کیا الطاف حسین کے بغیر MQM خاتمے کی طرف گامزن ہے؟


ایک وقت تھا جب کراچی میں الطاف حسین کا جلسہ ہوتا تو شہر کا شہر سنسان ہوجایا کرتا تھا۔ قربانی کی کھالیں تک ایم کیو ایم کی خدمتِ خلق فاؤنڈیشن کو ہی دی جاتی تھیں۔ سفید شلوار قمیض اور واسکٹ پہنے الطاف حسین اور ان کی جماعت متحدہ قومی موومنٹ پاکستان میں اردو بولنے والے مہاجرین کے دلوں کی آواز بن چکے تھے۔ لیکن پھر قائد تحریک کا اپنی ہی خالق پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ سے پنگا پڑ گیا۔ اسٹیبلشمنٹ نے اپنا ڈنڈا گھمایا تو کراچی میں الطاف حسین کا رعب و دبدہہ قصہ پارینہ بن گیا۔ آج ملک کی تیسری سب سے بڑی جماعت ہونے کا اعزاز رکھنے والی ایم کیو ایم کا وجود اب اس شہر میں بھی خطرے میں پڑ چکا ہے جو کبھی اس کا حقیقی گڑھ کہلاتا تھا۔ لیکن اس کے باوجود متحدہ قومی موومنٹ کسی نہ کسی طرح اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہے اور ایم کیو ایم کے چاہنے والے آج بھی امید کرتے ہیں کہ کسی طرح ایم کیو ایم دوبارہ وہی سیاسی مقام حاصل کر لے جو کبھی ماضی میں تھا۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ الطاف حسین کے بعد اب متحدہ قومی موومنٹ میں کوئی ایک بھی ایسا لیڈر موجود نہیں جس پر اردو بولنے والی مہاجر قوم کا اتفاق ہو اور ایسا بھی کوئی امکان نظر نہیں آتا کہ پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ الطاف حسین کو معافی دے کر دوبارہ سے اپنی جماعت کی قیادت سنبھالنے کا موقع دے۔
الطاف حسین اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان معاملات تو مشرف کے فارغ ہونے کے بعد سے ہی خراب ہونا شروع ہوگئے تھے لیکن قائد تحریک کے تابوت میں آخری کیل آج سے چار برس پہلے ان کی ایک تقریر کے بعد ٹھونکنے کا فیصلہ کیا گیا جس میں انہوں نے ریڈ لائن کراس کی اور افواج پاکستان کے سیاسی کردار پر کھل کر تنقید کی۔ اس تقریر کے الفاظ تو عدالتی حکم کی وجہ سے شائع نہیں کیے جا سکتے تاہم اس تقریر کے بعد ہی یہ تاثر پیدا ہوا کہ اب ملک کے سیاسی منظر نامے میں الطاف حسین اور اُن کی ایم کیو ایم کی فی الحال کوئی جگہ نہیں رہی۔ اس تقریر کے بعد نہ صرف ریاست کی جانب سے الطاف حسین کی تقاریر نشر و شائع کرنے پر پابندی عائد کردی گئی بلکہ خود اُن کی اُس ایم کیو ایم کے بھی ٹکڑے ہو گئے جو کسی زمانے میں ملک کی تیسری بڑی سیاسی جماعت ہوتی تھی اور 1988 کے بعد پاکستان کے وفاق میں قائم ہونے والی کسی بھی حکومت کا اس کی حمایت کے بغیر قائم ہو جانا یا وجود برقرار رکھنا ناممکن سمجھا جاتا تھا۔
یعنی الطاف حسین اور ایم کیو ایم کو جس اسٹیبلشمنٹ نے بنایا اور عروج عطا کیا، اس پر لعن طعن نے انھیں زوال سے دوچار کر دیا۔ لیکن سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ الطاف حسین کے اس عروج و زوال میں بڑا حصہ انکی ذاتی انا اور آمرانہ طرزِ سیاست کا بھی ہے۔ ایم کیو ایم اس وقت دو حصوں میں تقسیم ہوچکی ہے جس میں سے ایک حصے کی قیادت آج بھی الطاف حسین لندن سے کررہے ہیں جبکہ دوسرے دھڑے کو خالد مقبول صدیقی کراچی میں چلا رہے ہیں۔ الطاف حسین کے بار بار متنازعہ بیانات دینے پر پاکستانی حکومت ان کی تقاریر نشر کرنے پر پابندی عائد کرچکی ہے۔ اس کے علاوہ لندن میں بھی ان پر کئی مقدمات چل رہے ہیں جس کی وجہ سے عوام کا بھروسہ قائدِ تحریک سے ختم ہوچکا ہے۔
ایم کیو ایم کے دوسرے دھڑے کی نمائندگی خالد مقبول صدیقی کررہے ہیں جو کبھی متحدہ قومی موومنٹ کا ہی حصہ تھے۔ دوسرے دھڑے میں شامل سیاسی کارکنان وہ ہیں جو خود کو الطاف حسین سے الگ کر چکے ہیں لیکن نظریاتی طور پر متحدہ قومی موومنٹ کو آج بھی درست سمجھتے ہیں۔ اس وقت خالد مقبول صدیقی کی ایم کیو ایم، حکومت سے بہت زیادہ اختلافات ہونے کے باوجود عمران خان کی وفاقی حکومت کا حصہ ہے۔ عوام میں مقبولیت کھونے کے باوجود اگرچہ ایم کیو ایم نے اپنی سیاسی جماعت کو قائم رکھا ہوا ہے لیکن الطاف حسین سے علیحدہ ہونے کے بعد کوئی دوسرا عومی لیڈر نہ ہونے کے سبب اس سیاسی جماعت کا مستقبل آج ایک سوالیہ نشان ہے۔ دوسری جانب بڑی سیاسی جماعتوں کی کراچی کے حوالے سے لاپروائی برتنے کے باعث مہاجر عوام اب بھی اپنے حقوق کی جنگ لڑنے کے لئے متحدہ قومی موومنٹ کو طاقتور دیکھنا چاہتے ہیں۔ یوں بھی نظریاتی سیاست ملک میں روشن خیالی اور برداشت کو فروغ دیتی ہے اور سیاست کرنا شہریوں کا حق ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایم کیو ایم اپنے مستقبل کے حوالے سے سنجیدہ ہے تو کم سے کم کراچی میں تو اس کے لئے ابھی بھی سیاسی میدان خالی ہے۔ لیکن اس کے لئے ایم کیو ایم کے رہنماؤں کو ان تمام سرگرمیوں سے دوری اختیار کرنی ہوگی جن کی وجہ سے ماضی میں ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی گئی جس میں بھتہ خوری، موبائل چھیننا، دکانیں بند کروانا اور آئے دن ہڑتالیں کروا کر شہریوں میں دہشت پھیلانا شامل ہیں۔ سیاست اگر ذاتی کے بجائے عوامی مفاد میں کی جائے تو کچھ بعید نہیں کہ ایم کیو ایم اپنی کھوئی ہوئی مقبولیت دوبارہ حاصل کر لے۔ لہکن فی الحال ایم کیو ایم کو ایسے لیڈر کی ضرورت ہے جس پر مہاجر قوم کا اتفاق اور اعتماد ہو اور جو ایم کیو ایم کی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button