کیا انڈرورلڈ ڈاؤن داؤدابراھیم کرونا کے ہاتھوں مارا گیا؟

انڈرورلڈ ڈان داؤد ابراہیم کی کرونا وائرس کا شکار ہو کر جان کی بازی ہارنے کی متضاد اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ بھارتی میڈیا پر داؤد ابراہیم کی کرونا وائرس کیوجہ سے ہلاکت کا دعویٰ کیا جا رہا ہے تاہم داؤد ابراہیم کے بھائی اور اس کی کمپنی کے مینجنگ ڈائریکٹر انیس ابراہیم نے کہا ہے کہ داؤد اور ان کی اہلیہ کی جبیں کرونا کا شکار نہیں ہوئیں اور وہ دونوں خیریت سے ہیں۔
بھارتی میڈیا پر خبریں زیر گردش ہیں کہ داؤد ابراہم اور ان کی اہلیہ ماہ جبیں کرونا وائرس کا شکار ہو کر ایک ہمسایہ ملک کے ملٹری ہسپتال میں زیر علاج تھے تاہم داؤد ابراہیم جانبر نہیں ہو سکے اور کرونا وائرس کی وجہ سے موت کا شکار ہو گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق داؤد کے پرسنل سٹاف اور سیکیورٹی گارڈز کو بھی قرنطینہ کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب داؤد ابراہیم کے بھائی انیس ابراہیم نے بھارتی میڈیا کی خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا بھائی داؤد ابراہم اورخاندان کے تمام افراد پوری طرح سے صحت مند ہیں۔ نہ تو وہ کرونا وائرس کا شکار ہوئے ہیں اور نہ ہی وہ کسی فوجی ہسپتال میں زیع علاج ہیں۔ داؤد ابراہیم صحت مند ہیں اور گھر پر ہی قیام پذیر ہیں تاہم انھوں نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ داؤد ابراہیم اس وقت کس ملک میں قیام پذیر ہیں۔
دنیا کے مطلوب ترین افراد کی فہرست میں شامل انڈرولڈ ڈاؤن داؤدابراھیم ایک پراسرار کردار ہے جسکا عمومی تاثر ایکشن فلموں کے کسی کردار جیسا ہے جو نہ صرف آس پاس موجود ہے بلکہ متحرک اور فعال بھی ہے لیکن جنہیں وہ مطلوب ہے وہ نہ تو پچھلی دو دہائیوں سے اسے ڈھونڈ پائے ہیں اور نہ ہی دیکھ پائے ہیں۔ داؤد ابراہیم ایک چھلاوے کا نام ہے۔ جنہیں وہ دکھائی دیتا ہے انہیں وہ پکڑائی نہیں دیتا اور جنہیں اس کے ٹھکانے کاعلم ہے انہیں اس بارے لب کشائی کی اجازت نہیں۔ دنیا داود ابراہیم کو ایک ڈان، ایک سمگلر ، منشیات فروش، اسلحہ ڈیلر اور جہادیوں کو فنڈنگ کرنے والے کے طورپر جانتی ہے۔ داود کا پورا نام داود ابراہیم کاسکر ہے’ دسمبر 1955 ٔ میں انڈیا کے شہر ممبئی کے ایک پولیس کانسٹیبل ابراہیم کاسکر کے ہاں پیدا ہوا۔ اس کی فیملی چھ افراد پر مشتمل ہے ۔جن میں اس کی شریک حیات زبینہ زریں ، بیٹا معین ابراہیم ، بیٹیاں مہ رخ ابراہیم، مہرین ابراہیم اور ماریہ ابراہیم شامل ہیں۔ یاد رہے کہ داؤد ابراہیم کی بڑی بیٹی مہ رخ پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان جاوید میانداد کی بیٹے جنید میانداد کی اہلیہ ہے اور دونوں دبئی میں مقیم ہیں۔ جنید میانداد کی مہ رخ سے ملاقات لندن میں دوران تعلیم ہوئی تھی۔ داود ابراہیم جرائم کی دنیا کا بے تاج بادشاہ ہے جس نے ایک عرصہ سے مختلف حکومتوں’ خصوصا بھارت کو’ تگنی کا ناچ نچا رکھا ہے۔ انٹرپول کی 2008 کی فہرست کے مطابق داود کا نام دنیا کے دس مطلوب ترین دہشت گردوں کی فہرست میں چوتھے نمبر پر ہے جب کہ دنیا کے سب سے زیادہ طاقتور افراد کی لسٹ میں وہ 57 ویں نمبر پر ہے۔ وہ دنیا کے مختلف ممالک کا سفر کرتا ہے لیکن اپنی شناخت چھپانے کے لیے اس نے 13 مختلف ناموں سے پاسپورٹ بنوا رکھے ہیں۔
