کیا افتخار چودھری نے عتیقہ اوڈھو کو مشرف سے دوستی کی سزا دی؟

پاکستان ڈرامہ و فلم انڈسٹری کی نامور اداکارہ عتیقہ اوڈھو کو بالآخر 9 برس کی عدالتی کارروائی کے بعد 2 بوتل شراب سمگل کرنے کے الزام سے باعزت بری کردیا گیا ہے۔ عتیقہ اوڈھو نے اپنی بریت کے بعد کہا ہے کہ اچھی بات یہ ہے کہ دیر سے ہی سہی لیکن مجھے انصاف مل گیا۔ میں پہلے دن سے بے قصور تھی۔ نہ میں نے زندگی میں کبھی شراب پی ہے اور نہ ہی اسمگل کی ہے لیکن سابق چیف جسٹس افتخار چودھری نے سوموٹو نوٹس لیتے ہوئے مجھ پر کیس بنوا کر دراصل پرویز مشرف کے خلاف اپنا غصہ نکالا کیونکہ میں ان کی جماعت سے وابستہ تھی۔
21 اگست 2020 کو راولپنڈی کی سول عدالت میں 52 سالہ اداکارہ عتیقہ اوڈھو کے خلاف شراب کیس کی سماعت ہوئی، دوران سماعت سول عدالت نے 9 سال 2 ماہ اور 14 روز بعد فیصلہ سناتے ہوئے عتیقہ اوڈھو کو 2 بوتل شراب کیس میں باعزت بری کردیا۔ عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ اداکارہ کے خلاف کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا لہذا اُنہیں بری کیا جاتا ہے۔ سول جج یاسر چوہدری نے میرٹ پر فیصلہ سنایا۔ یاد رہے کہ عتیقہ اوڈھو کے خلاف یہ کیس تب کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی جانب سے ایک سوموٹو نوٹس لینے کے بعد دائر کیا گیا تھا۔
90ء کی دہائی میں ڈرامہ نگری میں آنے والی خوبصورت عتیقہ اوڈھو آج بھی ڈرامہ سیریل ستارہ ور مہرالنساء کی وجہ سے پہچانی جاتی ہیں۔ انہوں نے اپنی فنی کیریئر میں دشت، نجات اور انگار وادی جیسے سپر ہٹ ڈراموں میں کام کیا۔ 2011ء میں نشر ہونے والا مقبول ترین ڈرامہ سیریل ’ہم سفر‘ میں عتیقہ اوڈھو کی شاندار اداکاری آج بھی لوگوں کے ذہنوں میں عکس ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے کئی فلموں میں بھی اپنے فن کے جوہر دکھائے ہیں۔ حال ہی میں عتیقہ نے ہم ٹی وی کے ڈرامے اس پیار کے صدقے میں منصورہ کا کردار نبھایا جسے بے حد سراہا گیا۔
پرویز مشرف کے دور میں آمر وقت کی قربت حاصل کرنے والی عتیقہ کا کہنا ہے کہ میری چھوٹی عمر میں شادی ہوئی لیکن شوہر دھوکے باز نکلا۔ اپنے گھر اور بچوں کے ٹوٹنے کے خوف سے میں نے بہت عرصہ اس شخص کے ساتھ گزارا کیا۔ تاہم چند سال قبل عتیقہ نے طلاق لیکر بزنس مین ثمر علی خان سے دوسری شادی کر لی اور خوش و خرم زندگی بسر کر رہی ہیں۔
واضح رہے کہ عتیقہ اوڈھو پر الزام تھا کہ اسلام آباد سے کراچی جاتے ہوئے ان کے بیگ سے شراب کی 2 بوتلیں برآمد ہوئی تھیں۔ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے سوموٹو نوٹس پر 7 جون 2011 کو اداکارہ کے خلاف تھانہ ایئرپورٹ پولیس نے مقدمہ درج کیا تھا، اس مقدمے میں 210 پیشیاں ہوئیں اور 16 جج تبدیل ہوئے۔ عتیقہ اوڈھو کا موقف تھا کہ ان پر کیس بنوا کر افتخار محمد چوہدری نے مشرف کے ساتھ اپنی رقابت کا غصہ نکالا۔ یاد رہے کہ تب عتیقہ پرویز مشرف کی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ کی نائب صدر تھیں اور 2008 میں مشرف کی اقتدار سے بے دخلی کے بعد بھی ان کے کافی قریب تھیں۔
شراب اسمگلنگ کیس کی تفصیل کے مطابق ایئرپورٹ پر کسٹم حکام نے بوتلیں قبضے میں لینے کے بعد ادکارہ کو جہاز میں سوار ہونے کی اجازت دے دی تھی۔ کسٹمز حکام کا کہنا تھا کہ اس واقعہ پر عتیقہ اوڈھو نے اہلکاروں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیں۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ نے اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے پنجاب پولیس کے سربراہ، ڈائریکٹر جنرل ائرپورٹ سیکورٹی فورسز اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین کو نوٹس جاری کیے تھے۔ اس معاملے سے متعلق پنجاب پولیس کے سربراہ کے علاوہ اے ایس ایف کے سربراہ نے بھی عدالت میں جواب جمع کروایا تھا اور اداکارہ کو قصور وار قرار دیا تھا۔
اس زمانے میں مشرف کی آل پاکستان مسلم لیگ کے ترجمان فواد چوہدری نے کہا تھا کہ عتیقہ اوڈھو کے مطابق اُنہیں سیاسی وابستگی کی بنا پر اس مقدمے میں ملوث کیا گیا۔اُنہوں نے کہا کہ عتیقہ اوڈھو کے بقول اُنہوں نے نہ تو کبھی شراب نوشی کی اور نہ ہی وہ شراب کی بوتلیں لے کر جارہی تھیں۔ فواد نے کہا کہ عتیقہ نے اس واقعے کے بعد اپنے عہدے سے استعفی دے دیا ہے تاہم پارٹی نے اُن کا استعفی قبول نہیں کیا۔ آل پاکستان مسلم لیگ کے ترجمان نے سپریم کورٹ کی طرف سے اس واقعہ کا از خودنوٹس لینے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ چیف جسٹس کی نظر میں عوامی اہمیت کا مطلب تبدیل ہوگیا ہے۔
عتیقہ اوڈھو نے عدالت کی جانب سے اپنی بریت کا فیصلہ آنے کے بعد بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ دیر سے ہی سہی لیکن اچھی بات یہ ہے کہ مجھے انصاف مل گیا۔
