بالا ہو جائے گا اور وہ سینہ تان کر کہہ سکیں گے کہ اب وہ ریاست کیلئے قابلِ قبول ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ تیسرا امکان یہ ہے کہ شہباز شریف گرفتار ہو جائیں اور اُن کے مہربان فی الحال مصلحت کے تحت خاموش رہیں۔ شہباز شریف کو امتحان سے گزرنے دیں، اُن کی مظلومیت کو پھیلنے دیں تاکہ کچھ عرصے بعد اُن کے اِس اثاثے کیلئے نرم گوشہ پیدا ہو جائے اور یوں یہ قید شہبازکیلئے اگلے اقتدار کا زینہ بن جائے۔
شہباز شریف چاہیں یا نہ چاہیں اُنہیں اِن تینوں میں سے ایک امکان کا سامنا کرنا پڑے گا، اب وہ کونے میں بیٹھ کر دہی کیساتھ کلچہ نہیں کھا سکتے بلکہ اُنہیں چوک میں آ کر اپنی خفیہ یا ظاہری سفارتکاری کو بروئے کار لانا ہی پڑے گا۔اپنے کارڈز دکھانا ہی پڑیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button