داود ابراہیم کی کہانی دلچسپ بھی ہے اور عجیب بھی۔ ممبئی کے جنوبی علاقے کا رہائشی داود ابراہیم تعلیم ادھوری چھوڑ کر جرائم کے راستے کا مسافر اور ایک معمولی بھتہ خور سے جرائم کی دنیا کا بے تاج شہنشاہ کیسے بن گیا؟ یہ وہ داستان ہے جسے ہر کوئی سننے کا خواہش مند ہے ۔
ایک زمانے میں بھارت کے انڈر ورلڈ کے اہم ناموں میں تیلی محلہ کا باشو دادا، کھنڈا محلہ کا حسو مہاراج اور سدھی محلہ کا کریم سدھی شامل تھے۔کریم اپنے حلیے اور ڈیل ڈول کے حساب سے یوگنڈا کے عیدی امین سے مشابہت رکھتا تھا اور فوجی وردی پہن کر کارروائیاں ڈالتا تھا۔ لوگ بھی اسے عیدی امین ہی کے نام سے پکارتے تھے۔جب تک کریم سدھی زندہ رہا کسی کو اس کے علاقے میں پر مارنے کی جرات نہ ہوئی وہ اپنے علاقے کا بے تاج بادشاہ تصورہوتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ داود ابراہیم کا استاد خالد پہلوان تھا ۔جو سونے کی سمگلنگ کا کام کرتا تھا جس سے اس نے پیسہ اور نام کمایا۔ لیکن چونکہ سونے کی نسبت ہیروں کی اسمگلنگ آسان تھی کیونکہ سونے کی ہوائی اڈوں پر سخت چیکنگ ہوتی تھی جبکہ لاکھوں روپے مالیت کے ہیرے محض جیبوںِ انڈرویئرز یا دوسرے سامان میں چھپا کر ل جائے جاسکتے تھے۔ سو اس کی توجہ ہیروں کی سمگلنگ پر ذیادہ رہی ۔یہ ہیرے 200 فیصد منافع کے ساتھ احمد آباد اور سورت کی ڈائمنڈ مارکیٹوںمیں بآسانی فروذخت کیے جاسکتے تھے۔ اسی خالد پہلوان کی شاگردی نے داود ابراہیم کو ممبئی کا اندر ورلڈ ڈان بننے میں مدد دی ۔اسی دور میں انڈرورلڈ گینگسٹر امیر زادہ پٹھان سے اس کا رابطہ ہوا اور اس نے جرائم کا راستہ اختیار کیا۔ وہ بھتہ وصولی کے ساتھ ساتھ منشیات کادھندہ بھی کرتا تھا اور رفتہ رفتہ اس میدان میں آگے بڑھتا چلا گیا۔ اس دوران وہ اپنے مخالفین کو راستے سے ہٹانا رہا ۔اس دوران اسکا مقابلہ امیرزادہ پٹھان اور اس کے بھائی عالم زیب پٹھان سے ہوگیا جنہوں نے داود ابراہیم کے بڑے بھائی صابر کو قتل کردیا ۔چنانچہ اس نے بھی جوابی وار کرتے ہوئے ان دونوں بھائیوں کو ٹھکانے لگادیا جس پر اسے ممبئی پولیس نے گرفتار کرلیا۔ تاہم ضمانت پر رہائی پا کر وہ دبئی فرار ہوگیا جہاں اس نے سونے کی سمگلنگ شروع کردی اور اس کے ساتھ بالی وڈ کی فلمی صنعت میں بھی سرمایہ کاری کرنےلگا۔ اس نے کئی بالی ووڈ فلمیں بھی بنائیں اوراس شعبہ میں بھی اثر و رسوخ حاصل کرلیا ۔1980 اور 1990کے عشرے کے دوران وہ انڈر ورلڈ کا سرغنہ بن گیا اور اربوں ڈالر کے اثاثوں کامالک بن گیا۔
داود ابراہیم کا نام پوری دنیا میں اس وقت گونجا جب 1993 میں ممبئی میں بم دھماکے ہوئےجس کے نتیجے میں 260 کے قریب لوگ لقمہ اجل بنے اور 700 کے لگ بھگ زخمی ہوئے۔ اگرچہ ان دھماکوں کے موقع پر وہ دبئی میں تھا لیکن ایجنسیوں نے اس پر اور اس کیے بھائی انیس ابراہیم پر ان دھماکوں کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام عائد کردیا اور اسے مفرور قراردے دیا۔انڈین پولیس کی طرف سے یہ بھی کہاگیاکہ ممبئی دھماکے بابری مسجد مسمار کرنے اور 1992 میں گجرات میں ہونے والے مسلم کش فسادت کے جواب میں کرائے گئے جن میں سینکڑوں مسلمان شہید ہوئے تھے۔ ان فسادات کا الزام ہندو انتہا پسند تنظیم شیو سینا پر عائد ہوا تھا۔ انڈین پولیس نے یہ الزام بھی لگایا کہ داود ابراہیم کے القاعدہ اورلشکر طیبہ کے ساتھ بھی روابط ہیں۔ اس موقع پر بھارت کی جانب سے یہ پراپیگنڈا شروع کردیا گیا کہ داود ابراہیم کو پاکستانی اداروں نے کراچی میں پناہ دے دی ہے اور پاکستان سے اس کی واپسی کا مطالبہ بھی داغ دیا گیا۔ تاہم پاکستان کی وزارت خارجہ نے اس کی یکسر تردید کرتے ہوئے اسے محض الزام قراردیا اور واضح کیا کہ داود ابراہیم پاکستان میں ہرگز نہیں ہے۔امریکہ نے داود ابراہیم کے خلاف منی لانڈرنگ کے کیس میں اسے ملزم قراردیا اور الزام لگایا کہ اس کا عالمی دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے ساتھ گہرا تعلق ہے اور اسے امریکی عدالت اور ایف بی آئی کی تحقیقاتی رپورٹس کی روشنی میں دہشت گرد قرار دے دیا اور اس کے دنیا بھر میں اثاثوں کو منجمد کردیا۔ امریکہ نے داود ابراہیم کی ڈی کمپنی کے بارے میں الزام لگایا کہ یہ سیاستدانوں کوقتل کرنے ، کرکٹ میچ فکس کرنے مینڈرکس کی سمگلنگ سمیت بہت سے جرائم میں ملوث ہے ۔امریکہ نے مذید الزام لگایاکہ داود ابراہیم کے اسامہ بن لادن کے ساتھ بھی تعلقات ہیں ۔امریکی ایجنسیوں کے مطابق داود ابراہیم نے 1990 میں افغانستان کا دورہ کیا تھا اور طالبان رہنماوں سے ملاقاتیں کی تھیں۔ مزید برآں داود ابراہیم امریکی صحافی ڈینئل پرل کے قتل میں امریکہ کو مطلوب ہے کیوں کہ امریکی ایجنسیوں کے مطابق داود ابراہیم کا قریبی ساتھی کراچی کا معروف تاجرمسعود میمن کالعدم رشیدٹرسٹ کی مالی اعانت کرتا تھااور یہ مسعود میمن وہی تھا جو ڈینئل پرل کو دھوکے ک ساتھ ایک فلیٹ پر لے کر گیا جہاں پر اس کا سر قلم کردیا گیا تھا جس کے بعد مسعود میمن منظر سے غائب ہوگیا اور بعد میں کراچی کے ایک ہسپتال می انتقال کر گیا۔
2008 میں ممبئی میں ہونے والے حملوں میں بھی داود ابراہیم کو ملوث کیاجاتا ہے اور بھارت کی طرف سے یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ حملہ کرنے والے دہشت گردوں کی فنڈنگ میں داؤد ابراہیم شامل تھا۔ یہ بھی کہا جاتاہے کہ بھارت ، پاکستان، بنگلہ دیش، دبئی اور سری لنکا میں بااثر ترین حکومتی شخصیات داود ابراہیم کے قریبی دوستوں میں شامل ہیں۔بھارتی خفیہ ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ داود ابراہیم کی کراچی اور دوبئی میں رہائش گاہیں ہیں۔چند ماہ قبل اس کی موت کی خبریں میڈیا پر آئیں تو اس کےساتھی چھوٹا شکیل نے ان کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ محض افواہیں ہیں اور داود بھائی زندہ ہیں ۔
تازہ ترین رپورٹس کے مطابق داود ابراہیم ان دنوں سخت بیمار ہے اور ڈاکٹروں کی نگہداشت میں ہے ۔اسے دو بار ہارٹ اٹیک بھی ہوچکاہے وہ اب چاہتا ہے کہ زندگی کے آخری سانس وہ اپنی جنم بھومی ہندوستان میں لے اور اپنے آبائی علاقے میں اس کی تدفین کی جائے۔ دوسری طرف مودی حکومت کا دعویٰ ہے کہ داود ابراہیم بہت جلد گرفتار کرلیا جائے گا ۔ انڈیا نے اس کے سر کی قیمت 25 ملین ڈالرمقرر کررکھی ہے لیکن ان تمام تر دعووں ، جدید ٹیکنالوجی اور مواصلاتی وسائل ہونے کے باوجود داود ابراہیم کو پکڑنا تو درکنار اس کی موجودگی تک کا سراغ نہیں لگایا جا سکا۔ اس وقت وہ کہاں ہے؟ یہی وہ معمہ ہے جسے بھارت ،امریکہ اور برطانیہ کی حکومتیں اور ایجنسیاں ابھی تاحل حال نہیں کرسکیں ۔
